- فتوی نمبر: 26-21
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تصاویر
استفتاء
بازار میں ملبوسات کی نمائش کے لیے آج کل مختلف قسم کی ڈمیاں(Dummies) دستیاب ہیں۔ ایسی ڈمیاں بنانے اور انہیں خریدنے، بیچنے اور استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جن ڈمیوں(Dummies) میں چہرے کے نقوش (آنکھ، ناک وغیرہ) بنے ہوئے ہوں، ایسی ڈمیاں (Dummies) بنانا، خریدنا، بیچنا جائز نہیں، چاہے وہ ڈمی مرد کی ہو یا عورت کی ہو، کیونکہ یہ مجسمہ ہے۔ اگر ایسی ڈمی خرید لی ہو تو اس کا سر کاٹ کر یا کم از کم چہرے کے نقوش ختم کرکے استعمال کرناجائز ہوگا۔
اور اگر ڈمی کا چہرہ نہ بنایا جائے یا ڈمی کے چہرے کے نقوش نہ بنائے جائیں تو ایسی ڈمی بنانا، بیچنا، خریدنا اور استعمال کرنا سب جائز ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ استعمال کرنے میں ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جو شہوت کو ابھارنے والا ہو مثلاً سینے کے ابھار یا کولہے نمایاں کیے جائیں۔ کیونکہ ایسا طریقہ فساد و گناہ کا سبب بنتا ہے۔
شامی(9/615) میں ہے:
ولينظر هل يحرم النظر بشهوة الى الصورة المنقوشة محل ترد د ولم اره فليراجع.
شامی(9/578) میں ہے:
واما وصف الميتة أو غير المعينة فلا بأس به و کذا الحکم في الامرد……… واما وصف الخدود و الاصداغ و حسن القد و القامة و سائر اوصاف النساء و المرد قال بعضهم فيه نظر و قال في المعارف لا يليق بأهل الديانات و ينبغي ان لا يجوز انشاده عند من غلب عليه الهوی و الشهوة لانه يهيجه على اجالة فکره فيمن لا يحل وماکان سبباً لمحظور فهو محظور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved