• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غصے میں طلاق دینے کا حکم

استفتاء

بیوی کا بیان:

 میرا نام زینب ہے میرے چار بچے ہیں جن میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے،  پندرہ روز پہلے میرے شوہر بیمار تھے، میں نے انہیں یہ کہا کہ آپ اپنے ٹیسٹ کروا لیں، چار دن سے میں روزانہ یہی کہہ رہی تھی کہ آپ اپنے ٹیسٹ کروا لیں، اس بات پر انہیں غصہ آگیا اور انہوں نے مجھے تین مرتبہ ’’طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ بول دیا، اس دوران میں نے بھی تھوڑی سی زبان چلائی تھی، میری چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے میرے اور میرے شوہر کے درمیان جھگڑا ہو جاتا ہے، تین سال پہلے بھی ایک بار انہوں نے طلاق کا لفظ بولا تھا کہ ’’میں طلاق دے دوں گا‘‘ اب آپ اس کا حل بتائیں کہ کتنی طلاقیں ہو گئی ہیں؟

شوہر کا بیان:

تین سال پہلے میں نے کہا تھا کہ ’’میں طلاق دے دوں گا‘‘ اور ابھی جب تین دفعہ طلاق کے الفاظ بولے تو میری طبیعت بہت خراب تھی اور مجھے شدید بخار تھا، اس وقت میرے ہوش و حواس میرے قابو میں نہیں تھے، اگلے دن میں نے ٹیسٹ کروایا تو اس میں ڈینگی آیا، الفاظ میں نے یہی کہے تھے کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ تین دفعہ یہ الفاظ  کہے تھے، اس وقت مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں لیکن میری طلاق کی نیت نہیں تھی،    کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا تھا، اس وقت وہاں میری ساس اور بیوی کی  بھابھی موجود تھیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے  بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے  لہذا   اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے ۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں تین سال پہلے شوہر نے جب یہ کہا تھا کہ ’’میں طلاق دے دوں گا‘‘ تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہ مستقبل کے الفاظ ہیں اور مستقبل کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی،  پھر پندرہ دن پہلے جب شوہر نے تین بار یہ کہا کہ  ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ تو ان الفاظ کے کہنے سےتینوں طلاقیں واقع ہو گئیں کیونکہ     اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں مذکورہ الفاظ بولے  ہیں، لیکن غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ  اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، اور نہ ہی اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل سرزد  ہوا،  غصہ کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔

عالمگیری (384/1) میں ہے:

فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا.

فتاوی شامی (4/439) میں ہے:

قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل علی عدم نفوذ أقواله ……….فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن ادراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:

كرر لفظ الطلاق وقع الكل.

(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved