- فتوی نمبر: 32-358
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
زید کا انتقال ہوا۔ زید کے حصے میں 100 مرلے زمین رہ گئی ہے۔ زید کے تین بھائی اور پانچ بہنیں تھیں۔ اب ایک بھائی زندہ ہے جس کا نام خالد ہے اور ایک بہن زندہ ہے دو بھائی اور چار بہنیں زید سے پہلے فوت ہوگئی ہیں ۔ ایک بھائی کے بڑے بیٹے کا نام واجد دوسرے بھائی کے بیٹے کا نام عمر ہے اور تیسرے بھائی کی اولاد نہیں ہے لیکن خود زندہ ہے اور بہن کی اولاد میں ایک کا نام ضیاءدوسری بہن کی اولاد میں بکر اور تین بہنوں کی اولاد نہیں ہے۔ اب ان فوت شدہ بہن بھائیوں کی اولاد کے حصے میں زمین آئے گی ؟ اب 100 مرلے زمین کس طرح ان افراد میں تقسیم ہو گی ؟
وضاحت مطلوب ہے:1 سائل کون ہے؟ 2۔مرحوم کے والدین کے حیات ہیں یا فوت ہو چکے ہیں؟اگر فوت ہو چکے ہیں تو مرحوم سے پہلے فوت ہوئے یا بعد میں؟3مرحوم کی بیوی حیات ہے؟ یا فوت ہو چکی ہے اگر فوت ہو چکی ہے تو کب؟اور مرحوم کی اولاد کتنی ہے؟
جواب وضاحت:1۔سائل بھانجا ہے۔2۔مرحوم کے والدین مرحوم سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔3۔ مرحوم کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد کیونکہ مرحوم کی شادی نہیں ہوئی تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم زید کے 100 مرلے زمین کے 3 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 2 حصے (66.66 فیصد) مرحوم کے زندہ بھائی (خالد ) کو اور 1 حصہ (33.33 فیصد) زندہ بہن کو ملے گا۔
مرحوم کے بھتیجے اور بھانجے کو مرحوم کے ترکہ (زمین) میں سے کچھ نہیں ملے گا۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
3
| بھائی | بہن | 2بھتیجے | 2بھانجے |
| عصبہ | محروم | ||
| 2 | 1 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved