• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وہ شبہات جن کی وجہ سے حدود ساقط ہوتی ہیں

استفتاء

1۔اگر  کسی  ذی رحم محرم مثلا بیٹی، بہن ، ماں ، پھوپھی اور خالہ سے نکاح کرکے جماع کرے تو حضرت امام صاحبؒ کے نزدیک اس پر حد نافذ نہ ہوگی اگر چہ  وہ کہے کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ مجھ پر حرام ہے۔

2۔اگر زنا کے لیے عورت کو کرائے پر حاصل کیا اور اس سے زنا کیا تو حضرت امام صاحبؒ کے نزدیک حد واجب نہیں  ہوگی اور اگر خدمت کے لیے  اجرت پر حاصل کیا  اور زنا کیا تو حد واجب ہوگی۔

3۔اگر کسی عورت سے نکاح کیا جس کا خاوند موجود ہے اور  اس سے وطی کی تو حضرت امام صاحبؒ کے نزدیک حد واجب نہیں ہوگی اگرچہ وہ حلال ہونے کا دعویٰ نہ کرے۔

4۔اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر عدت کے دوران اس سے جماع کیا اگر اس نے تین طلاقیں اکٹھی دیں تو اس پر حد نہیں ہے۔

ان چار مسائل  کا دلائل سے دفاع کیا  جائے۔ ان مسائل میں فقہ حنفی پر اعتراضات کی بھرمار ہوتی ہے ہم نے پڑھا ہے کہ [الحدود تندرأ بالشبهات] لیکن ان مسائل میں وہ کونسی وجوہ ہیں جس کی وجہ سے اس کے فاعل پر حدود نہیں لگتیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سوال میں ذکر کردہ صورتوں میں فاعل پر حد نہ لگنے کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی باتوں کا جاننا ضروری ہے۔وہ بنیادی باتیں یہ ہیں:

1۔ کسی وطی کا حرام ہونا الگ بات ہے اور زنا ہونا الگ بات ہے ۔چنانچہ اپنی بیوی سے روزے کی حالت میں یا حیض کی حالت میں وطی کرنا حرام تو ہے لیکن زنا نہیں ۔

بدائع الصنائع (5/488) میں ہے:

وكذلك ‌وطء ‌الحائض والنفساء والصائمة والمحرمة والموطوءة بشبهة والتي ظاهر منها أو آلى منها؛ لا يوجب الحد وإن كان حراما؛ لقيام الملك والنكاح فلم يكن زنا

2۔کسی آدمی پر حد زنا کے لیے وطی کاحرام ہونا کافی نہیں بلکہ وطی کا زنا ہونا ضروری ہے ۔

فتح القدیر (5/247) میں ہے:

قال (الوطء الموجب للحد هو الزنا) وإنه في عرف الشرع واللسان: وطء الرجل المرأة في القبل في غير الملك، وشبهة الملك ‌لأنه ‌فعل ‌محظور

الجوہرۃ النیرۃ(2/236) میں ہے:

‌وصفة ‌الزنا هو الوطء في فرج المرأة العاري عن نكاح أو ملك أو شبهتهما ويتجاوز الختان الختان هذا هو الزنا الموجب للحد وما سواه ليس بزنا

3۔زنا کی کسی دین اور شریعت میں اجازت نہیں رہی جبکہ بعض محرم عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت بعض ادیان میں رہی ہے جس سے معلوم ہوا کہ محرم عورت کے ساتھ نکاح کرنا زنا نہیں ورنہ تو اس کی کسی دین میں اجازت نہ ہوتی یہ الگ  بات ہے کہ ہمارے دین میں چونکہ یہ اجازت منسوخ ہو گئی اس لیے ہمارے دین میں محرم عورت کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔

المبسوط للسرخسى (24/ 90) میں ہے:

‌ثم ‌حرمة ‌الزنا ‌حرمة باتة لا استثناء فيها، ولم يحل في شيء من الأديان…………..

‌إذا ‌زنى، ‌أو ‌شرب، أو سرق، فإنه يقام عليه الحد، ولا يعذر بقوله لم أعلم؛ لأن حرمة الزنا، والسرقة في الأديان كلها، فالظاهر يكذبه

البحر الرائق (8/572) میں ہے:

إن جواز نكاح المحارم قد كان فى شريعة آدم عليه السلام.

تبیین الحقائق(3/179) میں ہے:

قال – رحمه الله – (وبمحرم نكحها) أي ‌لا ‌يجب ‌الحد ‌بوطء ‌محرم تزوجها وهذا هو الشبهة في العقد سواء كان عالما بالحرمة أو لم يكن عالما بها عند أبي حنيفة رحمه الله ولكن إن كان عالما يوجع بالضرب تعزيرا له ………… ولأبي حنيفة – رحمه الله – أن الأنثى من أولاد آدم محل لهذا العقد لأن محل العقد ما يكون قابلا لمقصوده الأصلي وكل أنثى من أولاد آدم قابل لحكم النكاح وهو التوالد والتناسل وإذا كانت قابلة لمقصوده كانت قابلة لحكمه إذ الحكم يثبت ذريعة إلى المقصود فكان ينبغي أن ينعقد في جميع الأحكام إلا أنه تقاعد عن إفادة الحل حقيقة لمكان الحرمة الثابتة فيهن بالنص فيورث شبهة إذ الشبهة ما يشبه الحقيقة لا الحقيقة بنفسها …………….. والدليل على أنه ليس بزنا أن أهل الذمة يقرون عليه وكان مشروعا في دين من قبلنا والذمي لا يقر على الزنا ولم يشرع الزنا في دين من الأديان قط فإذا لم يجب الحد عنده لما ذكرنا يبالغ في تعزيره إن كان عالما بذلك لأنه ارتكب محظورا فيه فساد العالم.

4۔نکاح متعہ کی چونکہ ابتدائے  اسلام میں اجازت رہی ہے حالانکہ زنا کی اجازت  نہ اسلام میں اور نہ ہی  کسی اور دین میں کبھی بھی  رہی جس سے معلوم ہوا کہ نکاح متعہ زنا نہیں ورنہ تو اس کی ابتدائے اسلام میں بھی اجازت نہ ہوتی یہ الگ  بات ہے کہ اب چونکہ نکاح متعہ کی بھی اجازت منسوخ ہو چکی ہے اس لیے اب نکاح متعہ حرام ہے لیکن یہ زنا نہیں کہ جس کی وجہ سے اس پر حد زنا لگے۔

بدائع الصنائع(5/490) میں ہے:

(وجه) قول أبي حنيفة رحمه الله أن لفظ النكاح ‌صدر ‌من ‌أهله ‌مضافا إلى محله فيمنع وجوب الحد، كالنكاح بغير شهود، ونكاح المتعة ونحو ذلك ………….. أو نقول: ‌وجد ‌ركن ‌النكاح والأهلية والمحلية على ما بينا، إلا أنه فات شرط الصحة فكان نكاحا فاسدا، والوطء في النكاح الفاسد لا يكون زنا بالإجماع، وعلى هذا ينبغي أن يعلل فيقال: هذا الوطء ليس بزنا.فلا يوجب حد الزنا قياسا على النكاح بغير شهود وسائر الأنكحة الفاسدة

5۔کسی  عورت کو اجرت دے کر زنا پر راضی کرنا چونکہ متعہ ہی کی ایک صورت ہے لہذا اس صورت کے حرام ہونے کے باوجود یہ صورت زنا نہیں کہلائے گی۔

المبسوط للسرخسی (9/58) میں ہے:

ولو قال: أمهرتك كذا لأزني بك لم يجب الحد، فكذلك إذا قال: استأجرتك توضيحه أن هذا الفعل ليس بزنا، وأهل اللغة لا يسمون الوطء الذي يترتب على العقد زنى ولا يفصلون بين الزنا وغيره إلا بالعقد فكذلك لا يفصلون بين الاستئجار والنكاح؛ لأن الفرق بينهما شرعي، وأهل اللغة لا يعرفون ذلك فعرفنا أن هذا الفعل ليس بزنا لغة وذلك شبهة في المنع من وجوب الحد حقا لله تعالى كما لا يجب الحد على المختلس؛ لأن فعله ليس بسرقة لغة، يوضحه أن المستوفى بالوطء وإن كان في حكم العتق فهو في الحقيقة منفعة، والاستئجار عقد مشروع لملك المنفعة وباعتبار هذه الحقيقة يصير شبهة بخلاف الاستئجار للطبخ والخبز ولأن العقد هناك غير مضاف إلى المستوفى بالوطء ولا إلى ما هو سبب له، والعقد المضاف إلى محل يوجب الشبهة في ذلك المحل لا في محل آخر

6۔ مطلقہ ثلاثہ کی جب تک عدت باقی رہتی ہے اس وقت تک چونکہ وہ آگے نکاح نہیں کر سکتی اس لیے سابقہ نکاح کے کچھ نہ کچھ آثار عدت ختم ہونے تک باقی ہیں لہٰذا   اگر شوہر دوران عدت  وطی کرے اور یہ دعویٰ کرے کہ میرے خیال میں  وطی  کرنا حلال تھا تو اس کا یہ دعویٰ نکاح کے کسی نہ کسی  درجہ میں باقی رہنے کی وجہ سے   شبہے کی بنیاد بن سکتا ہے اور شبہے کی وجہ سے  حد کا ساقط کرنا خود حدیث سے ثابت ہے۔

مسند أبی  حنیفۃ روایۃ الحصكفی، کتاب الحدود (رقم الحدیث:04) میں ہے:

عن مقسم، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «ادرءوا ‌الحدود ‌بالشبهات»

ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حدود کو شبہات کی وجہ سے ساقط  کردیا کرو۔

بدائع الصنائع (5/488) میں ہے:

أما إذا وطئ المطلقة ثلاثا في العدة؛ فلأن النكاح ‌قد ‌زال ‌في ‌حق ‌الحل ‌أصلا؛ لوجود المبطل لحل المحلية وهو الطلقات الثلاث، وإنما بقي في حق الفراش والحرمة على الأزواج فقط فتمحض الوطء حراما فكان زنا فيوجب الحد؛ إلا إذا ادعى الاشتباه وظن الحل؛ لأنه بنى ظنه على نوع دليل وهو بقاء النكاح في حق الفراش وحرمة الأزواج فظن أنه بقي في حق الحل أيضا، وهذا وإن لم يصلح دليلا على الحقيقة لكنه لما ظنه دليلا اعتبر في حقه درأ لما يندرئ بالشبهات.

مذکورہ تمہیدی باتوں کے بعد سوال میں ذکر کردہ صورتوں میں فاعل پرحد زنا نہ لگنے کی وجوہ یہ ہیں کہ  نمبر 1 میں چونکہ فاعل نے عقد نکاح کر کے وطی کی ہے اور جو وطی عقد نکاح کر کے کی جائے وہ اگرچہ حرام ہو سکتی ہے اور مذکورہ صورت میں بھی  حرام  ہی ہے لیکن یہ وطی  زنا نہیں کہلائے گی کیونکہ اگر یہ وطی زنا ہوتی تو اس کی کسی بھی دین میں اجازت نہ ہوتی اور جب یہ زنا نہیں تو اس کے فاعل پر حد زنا بھی نہیں لگے گی۔

بدائع الصنائع (5/488) میں ہے:

وكذلك وطء الحائض ‌والنفساء ‌والصائمة والمحرمة والموطوءة بشبهة والتي ظاهر منها أو آلى منها؛ لا يوجب الحد وإن كان حراما؛ لقيام الملك والنكاح فلم يكن زنا …………. وكذلك ‌إذا ‌نكح ‌محارمه أو الخامسة أو أخت امرأته فوطئها لا حد عليه عند أبي حنيفة وإن علم بالحرمة، وعليه التعزير (وجه) قول أبي حنيفة رحمه الله أن لفظ النكاح صدر من أهله مضافا إلى محله فيمنع وجوب الحد، كالنكاح بغير شهود، ونكاح المتعة ونحو ذلك، ولا شك في وجود لفظ النكاح والأهلية، والدليل على المحلية – أن محل النكاح هو الأنثى من بنات سيدنا آدم عليه الصلاة والسلام النصوص والمعقول، أما النصوص، فقوله سبحانه وتعالى {فانكحوا ما طاب لكم من النساء} [النساء: 3] ، وقوله سبحانه وتعالى {ومن آياته أن خلق لكم من أنفسكم أزواجا لتسكنوا إليها} [الروم: 21] ، وقوله سبحانه وتعالى {وأنه خلق الزوجين الذكر والأنثى} [النجم: 45] جعل الله سبحانه وتعالى النساء على العموم والإطلاق محل النكاح والزوجية.

وأما المعقول؛ فلأن الأنثى من بنات سيدنا آدم – عليه الصلاة والسلام – محل صالح لمقاصد النكاح من السكنى والولد والتحصين وغيرها، فكانت محلا لحكم النكاح؛ لأن حكم التصرف وسيلة إلى ما هو المقصود من التصرف، فلو لم يجعل محل المقصود محل الوسيلة لم يثبت معنى التوسل، إلا أن الشرع أخرجها من أن تكون محلا للنكاح شرعا مع قيام المحلية حقيقة، فقيام صورة العقد والمحلية يورث شبهة، إذ الشبهة اسم لما يشبه الثابت وليس بثابت، أو نقول: وجد ركن النكاح والأهلية والمحلية على ما بينا، إلا أنه فات شرط الصحة فكان نكاحا فاسدا، والوطء في النكاح الفاسد لا يكون زنا بالإجماع، وعلى هذا ينبغي أن يعلل فيقال: هذا الوطء ليس بزنا.

فلا يوجب حد الزنا قياسا على النكاح بغير شهود وسائر الأنكحة الفاسدة…….

مجمع الانہر (1/595) میں ہے:

(ولا) يجب الحد (بوطء) امرأة (محرم) له (تزوجها) سواء كان عالما بالحرمة أو لا ولكن إن كان عالما به يوجع بالضرب تعزيرا له هذا عند الإمام ……. له أن المحرم محل النكاح باعتبار أن المقصود منه التناسل وكل أنثى من بنات آدم قابلة له ‌ومحلية ‌النكاح وإن انعدمت عن المحارم بدليل لكن بقيت شبهتها كما في نكاح المتعة فيندرئ به الحد

اور نمبر 2میں فاعل پر حد نہ لگنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ صورت نکاح متعہ کے  مشابہ ہے اور نکاح متعہ  اگرچہ حرام ہے لیکن یہ زنا نہیں ہے ورنہ تو ابتدائے اسلام میں بھی اس کی اجازت نہ ہوتی۔ اور جب یہ زنا نہیں تو اس  کے فاعل پر حد زنا بھی نہیں لگے گی۔

الاختیار لتعلیل المختار  (3/89) میں ہے:

قال: (‌ونكاح ‌المتعة ‌والنكاح ‌المؤقت باطل) ، أما المتعة فلقوله تعالى: {فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون} ……….. وقد صح عن علي رضي الله عنه أن النبي عليه الصلاة والسلام «حرم يوم خيبر متعة النساء، ولحوم الحمر الأهلية» . وما روي في إباحتها ثبت نسخه بإجماع الصحابة

تفسیر ابن کثیر (2/226) میں ہے:

{فما استمتعتم به منهن فآتوهن أجورهن فريضة} ……….. وقد استدل بعموم هذه الآية على نكاح المتعة، ولا شك ‌أنه ‌كان ‌مشروعا ‌في ابتداء الإسلام، ثم نسخ بعد ذلك

نمبر 3 میں فاعل پر حد نہ لگنے کی وجہ یہ ہے کہ منکوحۃ الغیر سے نکاح کی حرمت عارضی ہے یعنی جب تک وہ غیر کے نکاح یا اس کی عدت میں ہے اس وقت تک اس سے نکاح کرنا حرام ہے اور جب ان عورتوں سے نکاح کر کے وطی کرنے سے حد نہیں لگتی جن سے نکاح کی حرمت ابدی ہے (جیسا کہ محرم عورتوں  سے نکاح کی صورت میں حد نہیں لگتی)  تو جس کی حرمت عارضی ہے اس سے نکاح کر کے وطی کرنے سے بدرجہ اولی حد نہیں لگے گی کیونکہ یہ وطی بھی اگرچہ حرام ہے لیکن عقد نکاح کی وجہ سے زنا نہیں۔

البنایہ شرح الہدایہ (6/ 252) میں ہے:

(‌ومن ‌تزوج ‌امرأة لا يحل له نكاحها) ش: مثل نكاح المحارم، والمطلقة الثلاث، ومنكوحة الغير، ومعتدة الغير، ونكاح الحاملة…………. (فوطئها لم يجب عليه الحد عند أبي حنيفة رحمه الله) ش: في جميع ذلك.

وإن قال علمت أنها علي حرام م: (ولكنه يوجع عقوبة إذا كان علم بذلك) ش: يعني يضرب طريق التقرير ضربا مؤلما عقوبة عليه لا بطريق الحد.

نمبر 4 میں فاعل پرحد نہ لگنے کی بات مطلقاً (ہر حال اور ہر صورت میں) نہیں بلکہ اس صورت میں ہے جب وہ یہ دعویٰ کرے کہ اس کے خیال (ظن) میں اس سے وطی کرنا حلال تھا اور اس صورت میں حد  نہ لگنے کی  وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں نکاح  کے کچھ نہ کچھ آثار باقی ہیں اور جب  نکاح کے کچھ نہ کچھ آثار باقی ہیں اور شوہر  کے دعوے کے مطابق اس کے خیال میں اس سے وطی کرنا جائز ہے تو اس کے اس شبہ کا اعتبار کیا جائے گا اور اسے حد نہیں لگے گی۔اور اس میں دیگر ائمہ کا بھی اختلاف نہیں ہے۔

البنایہ شرح الہدایہ (6/ 243) میں ہے:

ومن ‌طلق ‌امرأته ‌ثلاثا ثم وطئها في العدة…………. ولو ‌قال: ‌ظننت ‌أنها ‌تحل لي، لا يحد، لأن الظن في موضعه لأن أثر الملك قائم في حق النسب) ش: أي ثابت في حق ثبوت النسب ولدت باعتبار العلوق السابق على الطلاق لا النسب في هذا الوطء، فإنه لا يثبت م: (والحبس) ش: أي المنع من الخروج م: (والنفقة) ش: أي وجوب النفقة. وهذا كله دليل لكون الظن في موضعه م: (واعتبر ظنه في إسقاط الحد

الغرض مذکورہ تمام صورتوں میں اشکال کی اصل بنیاد  یہ ہے کہ اشکال کرنے والے نے ہر حرام وطی کو زنا سمجھ لیا حالانکہ ہرحرام وطی کا زنا ہونا ضروری نہیں اور جب مذکورہ صورتوں میں زنا کی حقیقت ہی نہیں پائی جاتی تو زنا کی حد جاری کرنا بھی درست نہیں۔

نوٹ: مذکورہ صورتوں میں حد ساقط ہونے کا یہ مطلب  ہرگز  نہیں کہ اس فاعل  کو کسی قسم کی بھی سزا نہیں دی جائے گی بلکہ اسے تعزیر کی جاے گی  اور تعزیر کی کوئی حد بندی نہیں ہوتی  بلکہ تعزیر کی سزا میں بعض اوقات مجرم کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے جبکہ اس  جرم کی حد قتل نہیں ہوتی۔

فتح القدیر (5/262) میں ہے:

ألا ترى ‌أن ‌أبا ‌حنيفة ‌ألزم عقوبته بأشد ما يكون

اعلاء السنن (11/522) میں ہے:

عن البراء قال لقيت عمي ومعه رأية اين تريد؟ فقال بعثنى رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رجل نكح إمراة ابيه فأمرنى ان اضرب عنقه وآخذ ماله لا يمكن اجراء الحديث على ظاهره فان القتل وأخذ المال ليس بحد الزنا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved