- فتوی نمبر: 35-341
- تاریخ: 10 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھیل و تفریح
استفتاء
کیا مردوں کیلئے گالف کھیلنا جائزہے؟
تنقیح از مجیب :گالف ایک خاص میدان میں کھیلی جاتی ہے، جس میں گول اور سکورنگ کے لیےکم از کم 18 سوراخ کیے جاتے ہیں۔میدان میں تالاب، درخت اور مٹی کے بنکر بنائے جاتے ہیں تاکہ بال کو سوراخ میں پھینکنا اتنا آسان نہ ہو۔عام طور پر یہ کھیل یوں کھیلا جاتا ہے کہ میدان کے کئی حصے ہوتے ہیں مثلا ایک میدان میں چار حصے ہوتے ہیں اور ہر حصے میں چند ہولز (سوراخ) ہوتے ہیں ، کھلاڑی چار گروپ بنا لیتے ہیں اور ہر گروپ میدان کے ایک حصے میں کھیلنا شروع کر دیتا ہے ہر گروپ چند کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے مثلا ہر گروپ میں چار کھلاڑی ہیں ہر کھلاڑی باری باری شاٹ کھیلتا ہے جس کی بال سب سے دور جاتی ہے وہ پہلے اگلا شاٹ کھیلتا ہے پہلی شاٹ کھیلنے کے بعد سب اپنی اپنی بال کی طرف چلنے لگتے ہیں اور پھر اگلی شاٹس کھلتے ہیں اس کھیل سے جسمانی ورزش ہوتی ہے کیونکہ یہ میدان بہت بڑا ہوتا ہے اور ہر کھلاڑی اس میں اپنی گیند کی طرف چلتا رہتا ہے مزید اس سے ذہنی تفریح بھی حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ میدان تالاب ،درختوں وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہمیں اس کھیل کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں جنہیں معلومات ہیں وہ یہ دیکھ لیں کہ اس کھیل میں کفار یا فساق کے ساتھ مشابہت تو نہیں ہے؟ اگر مشابہت ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے اور جواز بھی اس شرط کے ساتھ ہے کہ ورزش یا تفریح طبع کی نیت سے کھیلا جائے کھیل برائے کھیل یا وقت گزاری کے لیے نہ ہو ۔اور دینی فرائض مثلا فرض نماز کی ادائیگی میں کوتاہی کا باعث نہ ہو۔
امدادالمفتین (831/2) میں ہے:
سوال: لہوولعب ممنوعہ میں کس قسم کے کھیل داخل ہیں لہوولعب جس کی ممانعت شریعت میں آئی ہے اس کی کیا شناخت ہے؟انگریزی کھیل مثلاً ٹینس،فٹ بال،کرکٹ،اور اسی قسم کے دوسرے کھیل کھیلنا کیسا ہے؟
الجواب: قال في الدر المختار من الكراهية وكره كل لهو لقوله عليه السلام كل لهوالمسلم حرام الا ثلاثة ملاعبة اهله وتاديبه لفرسه ومناضلة بقوسه.
قال الشامي: اي كل لعب وعبث الى قوله والمزمار والصنج والبوق فانها كلها مكروهة لانهازي الكفار….الخ (شامی ص ٢٧٥مصری جلد٥)
وفي القهستاني عن الملتقط من لعب بالصولجان يريد الفروسية يجوز وعن الجواهر قدجاء الاثر في رخصة المصارعة لتحصيل القدرة على المقابلة دون التلهي فانه مكروه(شامی کتاب الحظروالاباحة ص٢٨١ج٥)
وفي الدر المختار والمصارعة ليست بدعة الا للتلهي فتكره وفي الشامی اقول قدمنا عن القهستاني في جواز اللعب بالصولجان وهو الكرةللفروسية و في جواز المسابقة بالطير عندنا نظر وكذا في جوازمعرفة ما في اليد واللعب بالحاثم فانه لهو مجرد (شامی جلد٥ص٢٨٢)
احادیث جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں ان سے نیز عبارت فقہیہ مندرجہ بالا سے کھیل کے بارے میں تفصیلات ذیل مستفید ہوئیں ۔(الف)وہ کھیل جس سے دینی یا دنیوی کوئی معتدبہ فائدہ مقصود نہ ہو وہ ناجائز ہے اور وہی حدیث کا مصداق ہے (ب)جس کھیل سے کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ معتد بہا مقصود ہو وہ جائز ہے بشرطیکہ اس میں کوئی امرخلاف شرع ملا ہوا نہ ہو اور منجملہ امور خلاف شرع تشبہ بالکفار بھی ہے۔(ج)جس کھیل سے کوئی فائدہ دینی یا دنیاوی مقصود ہو لیکن اس میں کوئی ناجائز اور خلاف شرع امر مل جائے تو وہ بھی نا جائز ہو جاتا ہے جیسے تیر اندازی یا گھوڑدوڑ وغیرہ جب کہ اس میں قمار کی صورت پیدا ہو جائے ،دونوں طرف سے کچھ مال کی شرط لگائی جائے تو وہ بھی ناجائز ہو جاتی ہیں یا کوئی کھیل کسی خاص قوم کفارکامخصوص سمجھا جاتا ہو وہ بھی ناجائز ہوگا۔للتشبہ الممنوع ۔
لہذا معلوم ہوا کہ گیند کے کھیل خواہ کرکٹ وغیرہ ہو یا دوسرے دیسی کھیل فی نفسہٖ جائز ہیں کیونکہ ان سے تفریح طبع اورورزش و تقویت ہوتی ہے جو دنیاوی اہم فائدہ بھی ہے اور دینی فوائد کے لئے سبب بھی لیکن شرط یہی ہے کہ یہ کھیل اس طرح پر ہوں کہ ان میں کوئی امر خلاف شرع اور تشبہ بالکفار نہ ہو لباس اور طرز وضع میں انگریزیت نہ ہو اور نہ گھٹنے کھلے ہوئے ہوں نہ اپنے اور نہ دوسروں کے اور نہ اس طرح اشتغال ہو کہ ضروریات اسلام نماز وغیرہ میں خلل آئے اگر کوئی شخص ان شرائط کے ساتھ کرکٹ ٹینس کھیل سکتا ہےتو اس کے لئے جائز ہے ورنہ نہیں۔ آج کل چونکہ عموما یہ شرائط موجودہ کھیلوں میں موجود نہیں اس لئے ان کو ناجائز کہا جاتا ہے
جواہرالفقہ(4/573)میں ہے:
جن کھیلوں سے کچھ دینی یا دنیاوی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں،وہ جائز ہیں،بشرطیکہ انہیں فوائد کی نیت سے ان کو کھیلا جائے،محض لہوولعب کی نیت نہ ہو،لیکن اس کی بازی پر کوئی معاوضہ یاانعام مشروط مقرر کرنا جائز نہیں۔مثلاً گیند کاکھیل کہ اس سے جسمانی ورزش ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved