- فتوی نمبر: 26-65
- تاریخ: 14 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > شرکت کا بیان > مشترکہ خاندانی نظام
استفتاء
کیا فتویٰ ہے ہمارے اس مسئلہ پر دارالافتاء کا کہ ہم چاربہن بھائی ہیں،ایک بڑے بھائی دوسری والدہ سے ہیں اور ہم تین چھوٹے دو بہن اور ایک بھائی ایک والدہ سے ہیں۔ ہمارے والد نے ہمارے لیے وراثت میں ایک گھر رہائشی (جس میں ہماری بیوہ والدہ اور ایک بھائی رہتے ہیں) اور کچھ جائیداد مدینے میں (جس سے کچھ کرایا آتا تھا جو شریعت کے حساب سے ہم سب کو ملتا تھا) چھوڑی ہے۔ ہمارے والد کے بعد ہمارے چچا نے ہم چاروں بہن بھائیوں کے بیچ ایک معاہدہ کروایا جو تحریر میں موجود ہے۔(تحریر ساتھ لف ہے)
ہمارے چچا خالد نے اس (معاہدے)میں تحریر کیا ہے کہ اس مکان کے دو تہائی جو ہم چاروں کی وراثت ہے (کیونکہ والد صاحب کے ساتھ معاہدہ کی وجہ سے ایک تہائی ہمارے چچا خالد کے حصے میں آ گیا تها) اس میں سے ایک تہائی کی قیمت مبلغ چار لاکھ روپے ہے جس کو پچاس ہزار روپے سالانہ کی قسط سے آٹھ سال میں ہم تینوں اپنے بڑے بھائی زید ولد بکر کو ادا کریں گےاس کے بعد ہمارے بھائی زید کا اس ورثہ میں دخل نہ ہو گا اس معاہدے پر ہم چاروں بہن بھائیوں نے رضا اور خوشی سے دستخط کیئے اور ہمارے چچا نے سب سے زبانی بار بار اس کی تصدیق بھی کروائی اور زید سے بھی پوچھا کہ تمہیں آٹھ سال میں تمہاری رقم ادا ہونے پر کوئی اعتراض تو نہیں؟تو انہوں نے اپنی رضا اور خوشی کا اظہار کیا، ثبوت کے طور پر اس معاہدے پر ان کے دستخط بھی موجود ہیں اس معاہدے میں تاریخ کی کوئی قید نہیں تھی اورنہ ہی دن کی کوئی قید تھی بلکہ ہمارے چچانے زید کے سامنے ہم سےزبانی یہ معاہدہ بھی کروایاکہ یہ رقم ہم اپنے آنے والے کرائے سے ادا کریں گے کیونکہ واجد کے حالات ایسے نہیں تھے اور نہ ہیں کہ وہ جیب خاص سے یہ رقم ادا کرے،یہ سب باتیں ہمارے چچا نے ہمیں زبانی سمجھائی تھی ،پھر ہم نے رقم ادا کرنی شروع کر دی اورسوادو لاکھ روپے ادا ہوگئے اور پونے دولاکھ رہ گئے پھراچانک وہ ذریعہ آمدن ختم ہو گیا جس سے رقم ادا ہونی تھی جس کی وجہ سے ہم ان کو سالانہ پچاس ہزارروپے ادا نہ کر سکے اور اب ہم انہیں یکمشت پونے دو لاکھ روپےدے رہے ہیں تو زید اب رقم کو بڑھانے کامطالبہ کر رہے ہیں اورمعاہدے کو خارج کر رہے ہیں،چند مہینے آگے پیچھے ہونے سے مجبوری کے تحت تھوڑی سی تاخیر ہونے پر رقم کو دوگنا مانگ رہے ہیں جس کی ہماری استطاعت نہیں ہے۔تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر رقم دینے میں تاخیر ہو جائےتو کیا رقم کو دوگنا کرنا جائز ہے؟ کیا یہ سود کی انتہائی نازیبا شکل نہیں ہے ؟ کیاایک فریق کے معاہدہ خارج کرنے پر معاہدہ ٹوٹ جائے گا ؟َآپ کا کیا فتویٰ ہے؟ برائے مہربانی قرآن اور سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید اسی رقم کے حق دار ہیں جو معاہدہ میں طے ہوئی تھی (یعنی چارلاکھ روپے) اور صرف ان کے معاہدہ توڑنے سے معاہدہ نہیں ٹوٹے گا،البتہ اگر تاخیر کی وجہ سے روپے کی قدر گھٹ گئی ہے (یعنیDevalueہو گئی ہے) تو زید اپنی بقیہ رقم بصورت چاندی وصول کر سکتے ہیں یعنی جس وقت ان کو جتنی رقم ملنی تھی اس وقت اتنی رقم کی جتنی چاندی آتی تھی اتنی چاندی آج وصول کر لیں۔
توجیہ:مذکورہ معاہدے کی حقیقت یہ ہے کہ زید نے مذکورہ مکان میں سے اپنا حصہ اپنے بہن بھائیوں کو چار لاکھ کے بدلےمیں بیچ دیااور ثمن ادھار طے کر کے اس کی قسطیں مقرر کر لیں جس سے بیع مکمل ہو گئی لہذا اب زید ثمن کے کچھ حصے کی تاخیر کی وجہ سےخریداروں(باقی بھائی بہنوں) کی رضا مندی کے بغیر اس بیع کو فسخ نہیں کر سکتے البتہ تاخیر کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی تلافی مذکورہ طریقے سے کر سکتے ہیں۔
نوٹ:ہمارا یہ جواب صرف ایک فریق کے بیان کے مطابق ہےلہذا اگر دوسرے فریق کا بیان مذکورہ بیان سے مختلف ہوا تو یہ جواب بدل سکتا ہے۔
ردالمحتار(7/53)میں ہے:
’’وفي الذخيرة عن المنتقى إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت. قال: أبو يوسف، قولي وقول أبي حنيفة في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال: عليه قيمتها من الدراهم، يوم وقع البيع ويوم وقع القبض. اهـ. وقوله: يوم وقع البيع أي في صورة البيع، وقوله: ويوم وقع القبض أي في صورة القرض كما نبه عليه في النهر في باب الصرف‘‘
درمختار(7/338)میں ہے:
’’هي [الاقالة] رفع البيع…وتتوقف علي قبول الآخر في المجلس.‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved