- فتوی نمبر: 26-19
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > لباس و وضع قطع
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
(۱)ایک آدمی پورے سر کے بال 4 نمبر مشین سے کٹواتا ہے اور گدی اور کانوں کے قریب استرا لگواتا ہے جیسے کہ عام ترتیب ہے کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ جبکہ ہمارے ہاں ایک قابل قدر شخصیت کا کہنا ہے کہ گدی پر استرا لگوانا حرام ہےاگرچہ پورے سر پر ایک نمبر کی مشین لگائی ہو،
(۲)نیز بال کٹوانے کی شرعی حدود و طریقہ کار تحریر فرمائیں۔
(۳)ہمارے مدرسہ میں اس حد تک سختی کی جاتی ہےکہ جو بچے استرا نہیں لگواتے بلکہ1 نمبر، 2نمبر ،یا 3نمبر مشین لگواتے ہیں ان بچوں کو مارا جاتا ہے، بے عزتی کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ بچے بعض اوقات مدرسہ چھوڑ جاتے ہیں لیکن استرا کے علاوہ سے بال کٹوانے کی اجازت نہیں ، اس بارے میں کس حد تک سختی کی جاسکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(۱)پورے سر کے بال چار(4)نمبر مشین سے کٹواناجائز ہے،اسی طرح گدی یا کانوں کے قریب کا وہ حصہ جو سر میں داخل نہیں، اس پر استرا لگوانا جائز ہے اسے حرام کہنا صحیح نہیں، جو شخص گدی پر استرا لگوانے کو حرام کہتے ہیں ان کی گدی سے کیا مراد ہے؟ اور اس پر استرا لگوانے کے حرام ہونے کے کیا دلائل ہیں؟وہ اگر مہیا کیے جائیں تو ان پر غور ہوسکتا ہے۔
(۲)بال کٹوانے کی شرعی حدود یہ ہیں کہ یا تو پورے سر کا حلق ہو یا پورے سر کا قصر ہو،کچھ سر کا حلق اور کچھ کا قصر ہو یہ جائز نہیں،اور طریقہ کار یہ ہے کہ جس کے بال کاٹے جا رہے ہوں اس کی دائیں جانب سے شروع کریں نہ کہ کاٹنے والے کی دائیں جانب سے ۔
(۳)مدرسے والے طلباء پر ایسی پابندیاں لگاسکتے ہیں جو شرعاً جائز ہوں اور ان پر عمل کرنے یا نہ کرنے سے طلباء کا تعلیمی یا تربیتی فائدہ وابستہ ہو، لہذا بڑے بال نہ رکھنے کی پابندی لگائی جا سکتی ہےتاکہ بالوں کی دیکھ بھال میں لگنے سے تعلیمی حرج نہ ہو یا طلباء میں زیب وزینت (بننے، سنورنے) کا رجحان پیدا نہ ہو اور یہ مقاصد ایک نمبر یا دو نمبر یا تین نمبر مشین سے بال کٹوانے کی پابندی کی صورت میں بھی حاصل ہوسکتے ہیں اس کے لئے استرے سے بال کٹوانے کی پابندی ضروری نہیں، لہذا ہمارے خیال میں استرے سے بال کٹوانے پر اس حد تک سختی کرنا جائز نہیں کہ نہ کٹوانے والوں کو مارا جائے یا ان کی بے عزتی کی جائے یہاں تک کہ وہ مدرسہ چھوڑنے پر مجبورہوجائیں۔
لامع الدراری(330/3) میں ہے:
وفى تقرير المكي قال قدس سره: القزع فى اللغة حلق بعض الرأس وترك بعضهم فهو مكروه تحريما كيف ما كان لاطلاق النهي عنه وما قال عبيد الله فذلك اجتهاده كان يهود زمانه اذا حلق احدهم رأس صبيه ترك ناصيته وشق رأسه فظن عبيدالله ان المنهي عنه هذا لما فيه من التشبيه باليهود ، اما القصة والقفا فلا بأس بهما لان اليهود لايتركونهما فليس فيهما التشبيه باليهود الذي هو العلة للنهي فجاز تركهما او ترك احدهما، وقد عرفت ان القزع هو حلق البعض وترك البعض مطلقا فترك القصة والقفا او احدهماداخل تحت النهي فالحاصل ان السنة حلق الكل او ترك الكل وماسواهما كله منهي۔
(۱)شامی (407/6) میں ہے:
وفي الذخيرة ولا بأس أن يحلق وسط رأسه ويرسل شعره من غير أن يفتله وإن فتله فذلك مكروه لأنه يصير مشبها ببعض الكفرة والمجوس في ديارنا يرسلون الشعر من غير فتل ولكن لا يحلقون وسط الرأس بل يجزون الناصية تاترخانية
قال ط ويكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع
كذا في الغرائب
فتح القدیر(2/489) میں ہے:
عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى منى فأتى الجمرة فرماها ثم أتى منزله بمنى فنحر ثم قال للحلاق خذ وأشار إلى جانبه الأيمن ثم الأيسر ثم جعل يعطيه الناس وهذا يفيد أن السنة في الحلق البداءة بيمين المحلوق رأسه وهو خلاف ما ذكر في المذهب وهذا الصواب
عمدۃ القاری(277/15) میں ہے:
النوع العاشر أن عند أبي حنيفة يبدأ بيمين الحالق ويسار المحلوق قاله الكرماني في ( مناسكه) وعند الشافعي يبدأ بيمين المحلوق والصحيح عند أبي حنيفة مثله
بذل المجھود(77/5) میں ہے:
وفيه ان الكبير من اقارب الاطفال يتولى امرهم وينظر فى مصالحهم من حلق الرأس وغيره
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved