- فتوی نمبر: 26-14
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > شوہر لاپتہ ہو جائے تو نکاح کا حکم
استفتاء
میری شادی 2016-1-21 میں ہوئی تھی میری ایک بیٹی ہے جو 16-11-19 کو پیدا ہوئی تھی جب وہ چودہ ماہ کی ہوئی اس وقت سے میں اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے والدین کےپاس ہوں اور میری بیٹی کے پیدا ہونے سے اب تک سارا خرچہ میرے والد ہی کر رہےہیں اور میری بیٹی چار سال کی ہوگئی ہے۔میرے شوہر سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔
17-05-25 کو انہوں نے مجھے مارا تھا اس وقت سے میں ابو کے پاس ہوں ،میرے شوہر نشہ کرتے ہیں اور کماتے بھی نہیں ہیں، کرائے کا گھر تھا جو میرے گھر والوں نے دلوایا تھا مگر کرایہ نہ دینے کی وجہ سے مالک مکان نے نکال دیا تھا۔اور دو سال سے پہلے کبھی کبھی مہینے میں بیٹی سے ملنے آتے تھے تو اس کے ہاتھ میں 1000،500،100 رکھ جاتے تھے اور کبھی وہ بھی نہیں رکھتےتھے اس کے علاوہ کوئی خرچہ نہیں کرتے تھےاور یہ ملاقات صرف بیٹی سے ہی گھر کے باہر ہوتی تھی مجھ سے نہیں ہوتی تھی۔
اب ہم رشتہ ختم کرنے کے لیے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں کیونکہ میرا شوہر کے بغیر گزارا ممکن نہیں مگردو سال سے ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہاکہ وہ کہاں ہیں ان کے گھر والے بھی ہمارا کسی لحاظ سے ساتھ نہیں دیتے ۔ ان کے گھر والوں سے پوچھا تھا تو انہوں نے صرف اتنا بتایا کہ وہ جیل میں ہیں لیکن کس جیل میں ہیں وہ نہیں بتاتےبلکہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اس سے تعلق ختم کردیا ہے اور عاق کردیا ہے ہمیں اس کا کچھ پتہ نہیں۔ ہم نے اپنے طور پر مختلف جیلوں سے معلوم کروایا تو اندازہ ہوا کہ سینٹرل جیل میں ہوں گے تو ہم نے جب وہاں جاکر معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ اس نام کا کوئی بندہ ہمارے پاس نہیں ہےاور بھی جگہوں میں ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش کیا مگر وہ نہیں ملے۔البتہ قانونی طور پران کو تلاش کرنے کے لیے ہم نے کوئی اقدام نہیں کیا۔
میری شادی کو اب پانچ سال ہوگئے ہیں مگر کبھی انہوں نے میرا خرچہ پورا نہیں کیا اور لا تعلق ہوئے ساڑھے تین سال ہوگئے ہیں ۔ان کے والد نے ان کو سدھارنے کی ذمہ داری لی تھی مگر وہ مزید چوروں ڈکیتوں میں شامل ہوگئے،تین ایف ائی آر ان کے خلاف کٹی ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں بقول ان کے گھر والوں کےکسی جیل میں بند ہیں ۔
اب ہم کورٹ کے ذریعے علیحدگی چاہ رہے ہیں،آپ شریعت کی رو سے بتائیں کہ میرے اور میری بیٹی کے لئے کیا فیصلہ ہے؟ کیا میری علیحدگی کے بعد عدت ہوگی؟میری بیٹی میرے پاس ہے اور میں چاہتی ہوں کہ وہ میرے پاس ہی رہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر لا پتہ ہوچکا ہے اور باوجود تلاش کےاس کا کچھ اتہ پتہ نہیں تو آپ عدالت کے ذریعے اپنا نکاح فسخ کرواسکتی ہیں جس کا طریقہ کار یہ ہے:
1-عورت عدالت میں درخواست دے کہ میرا شوہر لاپتہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے میں نکاح فسخ کروانا چاہتی ہوں۔(حیلہ ناجزہ صفحہ:62)
2- اورگواہوں سےیا نکاح نامےکے ذریعے یہ ثابت کر ےکہ میرا فلاں شخص سے نکاح ہوا تھا۔(حیلہ ناجزہ صفحہ:62)
3- اس کے بعد شوہر کا ]گواہوں سے یا تھانے کی رپورٹ سے[ لاپتہ ہونا ثابت کرے۔ (حیلہ ناجزہ صفحہ:62،کتاب المسائل (5/285)مصنفہ مفتی محمد سلیمان منصور پوری)
4-بعد ازاں عدالت خود بھی اس لا پتہ شوہر کی تلاش و تفتیش کروائے،اورجہاں شوہر کے جانے کا غالب گمان ہو وہاں آدمی بھیجے اور اخبار وغیرہ میں بھی اشتہار دے ۔(حیلہ ناجزہ صفحہ:65)
5-جب عدالت کو شوہرکے ملنے سے مایوسی ہو جائے توعورت کوچار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے(حیلہ ناجزہ صفحہ:65)
6-پھر اگر ان چار سالوں میں بھی لاپتہ شوہر کا پتہ نہ چلے تو اس مدت کے ختم ہونے پر اس لاپتہ شوہر کو مردہ تصور کیا جائے گا۔چار سال انتظار کے بعد دوبارہ عدالت میں جانا ضروری نہیں ۔( حیلہ ناجزہ صفحہ:63 )
7-ان چار سالوں کے ختم ہونے کے بعد وفات کی عدت(چار ماہ دس دن)گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔( حیلہ ناجزہ صفحہ:63)
آگے نکاح کرنے کے بعد بھی اگر لاپتہ شوہر واپس آگیا تو عورت اپنے سابقہ شوہر کی ہی بیوی سمجھی جائے گی۔( حیلہ ناجزہ صفحہ:68)
نوٹ:چار سال تک انتظار کا حکم اس صورت میں ہے جب عورت عفت اور پاک دامنی کے ساتھ گزارہ کرسکتی ہو اور اگر عورت کو بغیر شوہر کے زندگی گزارنا ممکن نہ ہو اور زنا میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو اس صورت میں عورت شوہر کے لاپتہ ہونے کے وقت سے ایک سال انتظار کے بعد عدالت سے اپنا نکاح فسخ کروا سکتی ہے۔(احسن الفتاوی5/422)
اگر عورت نےمعصیت میں مبتلاہونے کے اندیشہ کی وجہ سے ایک سال بعد جدائی حاصل کی تو یہ جدائی طلاق رجعی شمار ہوگی جس کا حکم یہ ہے کہ اس کے بعد عورت کو عدالت کے فیصلے کے بعد عدت وفات کی بجائے عدت طلاق(تین حیض) گزارنے ہوں گے۔اس صورت میں اگر لا پتہ شوہر عدت طلاق کے اندر واپس آگیا تو وہ رجوع کرسکتا ہےاور اگر عدت کے بعد آیا یا عدت کے اندر آیا لیکن اس نے رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے کے بعد طلاق بائنہ واقع ہوجائے گی اور وہ عورت خود مختار ہوجائے گی چاہے تو اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کرلے یا کسی اور سے نکاح کرلے۔(حیلہ ناجزہ صفحہ:71)
نوٹ:لڑکی کی پرورش کا حق ماں کو نو برس تک رہتا ہے۔جب نو برس کی ہوگئی تو باپ لے سکتا ہےتاکہ وہ لڑکی کی حفاظت کرے ۔ لیکن مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر فسق و فجور یعنی چوری ڈکیتی میں مبتلا ہے لہٰذا نو برس کے بعد بھی شوہر کو پرورش کا حق نہیں ہوگا۔(فقہ اسلامی صفحہ:175)
فقہ اسلامی(174)میں ہے:
پرورش کا حق مندرجہ ذیل باتوں سے نہیں رہتا۔۔۔۔۔۔مسئلہ:اور اگر ایسا فسق ہو کہ جس سے بچہ ضائع ہوتا ہو مثلا زنا وبدکاری میں مبتلا ہو یا چوری ڈاکہ کرتی ہو یا نوحہ کرنے کے لیے جاتی ہو تو اس کو حق نہ ہوگا۔
بدائع الصنائع(3/460)میں ہے:
«وأما شرطها[الحضانة]فمن شرائطها العصوبة فلا تثبت إلا للعصبة من الرجال ويتقدم الأقرب فالأقرب الأب ثم الجد أبوه….. ومنها: إذا كان الصغير جارية أن تكون عصبتها ممن يؤتمن عليها فإن كان لا يؤتمن لفسقه ولخيانته؛ لم يكن له فيها حق؛ لأن في كفالته لها ضررا عليها وهذه ولاية نظر فلا تثبت مع الضرر
درمختار(5/274)میں ہے:
(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية۔۔۔۔ (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved