- فتوی نمبر: 35-340
- تاریخ: 10 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
اسلام میں قطعی اسباب کو ترک کرنا جبکہ موت کا خوف ہو حرام ہے تو کیا مجبوری کی صورتحال میں بھی بھوک ہڑتال اختیار کرنا حرام ہے ؟ مثلا ً کافروں کی قید میں کوئی مسلمان تنگ آکر بھوک ہڑتال اختیار کرے اور موت کا خوف لاحق ہو جائے تو اس وقت بھوک ہڑتال حرام شمار ہوگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر بھوک ہڑتال کرنے والے کا غالب گمان یہ ہو کہ محض بھوک ہڑتال کی وجہ سے اس کی موت واقع نہ ہوگی اور نہ ہی بھوک ہڑتال کی وجہ سے کوئی مذہبی فریضہ (مثلاً نماز) متاثر ہوگا تو ایسی صورت میں بھوک ہڑتال حرام نہیں بلکہ جائز ہے اور ایسی صورت میں بھوک ہڑتال اسباب قطعیہ کا ترک نہیں اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ محض بھوک ہڑتال کی وجہ سے ( نہ کہ کسی اور سبب سے )موت واقع ہو جائے گی یا کوئی مذہبی فریضہ متاثر ہو جائے گا تو ایسی صورت میں بھوک ہڑتال حرام اور ناجائز ہے اور یہ اسباب قطعیہ کے ترک کرنے میں داخل ہے۔
شامی (6/338) میں ہے:
(الأكل) للغذاء والشرب للعطش ولو من حرام أو ميتة أو مال غيره وإن ضمنه (فرض) يثاب عليه بحكم الحديث، ولكن (مقدار ما يدفع) الإنسان (الهلاك عن نفسه) ومأجور عليه (و) هو مقدار ما (يتمكن به من الصلاة قائما)
(قوله يثاب عليه إلخ) ……….. فإن ترك الأكل والشرب حتى هلك فقد عصى؛ لأن فيه إلقاء النفس إلى التهلكة وإنه منهي عنه في محكم التنزيل
کفایت المفتی (9/306) میں ہے:
سوال: (1) جیل میں اگر اذان سے روک دیا جائے تو پھر کیا کرنا چاہیے ؟
(2)جیل میں اگر پانی نہ ملے یا جیل والے عمدا ًپانی نہ لینے دیں تو نماز کی ادائیگی کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟
(3)جیل میں اگر وہ باجماعت نماز نہ پڑھنے دیں تو کیا صورت ہوگی ؟(4) مقاطعہ جوعی بطور احتجاج برخلاف بدسلوکی کے کیا جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب : (1)اذان دینے کی کوشش کرنی چاہیے اور جب کہ کسی طرح جابر حکام اجازت نہ دیں تو بغیر اذان نماز پڑھ لی جائے ۔
(2)جیل میں اگر جابر حکام وضو کے لیے پانی نہ دے اور کسی طرح پانی دستیاب نہ ہو اس کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو تیمم سے نماز پڑھ لے ۔
(3)جماعت سے نماز پڑھنے کی اجازت کے لیے کوشش کی جائے اور اگر کسی طرح بھی اجازت نہ ملے تو فورا ً نماز پڑھ لی جائے ۔
(4)مقاطعہ جوعی اس حد تک کہ ہلاکت کا گمان غالب نہ ہو جائے جائز ہے۔
مسائل بہشتی زیور (2/438) میں ہے:
کوئی ایسا ذی وجاہت شخص ہو جس کی بھوک ہڑتال کرنے سے جائز مطالبہ پر اچھا اثر پڑے گا تو وہ مندوب اور مباح درجہ کو چھوڑ سکتا ہے لیکن ایسی بھوک ہڑتال کہ جس میں فرض نماز پڑھنے کی قوت ختم ہو جائے یا موت کا اندیشہ ہو جائے جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved