- فتوی نمبر: 32-383
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > متفرقات خاندانی معاملات
استفتاء
اسلام ميں اللہ تعالیٰ نے کتنی سزائیں مقرر کی ہیں اور وہ کونسی ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
واضح رہےکہ اسلامی سزائیں تین قسم کی ہیں:
1۔حدود2۔قصاص3۔ تعزیر
(1)حدود ان سزاؤں کو کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخصوص گناہوں اور جرائم پر طے شدہ ہیں اور جرم ثابت ہونے کے بعد معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں مثلاً زنا کرنا،شراب پینا، زنا کی تہمت لگانا، چوری کرنا۔
(2)قصاص کا مطلب یہ ہے کہ قتل کے بدلے قتل یا کسی خاص عضو کے ضائع کرنے پر عضو کو ضائع کرنا اور یہ مقتول کے اولیاء یا مجروح شخص کا حق ہے اس لیے صاحب حق کو معاف کرنے کی اجازت ہے۔
(3)تعزیر وہ جرائم یا گناہ ہیں جن کے متعلق شرع میں کوئی لگی بندھی سزا مقرر نہیں ہے،شریعت نے حاکم وقت اور ان کے نائبین کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ جرم اور مجرم کی کیفیت کو دیکھ کر تنبیہ کی خاطر کسی بھی مناسب سزا کا اس پر اجراء کریں۔
نوٹ: تاہم مذکورہ بالا تین سزائیں نافذ کرنے کا اختیار صرف حکومت کو ہے۔ حکومت کے علاوہ افراد کو مذکورہ سزائیں نافذ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
ہندیہ (2/142) میں ہے:
والحد في الشريعة العقوبة المقدرة حقا لله تعالى حتى لا يسمى القصاص حدا لما أنه حق العبد ولا التعزير لعدم التقدير كذا في الهداية.
ہندیہ (2/167) میں ہے:
(فصل في التعزير) وهو تأديب دون الحد ويجب في جناية ليست موجبة للحد كذا في النهاية. وينقسم إلى ما هو حق الله وحق العبد. والأول يجب على الإمام ولا يحل له تركه إلا فيما إذا علم أنه انزجر الفاعل قبل ذلك ويتفرع عليه أنه لا يجوز إثباته بمدع شهد به فيكون مدعيا شاهدا إذا كان معه آخر كذا في النهر الفائق……… التعزير قد يكون بالحبس وقد يكون بالصفع وتعريك الأذن وقد يكون بالكلام العنيف وقد يكون بالضرب وقد يكون بنظر القاضي إليه بنظر عبوس كذا في النهاية وعند أبي يوسف – رحمه الله تعالى – يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير
الموسوعۃ الفقہیۃ (33/254) میں ہے:
«وفي الاصطلاح: القصاص أن يفعل بالفاعل الجاني مثل ما فعل»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved