• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مختلف کمپنیوں کی کمائی کا حکم

استفتاء

1۔گراس ٹیسٹنیٹ (Grass testnet)،گرئیڈنٹ (Gradient)،نوڈ پے (Nodepay)،بلاک میش (Blockmesh)،اوسیس  اے ائی(Oasis Ai)ان پانچ ایپلی کیشنز سے کمائی  کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

2۔بائنینس (Binance) ایپ میں اپنی رقم کو ڈالرز میں تبدیل کر کے مختلف کوائنز یعنی کرپٹو کرنسیز  خریدی جاتی ہیں اور ان کوائنز کا ریٹ بڑھنے پر ان کو فروخت کر دیا جاتا ہے اس صورت میں ملنے والا منافع جائز ہے یا نہیں؟

تنقیح:ان  پانچ ایپلی کیشنز میں یہ کام ہوتا ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر اپنا اکاؤنٹ اوپن رکھتا ہے جس کی وجہ سے اس کو کوئنز ملتے ہیں اور یہی کوئنز آئندہ جا کر کرپٹو کرنسی میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس کو فروخت کر کے کمائی کی جاتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔گراس ٹیسٹنیٹ (Grass testnet)،گرئیڈنٹ (Gradient)،نوڈ پے (Nodepay)،بلاک میش (Blockmesh )،اوسیس  اے ائی(Oasis Ai)ان پانچ ایپلی کیشن سے کمائی کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ ان ایپلی کیشنز میں اکاؤنٹ بنا کر ان کو آن رکھا جاتا ہے جن  کے ذریعے  کرپٹو کرنسی کی ترویج کی جاتی ہے چونکہ کرپٹوکرنسی  شرعی لحاظ سے مال نہیں ہے اس لیے مذکورہ ایپلی کیشنز کو استعمال کر کے کرپٹو کرنسی  کی ترویج کرنا اور ترویج کرکے  کمائی کرنا بھی ناجائز ہے ۔

نیز صرف مذکورہ ایپلی کیشنز کھولنا قابل اجارہ عمل نہیں ہے لہذا اس لحاظ سے بھی ان کے ذریعے  کمائی  کرنا ناجائز ہے۔

2۔انٹرنیٹ پر موجود بائنینس (Binance) ایپ سے متعلق حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس ایپ میں کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ ہوتی ہے اور ہماری معلومات  کے مطابق کرپٹو کرنسی کی خرید وفروخت جائز نہیں لہذا اس پر ملنے والا منافع بھی جائز نہیں ہے۔

نوٹ: کسی کرنسی کے معتبر ہونے کے لیے موجودہ دور میں ضروری ہے کہ یا  تو وہ فطری (Natural) ہو جیسے سونا، چاندی یا کسی حکومت نے اسے جاری کیا ہو اور اس کی مالیت کی ذمہ داری قبول کی ہو جبکہ کرپٹو کرنسی میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔ ہاں اگر کوئی حکومت اس کو باضابطہ قبول کرلے تو پھر اس کا حکم مختلف ہوسکتا ہے۔

فتاوی شامی(4/307) میں ہے :

“‌والأجرة ‌إنما ‌تكون ‌في ‌مقابلة ‌العمل”.

رد المحتار(9/4) میں ہے:

“هي لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية.”

كفایت المفتی(8/43)میں ہے:

سلم فی الفلوس روایات فقہیہ کی رو سے جائز ہے۔فلوس کا سدہ میں تو کوئی شبہ ہی نہیں ۔البتہ نافقہ میں بوجہ بقائے ثمنیت و قصد ثمنیت شبہ ہے۔فقہاء کی دلیل  لان الثمنیة تثبت فی حقهما باصطلاهما  فتبطل بابطالهمامخدوش ہے۔ ممکن ہے کہ فقہائے کرام کے زمانے میں ایسا ہی ہو، لیکن موجودہ زمانے میں مقدمہ اولی کی صحت غیر مسلم ہے بلکہ الثمنية تثبت بقانون الحکومة ولا ترفع الا بقانون الحکومة۔ اس لیے جواز سلم فی الفلوس النافقہ کا فتوی دینا مشکل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved