• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بچوں کو وراثت سے محروم کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے متوفی شوہر نے 1992ء میں اپنی پہلی زوجہ کو ناگزیر وجوہات کی بناء پر طلاق دے دی تھی،پہلی زوجہ سے دو بچے (ایک بیٹا اور ایک بیٹی) پیدا ہوئے جو تاحال حیات ہیں ،پہلی زوجہ کی طلاق کے بعد 1994ء میں مجھ سے شریعت محمدی کے تحت شادی کی ،مجھ سے میرے شوہر کے چار بچے تولد ہوئے جن میں سے ایک بیٹی ذہنی مریضہ ہے ۔پہلی زوجہ نے غصہ و نفرت رکھتے ہوئے بچوں کی ولدیت بدل کر اپنے والد کا نام لکھوادیا اور اصل حقیقی والد کی ولدیت سے محروم  رکھا ،بچوں کے بالغ ہونے پر بچوں نے بھی سول عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنی ولدیت میں اپنی حقیقی ولدیت ختم کرنے کا مقدمہ دائر کیا ، جج صاحب نے بچوں کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان دونوں بچوں کونانا کانام بطور ولدیت نادرا ریکارڈ میں بھی درستگی کی اجازت دے دی ،بعد ازاں بچوں نے بھی اپنے حقیقی والد سے کوئی رشتہ و تعلق نہ رکھا۔  لیکن حقیقی والد بلا ناغہ تیسرے آدمی کے ذریعہ ان کی پرورش، تعلیم کا تمام خرچہ بھجوا کر  رہے۔  اور مجھے بموجودگی گواہان کہا کہ میں نے اپنے دونوں بچوں کا وراثتی حق ادا کردیا ہے، اب میرے بعد مزید انہیں میری وراثتی جائیداد، بینک بیلنس سے کچھ نہیں دینا۔ لہذا وضاحت فرمادیں کہ ان کےان  معاملات کے بعد شریعت کیا کہتی ہے؟اور مجھ پر کوئی قرض تو نہ ہوگا؟ میرے شوہر کو فوت ہوئے تقریبا پانچ سال ہوگئے ہیں۔

وضاحت مطلوب ہے کہ صرف خرچ ہی دیتے تھے یا اور بھی کچھ دیتے تھے؟

جواب وضاحت:خرچ سے مراد ضروریات زندگی ہیں جو بھی ضرورت ہوتی وہ پوری کرتے تھے مثلاً تعلیم کا خرچ،علاج معالجہ کا خرچ وغیرہ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بچے اپنے والد کے وارث بنیں گے اس لئے کہ حق وراثت میں سے کسی وارث کو محروم  کرنے سے اس کا حق ساقط نہیں ہوتا۔

نوٹ: وراثت آدمی کے فوت ہونے کے بعد جاری ہوتی ہے،زندگی میں نابالغ بچوں اور بالغ بچی کی ضروریات پوری کرنا مرد پر واجب ہے، اور بالغ مذکر اولاد پر خرچ کرنا والد کا احسان اور تبرع ہےلہذا مذکورہ صورت میں والد کا یہ کہنا کہ” میں نے  اپنے دونوں بچوں کا وراثتی حق ادا کردیا ہے، اب میرے بعد مزید انہیں میری وراثتی جائیداد، بینک بیلنس سے کچھ نہیں دینا”اس سے بچوں کا وراثتی حق ختم نہ ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved