• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

والد کی جائیداد میں بیٹی کا حق

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مرحوم کی ایک بیٹی، دو بھائی اور  دو بہنیں ہیں ۔دو بھائیوں نے مرحوم کی مختص  جائیداد  ( جوکہ مرحوم کو والد نے اپنی زندگی  میں تقسیم کرکے دی تھی) آپس میں تقسیم کرلی ، باقیوں کو کچھ نہیں دیا ہے ۔ اب بیٹی میراث کا مطالبہ کر رہی ہے۔براہ  کرم بیٹی کا حق واضح کریں ۔

نوٹ: مرحوم کے والدین مرحوم کے بعد فوت ہوئے ہیں۔ نانا ، نانی اور دادا، دادی والدین سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔  مرحوم کی بیوی بھی حیات ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کی جائیداد کے کل 1152 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 576 حصے (50 فیصد) مرحوم کی بیٹی کو، 144 حصے (12.5 فیصد) مرحوم کی بیوی کو، 144 حصے (12.5 فیصد) مرحوم کے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو، 72 حصے (6.25 فیصد) مرحوم کی دونوں بہنوں میں سے ہر ایک  کو ملیں گے۔

نوٹ: مرحوم کے والدین کا حصہ چونکہ مرحوم کے دو بھائیوں اور دو بہنوں  میں تقسیم  ہونا تھا اس  وجہ سے والدین کے حصہ کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved