- فتوی نمبر: 32-331
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
بیٹے کی وجہ سے لڑائی جھگڑا ہوا، بیٹا پہلے مجھے گالی دیتا تھا اب میری مری (فوت شدہ) ماں کو گالی دی، میں برداشت نہ کرسکی تو میں نے کہا کہ اسے تین سال سے منع نہیں کیا جس وجہ سے میں نے ان کو واپس گالی دی جس وجہ سے انہوں (میرے شوہر) نے میرے خیال سے کہا کہ “میں تین مرتبہ طلاق دیتا ہوں”۔ اب ہم اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔ آپ فتویٰ لگادیں۔
شوہر کا بیان:
میں نے پہلے ایک مرتبہ کہا کہ” میں نے تمہیں طلاق دی” پھر تقریباً ایک ہفتہ بعد دوبارہ جھگڑا ہوا تو میں نے کہا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی” تیسری مرتبہ پھر اس نے مجھے گالی دی تو میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ “میں تمہیں تیسری بھی دیتا ہوں” لیکن تیسری مرتبہ طلاق کا لفظ نہیں بولا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی کے بیان کے مطابق بیوی کے حق میں تو تین طلاقیں ہو ہی گئی ہیں باقی شوہر کے بیان کے مطابق شوہر کے حق میں بھی تین طلاقیں ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے عورت اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں اور نہ ہی شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں بیوی کے بیان کے مطابق شوہر نے کہا کہ “میں تین مرتبہ طلاق دیتا ہوں” اور بیوی کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے یعنی اس نے جو سنا ہے اس پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے لہٰذا بیوی کے حق میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور مذکورہ صورت میں شوہر کے بیان میں مذکور ان الفاظ سے کہ ” میں نے تمہیں طلاق دی” ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی پھر تقریباً ایک ہفتہ بعد دوبارہ جھگڑے کے دوران ان الفاظ سے کہ “میں نے تمہیں طلاق دی “الصريح يلحق الصريح“کے تحت دوسری طلاق بھی واقع ہوگئی پھر تیسری مرتبہ شوہر کے ان الفاظ سے کہ” تیسری بھی دیتا ہوں” تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی کیونکہ اگرچہ مذکورہ الفاظ میں تیسری کا معدود/ موصوف مذکور نہیں تاہم سیاق وسباق (حالت غضب اور مذاکرہ طلاق کے پیش نظر اس کا معدود / موصوف طلاق ہے گویا شوہر نے یوں کہا کہ “تیسری طلاق بھی دیتا ہوں” لہٰذا مذکورہ صورت میں شوہر کے بیان کے مطابق تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔
الدر المختار مع ردالمحتار (3/293) میں ہے:
فروع: كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء
ہندیہ (1/473) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
فتاویٰ قاضیخان علی ہامش الہندیہ (1/ 464) میں ہے:
رجل قال لامرأته: ترايكي أو قال: تراسه، قال الصدر الشهيد رحمه ﷲ تعالى :طلقت ثلاثاً ولو قال: تويكي أو قال :توسه، قال أبو القاسم رحمهﷲتعالى: لا يقع الطلاق ،قال مولانا رضي ﷲ تعالى عنه: وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل :إن كان ذلك في حال مذكرة الطلاق أو في حالة الغضب يقع الطلاق وإن لم يكن لا يقع إلا بالنیة كما لو قال بالعربية: أنت واحدة”.
فتاویٰ تاتارخانیہ(4/418) میں ہے:
وإذا قال لامرأته: تو يكي تو سه، أو قال: ترا يكي ترا سه، قال الشيخ الامام ابو القاسم الصفار البلخي رحمه الله: لا يقع، قال الصدر الشهيد: المختار عندي أنه إذا نوى يقع الطلاق، وفي الحجة: ترا سه، المختار أن تقع الثلاث إذا نوى. وفي الظهيرية: وقال غير أبي القاسم: ينبغي أن يكون الجواب على التفصيل: إن كان في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع وإلا فلا يقع إلا بالنية،
امداد الاحکام (2/602) میں ہے:
”(سوال): ایک شخص نے حالت تنارع میں اپنی بیوی سے کہا کہ ’’میں تجھ کو کل کو طلاق تکیہ ملن کھڑے کرکے دونگا‘‘ اس نے جواب میں سب وشتم کے کہا کہ ’’تو ابھی طلاق دیدے‘‘ شوہر نے پھر جواب میں کہا کہ ’’ایک، دو، تین‘‘ اور بعد اس کے کہا کہ ’’جا، گھر چلی جا‘‘ اور بعد میں لوگوں نے شوہر کو ملامت وغیرہ کی کہ تم نے کیوں طلاق دی؟ تو اس نے کہا کہ میں نے دل سے طلاقیں نہیں کہیں بلکہ خوف اور ڈرانے کے واسطے کہی ہیں۔ آیا ایسی صورت میں طلاقیں واقع ہوگئیں یا نہیں؟ حوالہ کتب مع عبارت ارسال فرمائیں، عنایت ہوگی۔ بینوا، جزاکم اللہ رب الجلیل۔
الجواب: صورت مسئولہ میں اس شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔ قال في الخلاصة [2/98]:”وفي الفتاوى رجل قال لامرأته ترا يكي وترا سه او قال تو يكي تو سه قال أبو القاسم الصفار رحمه الله لا يقع شيئ وقال الصدر الشهيد رحمه الله يقع إذا نوى قال وبه يفتى“ قال القاضی [1/464على هامش الهندية]: وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل ان كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع الطلاق وان لم يكن لا يقع إلا بالنية كما لو قال بالعربية: أنت واحدة.اهـ… قلت: وقد وجدت المذاکرة فی الصورة المسئول عنها والله أعلم.“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved