- فتوی نمبر: 26-03
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > میاں بیوی کے مخصوص مسائل
استفتاء
مفتی صاحب: چند ضروری مسائل کی بابت حکم دریافت کرنا ہے۔
۱) کیا بیوی اپنے خاوند کے نفس کو ہاتھ میں پکڑ سکتی ہے جبکہ پکڑنا منی نکالنے کی نیت سے نہ ہو ویسے ہی ہو، ایسا کرنے سے کوئی گناہ ہوگا؟
۲) اسی طرح خاوند بیوی کی شرمگاہ کو چھوسکتا ہے؟ شرمگاہ میں انگلی ڈال سکتا ہے ؟ کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا؟
۳) کیا ان افعال سے کسی ایک پر غسل فرض ہوگا جبکہ انزال نہ ہوا ہو؟
۴) روزے کی حالت میں ایسا کرنے سے روزے پر کوئی اثر پڑے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(۱) پکڑ سکتی ہے کوئی گناہ نہیں۔
(۲) چھو بھی سکتا ہے اور انگلی بھی ڈال سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں۔
(۳) جب تک انزال نہ ہو تو ان افعال سے شوہر پر تو غسل فرض نہیں ہے لیکن بیوی کی شرمگاہ میں انگلی ڈالنے سے اگر بیوی کو شہوت ہو توبعض حضرات کے نزدیک بیوی پر غسل فرض ہوگا، لہذا احتیاطا بیوی کو غسل کرلینا چاہیئے۔
(۴)اگر گیلی انگلی ڈالی خواہ وہ پہلے سے گیلی ہو یا شرمگاہ میں داخل کرنے سے گیلی ہوگئی ہو اور نکال کر خشک کئے بغیر دوبارہ ڈال دی ہو تو ان صورتوں میں عورت کا روزہ ٹوٹ جائے گا ۔
ہندیہ (121/9) میں ہے:
“قال ابويوسف رحمه الله تعالي: سالت اباحنيفة رحمه الله تعالي عن رجل يمس فرج امراته وهي تمس فرجه لتحرك آلته هل تري بذلك باسا؟ قال لا، وارجوان يعطي الاجر. كذا في الخلاصة”
الاختیار لتعلیل المختار (للامام عبداللہ بن محمود الموصلی الحنفی، ص:692) میں ہے:
“(وينظر من زوجته و امته التي تحل له الي جميع بدنه) وكذا يحل له مسها والاستمتاع بها في الفرج و ما دونه”
البحر الرائق و منحۃ الخالق (1/ 111) میں ہے:
“وفي فتح القدير أن في إدخال الإصبع الدبر خلافا في إيجاب الغسل فليعلم ذلك اهـ
وقد أخذه من التجنيس ولفظه رجل أدخل إصبعه في دبره، وهو صائم اختلفوا في وجوب الغسل والقضاء والمختار أنه لا يجب الغسل ولا القضاء؛ لأن الإصبع ليس آلة للجماع فصار بمنزلة الخشبة ذكره في الصوم.
(قال الشامي) وفي فتح القدير أن في إدخال الإصبع الدبر خلافا إلخ) ذكر العلامة الحلبي هنا تفصيلا فقال والأولى أن يجب في القبل إذا قصد الاستمتاع لغلبة الشهوة؛ لأن الشهوة فيهن غالبة فيقام السبب مقام المسبب وهو الإنزال دون الدبر لعدمها وعلى هذا ذكر غير الآدمي وذكر الميت وما يصنع من خشب أو غيره”
حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح (101) میں ہے:
“وأما في القبل فذكر في شرح التنوير أن المختار عدمه أيضا وحكى العلامة نوح أن المختار فيه الوجوب إذا قصدت الإستمتاع لأن الشهوة فيهن غالبة فيقام السبب مقام المسبب فاختلف الترجيح بالنسبة لإدخال الإصبع في قبل المرأة أفاده السيد رحمه الله تعالى قوله: “ما لم تحبل” لأنها لا تحبل إلا إذا أنزلت وتيعد ما صلت قبل الغسل وهذا أحد قولين وقيل لا غسل عليها ولو ظهر الحبل إلا إذا خرج منيها إلى ظاهر الفرج وهو ظاهر الرواية قال الحلواني وبه نأخذ انظر الزيلعي”
در مختارمع الرد (335/1) میں ہے:
“(وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو، والا فلا، اتفاقا، لانه في حكم الباطن … … … (و) لا عند (ادخال اصبع و نحوه) … (في الدبر او القبل) علي المختار.
(قوله: على المختار) قال في التجنيس: رجل أدخل إصبعه في دبره وهو صائم اختلف في وجوب الغسل والقضاء. والمختار أنه لا يجب الغسل ولا القضاء؛ لأن الإصبع ليس آلة للجماع فصار بمنزلة الخشبة ذكره في الصوم، وقيد بالدبر؛ لأن المختار وجوب الغسل في القبل إذا قصدت الاستمتاع؛ لأن الشهوة فيهن غالبة فيقام السبب مقام المسبب دون الدبر لعدمها نوح أفندي. أقول: آخر عبارة التجنيس عند قوله بمنزلة الخشبة، وقد راجعتها منه فرأيتها كذلك، فقوله وقيد إلخ من كلام نوح أفندي، وقوله لأن المختار وجوب الغسل إلخ بحث منه سبقه إليه شارح المنية، حيث قال والأولى أن يجب في القبل إلخ، وقد نبه في الإمداد أيضا على أنه بحث من شارح المنية فافهم.”
حاشیہ طحطاوی علی الدر (449/1…451) میں ہے:
“(اذا اكل الصائم او شرب او جامع) حال كونه (ناسيا) … … … (او ادخل اصبعه اليابسة فيه) اي دبره او فرجها، ولو مبتلة فسدت، … … … … … (لم يفطر) جواب الشرط.
(قوله او فرجها) الاقعد في التعبير، وكذا لو ادخلت اصبعها اليابسة فرجها. فان ظاهر كلامه يقتضي ان الذي ادخل في فرجها الرجل، و الحكم واحد.”
بہشتی زیور (حصہ یازدہم، ص:(688 میں ہے:
“مسئلہ اگر کوئى عورت شہوت کے غلبہ میں اپنے خاص حصہ میں کسى بے شہوت مرد یا جانور کے خاص حصہ کو یا کسى لکڑى وغیرہ کو یا اپنى انگلى کو داخل کرے تب بھى اس پر غسل فرض ہو جائے گا منى گرے یا نہ گے مگر یہ شارح کى رائے ہے اور اصل مذہب میں بدون انزال غسل واجب نہیں”
امدادالاحکام (ج۱/۳۵۹) میں ہے:
“سوال: آدمی کاعورت کی جائے مخصوص میں انگلی داخل کرنے سے بشہوت یا غیر شہوت صرف فاعل یا دونوں پر غسل فرض ہوگا یانہیں؟ والسلام۔ الجواب حامداً و مصلیاً و مسلماً : اگر انگلی داخل کرنے کے وقت عورت کی شہوت برانگیختہ ہوجائے تو ایک قول میں عورت پر غسل واجب ہوجائے گا اور ایک قول میں واجب نہیں جب تک انزال نہ ہو، اور احتیاط غسل ہی میں ہے، اگر عورت کی شہوت برانگیختہ نہ ہو تو غسل کسی قول میں واجب نہیں اور فاعل ادخال اصبع پربھی غسل نہیں”
مسائل بہشتی زیور (66/1) میں ہے:
“مسئلہ: اگر کوئی عورت شہوت کے غلبہ میں اپنے خاص حصہ میں کسی نابالغ بے شہوت لڑکے یا کسی جانور کے خاص حصہ کو یا کسی لکڑی وغیرہ کو یا اپنی انگلی کو داخل کرے تو اگر عورت کو انزال ہو جائے تو اس پر غسل فرض ہوگا اور اگر انزال نہ ہو تب بھی احتیاطاً اس پر غسل کرنا فرض ہوگا۔”
احسن الفتاوی (455/4) میں ہے:
“فرج میں خشک انگلی داخل کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اس کے بعد کھانے سے روزہ ٹوٹ گیا، قضاء اور کفارہ واجب ہے، البتہ انگلی گیلی ہو یا خشک انگلی فرج میں ڈال کر پوری یا کچھ حصہ باہر کھینچ کر پھر اندر داخل کردی تو اس سے روزہ ٹوٹ گیا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved