- فتوی نمبر: 32-341
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > اخلاق و آداب
استفتاء
مجھے معلوم کرنا ہے کہ کیا جھنڈے کی تعظیم کرنا جائز ہے؟ اس کے احترام میں کھڑے ہونا اور جھنڈے کی تعظیم میں سر جھکانا جائز ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: جھنڈے کی تعظیم سے کیا مراد ہے؟ جھنڈے کی تعظیم میں کب کھڑے ہوتے ہیں؟ اور کب سر جھکاتے ہیں؟ کیونکہ مروجہ جھنڈے کی سلامی میں تو ایسا نہیں کیا جاتا۔
جواب وضاحت: تعظیم سے مراد جھنڈا نیچے نہ گرے اور اگر گر جائے تو اس کو اٹھا کر چوما جائے۔اور جب ہمارا قومی ترانہ بجايا جائے تو جھنڈے کے سامنے ہونے پر اس کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہوں اور ترانے کے آخری الفاظ میں جھنڈے کے سامنے سر جھکایا جائے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر کوئی شخص جھنڈے کی تعظیم کرنے کو اور اسی طرح اسکے احترام میں کھڑے ہونے کو اور جھنڈے کی تعظیم میں سر جھکانے کو علماً یا عملاً لازم اور ضروری سمجھے تو مذکورہ تمام امور ناجائز ہیں اور اگر علماً وعملاً دونوں طرح لازم اور ضروری نہ سمجھے تو جائز ہے بشرطیکہ کوئی اور قباحت ساتھ نہ ہو۔
امداد السائلین(1/196) میں ہے:
سوال:قومی ترانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اگر ترانہ ساز کی دھنوں پر گایا جارہا ہو تو تب اور اگر کوئی شخص اپنی زبان سے گا رہا ہو تب،دونوں صورتوں میں قومی ترانے کے لیے مؤدب کھڑے ہونا کیسا ہے؟
جواب:قومی ترانہ اگر ساز کے ساتھ نہ پڑھا جائے تو اس کا پڑھنا اور سننا دونوں جائز ہے،اور ساز کے ساتھ پڑھنا اور سننا دونوں ناجائز ہیں۔جب ترانہ بغیر ساز کے گایا جارہا ہو تو اس کے لیے کھڑے ہونے کی اس شرط کے ساتھ گنجائش ہےکہ اس کھڑے ہونے کو نہ تو ثواب سمجھے اور نہ شرعا ضروری سمجھا جائے اور جو شخص کھڑا نہ ہو اس پر نکیر نہ کی جائے جیسے کسی فعل واجب کے ترک پر کی جاتی ہے اگر ان میں سے ایک شرط بھی فوت ہو گئی تو یہ کھڑا ہونا بدعت اور ناجائز ہو گا۔
براہین قاطعہ(ص:17) میں ہے:
بہرحال اس التزام سے عوام کو ضروری ہونا شیرینی کا اس محفل میں عقیدہ ہوگیا ہے اور یہ مسئلہ کہ مباح کا ایسا التزام کہ عوام کو موجب تاکد کا ہو جاوے مکروہ ہوتا ہے۔
براہین قاطعہ(ص:64) میں ہے:
پہلے معلوم ہوچکا کہ دوام اور التزام اصرار میں فرق ہے جو بدعت ہے وہ التزام بمعنیٰ اصرار ہے اور جو مستحب ہے وہ دوام بلا التزام ہے۔
براہین قاطعہ(ص:117) میں ہے:
تخصیص خواہ اعتقادوعلم میں ہو خواہ عمل میں دونوں ناجائز ہوویں گی سو یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ تخصیص فعلی اگر منصوص مطلق میں واقع ہووے گی بدعت ہے اور داخل نہی ہے علیٰ ہذا مطلق کرنا مقید کا عام ہے کہ علما ہو یا عملا ہو دونوں منہی عنہ ہیں ۔
اصلاح الرسوم(ص:135، مکتبہ رحمانیہ) میں ہے:
قاعدہ اول:کسی امر غیر ضروری کو اپنے عقیدہ میں ضروری اور موکد سمجھ لینا یا عمل میں اس کی پابندی اصرار کے ساتھ اس طرح کرنا کہ فرائض وواجبات کی مثل یا زیادہ اس کا اہتمام ہو اور اس کے ترک کو مذموم اور تارک کو قابل ملامت وشناعت جانتا ہو یہ دونوں امر ممنوع ہیں……….
قاعدہ دوم:فعل مباح بلکہ مستحب بھی کبھی امر غیر مشروع کے مل جانے سے غیر مشروع و ممنوع ہوجاتا ہے…………اگر خواص کے کسی غیر ضروری فعل سے عوام کے عقیدہ میں خرابی پیدا ہو تو وہ فعل خواص کے حق میں بھی مکروہ ہوجاتا ہے،خواص کو چاہیے کہ وہ فعل ترک کردیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved