- فتوی نمبر: 32-371
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کٹے ہوئے ناخن اور بال کے بارے میں فقہ کی کتابوں میں دفن کرنے کے حوالے سے جو عبارت ذکر ہے:
فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفنه فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء
یہ عبارت شامی اور دوسری کتابوں میں ذکر ہے لیکن فتاویٰ تاتارخانیہ اور بحر الرائق میں “ینبغی” کی جگہ یجب کا لفظ ذکر ہے، پھر اگر ینبغی کا لفظ مستحب کے معنیٰ میں لیا جائے تو دوسری جگہ حضورﷺ نے امر کا صیغہ استعمال کیا ہے “أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كان يأمر بدفن الشعر، والأظفار“[المعجم الکبیر للطبرانی] پھر اس کا کیا جواب ہوگا؟
اگر ینبغی کی جگہ جو لفظ یجب ذکر ہے اگر اس کو لے لیں تو آخر میں ذکر ہے “وان رمى به فلا بأس ” تو پھر اس کا کیا مطلب ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کٹے ہوئے ناخن اور بالوں کو دفن کرنا مستحب ہے، واجب نہیں اس لیے جن کتابوں میں ينبغى کا لفظ ہے وہی صحیح ہے اور جن کتابوں میں یجب کا لفظ ہے وہ صحیح نہیں بظاہر یہ لفظ یحب (بالحاء) تھا جس کا قرینہ یہ ہے کہ جن کتابوں (البحر الرائق، تاتارخانیہ) میں یجب کا لفظ مذکور ہے انہیں میں اس کے بعد کی عبارت یہ ہے کہ ” وإن رمى به فلا بأس به” ظاہر ہے کہ یہ عبارت یحب (بالحاء) کے ساتھ تو مطابقت رکھتی ہے ، یجب (بالجیم) کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔
باقی رہی یہ بات کہ آپﷺنے بال اور ناخن دفن کرنے کا امر (حکم) دیا ہے اور عموماً امر وجوب کے لیے ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ چیزوں کو دفن کرنے کا امروجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے اور اس کا قرینہ یہ ہے کہ مذکورہ چیزوں کو دفن کرنے کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ تاکہ جادو گر ان چیزوں کو جادو میں استعمال نہ کرسکیں اور یہ علامت ایک دنیوی امر ہے نہ کہ شرعی لہٰذا یہ امر، امرارشاد ہے نہ کہ امر وجوب۔
المعجم الكبير للطبرانی(رقم الحدیث:73) میں ہے:
عن عبد الجبار بن وائل، عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كان يأمر بدفن الشعر، والأظفار
المحيط البرہانی فی الفقہ النعمانی (8/87) میں ہے:
«ولو قلم أظفاره أو جز شعره يجب أن يدفن، وإن رمى فلا بأس، وإن رماه في الكنيف والمغتسل فهو مكروه، ويغسل؛ لأنه يورث الدّاء.
رد المحتار (9/668)میں ہے:
«فإذا قلم أظفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفنه فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره لأنه يورث داء خانية ويدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم عتابية ط
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (8/ 375) میں ہے:
وفي النوازل يقلم الظفر يوم الجمعة لقوله – عليه الصلاة والسلام – «من قلم أظافيره يوم الجمعة أعاذه الله من البلاء إلى الجمعة الأخرى» وزيادة ثلاثة أيام ولو قلم أظافيره أو جز شعره يجب أن يدفن وإن رماه فلا بأس به وإن رماه في الكنيف أو المغتسل فهو مكروه»
فتاویٰ تتارخانیہ(210/18) میں ہے:
ولو قلم اظافيره أو جز شعره يجب أن يدفن،وان رمي فلا بأس وان ألقاه في الكنيف والمغتسل فهو مكروه لأنه يورث الداء
حاشيۃالطحطاوی على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص527) میں ہے:
«وفي الخانية ينبغي أن يدفن قلامة ظفره ومحلوق شعره وإن رماه فلا بأس وكره إلقاؤه في كنيف أو مغتسل لأن ذلك يورث داء وروي أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بدفن الشعر والظفر وقال لا تتغلب به سحرة بني آدم اهـ ولأنهما من أجزاء الآدمي فتحترم»
احسن الفتاویٰ (9/79) میں ہے:
سوال:بعض بزرگوں کو دیکھا ہے کہ بال اور ناخن کاٹ کرایک تھیلی میں رکھتے ہیں،پھر بڑے اہتمام سے ان کو دفن کرتے ہیں،تحقیق کیا ہے؟
جواب:دفن کرنا بہتر ہے،بسہولت انتظام ہوسکے تو دفن کرے،ورنہ بتکلف اہتمام کرنا تعمق وغلو ہےجو مذموم ہے،امر مندوب کا التزام اعتقادا یا عملا ممنوع ہےاور ایسی حالت میں امر مندوب واجب الترک ہو جاتا ہے،علاوہ ازیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ امر تشریعی نہیں بلکہ سحر سے حفاظت کے لیے ہے۔
قال العلامة الطحطاوى معزيا الى الخانية: روى أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بدفن الشعر والظفر وقال لا تتغلب به سحرة بني آدم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved