- فتوی نمبر: 32-306
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
لاہو ر ہائیکوٹ کا وراثت کے پچیدہ تنازعے کا قرآن حکیم کے طے کردہ اصولوں پر تاریخی فیصلہ۔۔۔عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ایک ماں کے بطن سے پید ا ہونے والے بچے باپ الگ ہونے کے باوجود حقیقی بھائی ہیں ۔۔۔غیر شادی شدہ بہن کی وفات پر بھائی تمام وراثت کا حق دار ہوگا ۔۔بھائی کے ہوتے ہوئے چچا یا اس کے جانشین وراثت کے حق دار نہیں ہیں ۔۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری *** نے فیصلہ غیر شادی شدہ مسلم خاتون کی وراثت کے لئے دائر درخواستوں پر جاری کیا۔ یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ متوفیہ کا کوئی حقیقی بھائی بہن نہیں ہے اور متوفیہ کے والد اور والدہ ان سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔
کیا مذکورہ فیصلہ شرعی لحاظ سے درست ہے؟
تنقیح :زید کے پانچ بیٹے تھے:
1۔خالد ،2۔بکر ،3۔عمر ،4۔واجد ،5۔رضوان
خالد کی بیوی زینب تھی ان دونوں کی ایک بیٹی پیدا ہوئی فاطمہ ۔
خالد کے انتقال کے بعد اس کی بیوی زینب نے بکر( خالد کے بھائی )سے شادی کرلی۔ان سے ایک بیٹا ضیاء پیدا ہوا اس کے بعد زینب انتقال کر گئی اور پھر فاطمہ بھی بغیر شادی کیے انتقال کر گئی فاطمہ کی جائیداد تھی جس کے بارے میں ضیاء اور بکر کی پہلی بیوی کلثوم سے تین بچے عادل،عبداللہ اور عبدالرحمٰن کے درمیان تنارع تھا،اس تنازع میں عدالت نے ضیاء کے حق میں کل جائیداد کے وارث ہونے کا فیصلہ دیا اور یہ کہا کہ بھائی کے ہوتے ہوئے چچا یا اس کے جانشین وراثت کے حق دار نہیں ہونگے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ فیصلہ شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم میں واضح طور پر اخیافی(ماں شریک) بہن بھائی کا حصہ سدس(چھٹا،6/1) لکھا ہوا ہے لہذا اخیافی بھائی کو اخیافی بہن کی مکمل وراثت کا حق دار بنانا درست نہیں اور چچا یا ان کے جانشین جوکہ عصبہ کہلاتے ہیں ان کو بھی علی الاطلاق صرف اخیافی بھائی کی موجودگی کی وجہ سے محروم کرنا شرعا درست نہیں ہے۔
معزز جج صاحب سے شق نمبر :9میں سنگین غلطی ہوئی ہے چنانچہ وہ اپنے فیصلہ (شق نمبر:9) میں لکھتے ہیں :
Furthermore, the petitioner/Manzoor is real uterine brother of deceased Mst. Nooran and it is settled law that when a real brother of a deceased issueless spinster lady is alive, he is entitled to inherit the entire estate of the deceased and the paternal uncle or his successors are not entitled to inherit any share.
ترجمہ :مزید یہ کہ مدعی/منظور متوفیہ نورن کا حقیقی اخیافی بھائی ہے اور یہ طے شدہ قانون ہے کہ جب متوفیہ غیر شادی شدہ عورت ،جس کی کوئی اولاد نہ ہو کا حقیقی بھائی زندہ ہو تو وہ اس خاتون کی تمام وراثت کا حق دار ہوگا اور چچا یا اس کے جانشین کسی بھی حصہ کے وراثت میں حق دار نہیں ہونگے۔‘‘
جب کہ سورۃ النساء میں اخیافی بھائی بہن کا حصہ سدس لکھا ہوا ہے،مزید یہ کہ معزز جج صاحب نے فیصلہ میں (شق نمبر8کے تحت ص:9میں) سورۃ النساء کی آخری آیتوں کا حوالہ دیا ہے اور اس کو خط کشید کیا وہ اس بھائی سے متعلق ہے جو علاتی ( باپ شریک ہو)یا حقیقی (ماں باپ شریک ) ہو۔
نوٹ:حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اخیافی بھائی بہن کے حصے کا جس آیت (سورۃ النساء کی آیت نمبر:12)میں حوالہ ہے مذکورہ فیصلہ میں اس سے پہلی آیتوں (7سے11)تک کے ترجمہ کو تو ذکر کردیا لیکن اس کے بعد والی (آیت نمبر:12) کے ترجمہ کو ذکر نہیں کیا اور اس کے بعد سیدھا سورۃ النساءکی آخری آیتوں کو ذکر کردیا جہاں علاتی(باپ شریک) یا حقیقی(ماں باپ شریک) بھائی کے حصہ کا ذکر ہے اور اسی سے استدلال کرتے ہوئے اس کو خط کشید کردیا ۔
چنانچہ سورۃ النساء ،آیت نمبر :12 میں ہے:
وان کان رجل یورث کلالة او امراة وله اخ أو أخت فلكل واحد منهما السدس
اور اگر وہ مرد کہ جس کی میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا یا عورت ہو ایسی ہی اور اس میت کے ایک بھائی ہے یا بہن ہے تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے۔
تفسیر جلالین(1/89 ط:رحمانیہ)میں ہے:
«{وإن كان رجل يورث} صفة والخبر {كلالة} أي لا والد له ولا ولد {أو امرأة} تورث كلالة {وله} أي للمورث كلالة {أخ أو أخت} أي من أم وقرأ به بن مسعود وغيره {فلكل واحد منهما السدس} مما ترك {فإن كانوا} أي الإخوة والأخوات من الأم {أكثر من ذلك} أي من واحد {فهم شركاء في الثلث} يستوي فيه ذكرهم وأنثاهم {من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار} حال من ضمير يوصى أي غير مدخل الضرر على الورثة بأن يوصي بأكثر من الثلث {وصية} مصدر مؤكد ليوصيكم {من الله والله عليم} بما دبره لخلقه من الفرائض {حليم} بتأخير العقوبة عمن خالفه وخصت السنة توريث من ذكر بمن ليس فيه مانع من قتل أو اختلاف دين أو رق»
تفسير جلالين(1/ 116ط:رحمانیہ)میں ہے:
{يستفتونك} في الكلالة {قل الله يفتيكم في الكلالة إن امرؤ} مرفوع بفعل يفسره {هلك} مات {ليس له ولد} أي ولا والد وهو الكلالة {وله أخت} من أبوين أو أب {فلها نصف ما ترك وهو} أي الأخ كذلك {يرثها} جميع ما تركت {إن لم يكن لها ولد} فإن كان لها ولد ذكر فلا شيء له أو أنثى فله ما فضل من نصيبها ولو كانت الأخت أو الأخ من أم ففرضه السدس كما تقدم أول السورة {فإن كانتا} أي الأختان {اثنتين} أي فصاعدا لأنها نزلت في جابر وقد مات عن أخوات {فلها الثلثان مما ترك} الأخ {وإن كانوا} أي الورثة {إخوة رجالا ونساء فللذكر} منهم {مثل حظ الأنثيين يبين الله لكم} شرائع دينكم ل {أن} لا {تضلوا والله بكل شيء عليم} ومنه الميراث روى الشيخان عن البراء أنها آخر آية نزلت أي من الفرائض
شامى(10/563)میں ہے:
(ويسقط بنو الأخياف) وهم الإخوة والأخوات لأم (بالولد وولد الابن) وإن سفل (وبالأب والجد) بالإجماع لأنهم من قبيل الكلالة كما بسطه السيد
(قوله: لأنهم من قبيل الكلالة) علة لسقوطهم بمن ذكر بيانه أن قوله تعالى {وإن كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت} [النساء: 12] الآية المراد به أولاد الأم إجماعا ويدل عليه قراءة أبي وله أخ أو أخت من الأم وقد اشترط في إرث الكلالة عدم الولد والوالد إجماعا فلا إرث لأولاد الأم مع هؤلاء
بخاری شریف(4/2959ط:البشری،حدیث نمبر:6732)میں ہے:
حدثنا موسى بن إسماعيل: حدثنا وهيب: حدثنا ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس رضي الله عنهما،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبیﷺ نے فرمایا کہ مقررہ حصے ان کے حق داروں( یعنی اصحاب فروض) کو دو اور جو باقی بچے وہ (میت کے) قریب ترین مرد کو دو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved