• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر کا تین مرتبہ ” میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” کہنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

بیان حلفی شوہر

میں زید  ولد خالد حلفاً اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میرا میری بیوی کے ساتھ مختلف اوقات میں گھریلو جھگڑا ہوا  مگر میں نے کبھی اپنے بیوی کو طلاق کا نہیں کہا  اور نہ ہی طلاق دی البتہ میری بیوی نے ہر بار مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا ، شادی ہوتے ہی ہمارے جھگڑے شروع ہو گئے تھے جس پر اس کے والدین کو بلایا جاتا اور وہ اس کو بھی پانچ دن کبھی دس دن کے لیے اپنے گھر لے جاتے تاکہ اس کو سمجھا سکیں اور اس کا رویہ مزید بہتر کر سکیں،  شروع شروع میں یہ لڑائی جھگڑا کرتی تھی تو میں سوچتا تھا شاید نئی نئی شادی ہوئی ہے اس وجہ سے ایسا ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ معاملات مزید بگڑتے گئے ، یہ اپنے ماں باپ کے گھر چار مہینے  بھی رہ کر آئی ہے لیکن ان چار مہینوں کا اس پر کوئی اثر نہ پڑا خیر جرگے کے فیصلے پر میں اس کو اپنے گھر واپس لے آیا ہم پہلے کی طرح رہنے لگے میرے روکنے کے باوجود میری بیوی گھر سے باہر گئی پہلے دن برداشت کر لیا اور مزید روکا کہ دوبارہ ایسا نہ کرنا ،منع کرنے کے باوجود میری بیوی دوسرے دن پھر گھر سے باہر کسی کے  گھر چلی گئی اس بات پر ہماری لڑائی ہوئی اور اس نے بجائے اپنی غلطی ماننے کے آگے سے بدتمیزی زبان درازی شروع کر دی جس پر میں نے اس کو فون پر بولا کہ” میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں” طلاق 25 مارچ 2025  کو دی، اس  کے بعد میں مفتی صاحب کے پاس گیا اور ان کے بتانے پر میں نے ایک ماہ کے اندر  رجوع کر لیا اور ہم پہلے کی طرح رہنے لگے لیکن اس طلاق کے بعد بھی میری بیوی کا رویہ میرے ساتھ بہتر نہ ہو سکا اور لڑائی جھگڑے کرنا اور برا بھلا کہنا اس کی عادت بن گئی پھر 01-05-2025کو ہماری  کسی بات پر تکرار شروع ہو گئی جس نے معاملات کو مزید بگاڑ دیا اور میں نے اس کے مامو ں کو کال کی کیونکہ ان سے یہ ڈرتی تھی، ماموں  نے کال سن کر آگے سے مجھے ماں کی گندی گالی دینا شروع کر دی   اور کال بند کر دی میں نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد میں نے اپنے سسر کو کال ملائی ان سے بات کی اور معاملات کے بارے میں آگاہ کیا اور ان کو دعوت دی کہ آپ آئیں اور اس مسئلے کو حل کریں جس پر مجھے کوئی مثبت جواب نہیں ملا اور کال بند کر دی گئی اس کے بعد میں نے اس کے بھائی کو کال کی ان کو اس معاملے کے بارے میں آگاہ کیا اور ان کو ادھر آنے کی دعوت دی کہ آپ لوگ آج شام چھ سے سات بجے تک آ جائیں اور بیٹھ کر ان  معاملات کو بہتر کر کے جائیں لیکن وہ لوگ نہیں آئے اور کال پر بھائی ہونے کے ناطے اس کو غصہ کیا اور سمجھایا لیکن اس کو کوئی فرق نہیں پڑا اس کے بعد  بھی میری بیوی  کی زبان بند نہ ہوئی لگاتار چلتی رہی جس پر میں  اپنے کمرے سے نکل کر باہر چلا گیا اور دوسرے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا میں نے اس کو اپنے کمرے میں رہنے کو کہا اور خاموش ہونے کا بولا جس پر اس کو کوئی اثر نہ ہوا اور یہ دوسرے کمرے میں آگئی اور پھر سے بدتمیزی شروع کر دی  تو  میں نے اس کو غصے  میں آکر بول دیا” میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں”

بیان حلفی بیوی:

میں فاطمہ  اپنے ہوش و حواس میں بغیر کسی دباؤ کے لکھ  رہی ہوں۔ میری غلطی کی وجہ سے میرے شوہر نے مجھے کہا  کہ “میں تمہیں اپنے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں ” ہر وقت لڑائی کی وجہ سے یہ نوبت آئی میرے شوہر نے مجھے روٹی ، کپڑا سب کچھ دیا میرے شوہر نے کال  کر کے گھر والوں کو بلایا  تاکہ معاملات حل ہو جائیں انہوں نے بولا کہ ہم نے شام کو کسی کام کے لیے جانا ہے اگر وہ آجاتے تو  میرا گھر بچ جاتا۔

وضاحت مطلوب ہے: 1۔ طلاق کے کتنا عرصہ بعد رجوع ہوا تھا؟ 2۔ غصے کی کیفیت کیا تھی؟

جواب وضاحت: 1۔  پہلی طلاق 25 مارچ 2025 کو دی تھی اور طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ ” میں اپنے ہوش وحواس میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں،ایک ماہ  کے اندر اندر میں نے رجوع کرلیا تھا  پھر دوسری طلاق 01 مئی 2026 کو دی اور طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ ” میں اپنے ہوش وحواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں”2۔ دونوں دفعہ غصے میں طلاق دی اور  مجھے یہ معلوم تھا کہ  میں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں ، میں نے کوئی توڑ پھوڑ بھی نہیں کی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں  واقع ہو چکی ہیں  لہذا اب نہ صلح ہو سکتی ہے  اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔

توجیہ : مذکورہ صورت میں اگرچہ دونوں مرتبہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے  لیکن دونوں مرتبہ غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے نہ ہی اس سے کوئی خلاف عادت افعال و اقوال صادر ہوئے ہیں اور غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا پہلی مرتبہ شوہر کے ان الفاظ سے کہ “میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “سے ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی اور عدت میں رجوع کر لینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا پھر دوسری مرتبہ شوہر کے ان الفاظ سے کہ “میں اپنے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں “مزید دو طلاقیں واقع ہو گئیں   اور  سابقہ طلاق سمیت کل تین طلاقیں ہو گئیں  جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ۔

شامی(3/247) میں ہے:

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ….. (واحدة رجعية…..

درمختار (4/509) میں ہے:

كرر لفظ الطلاق وقع الكل.

(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

بدائع الصنائع (3/101) میں ہے:

‌أما ‌الصريح ‌فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: ” أنت طالق ” أو ” أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة ” مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها

رد المحتار(4/439) میں ہے:

وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه……………

(وبعد اسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

ہندیہ  (1/470) میں ہے:

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.

بدائع الصنائع (3/187)  میں ہے:

‌وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة

ہندیہ (1/473) میں ہے:

وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved