• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رکوع جاتے اوراُٹھتے ہوئے رفع الیدین کاحکم

استفتاء

حضور ﷺ رکوع جاتے وقت  رفع الیدین  کرتے تھے   اور رکوع  سے اٹھتے وقت رفع الیدین  کرتے تھے اور تیسری رکعت میں رفع الیدین  کرتے تھے یانہیں کرتے تھے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ ﷺ سے تیسری رکعت میں بھی رفع یدین کرنا  ثابت ہے بلکہ تیسری رکعت کے علاوہ  دوسری جگہوں  یعنی سجدہ کوجاتے ہوئے اور  سجدہ سے اٹھتے ہوئے  بھی رفع یدین کرنا ثابت ہے ۔اسی طرح ایسی  احادیث  بھی  ہیں جن سے  معلوم  ہوتا ہے کہ  آپﷺ صرف تکبیر تحریمہ  کے ساتھ رفع یدین  کرتے تھے نیز  خلفائے راشدین  اور دیگر متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم  بھی نماز  میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ  رفع یدین نہیں کرتے تھے ،جس  سے معلوم ہوتاہے کہ آخر  میں آپﷺ نے تکبیر تحریمہ  کے علاوہ رفع یدین  کرنا چھوڑ دیا تھا ۔

تیسری رکعت  میں رفع یدین کی دلیل:

صحيح البخاری (رقم الحدیث739) میں ہے:

 عن نافع أن ابن عمر كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه وإذا ركع رفع يديه وإذا قال سمع الله لمن حمده رفع يديه وإذا قام من الركعتين رفع يديه ورفع ذلك ابن عمر إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم

ترجمہ : نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر (تحریمہ) کہتے اور اپنے ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور جب رکوع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب سمع الله لمن حمده کہتے تو رفع یدین کرتے اور جب دو رکعتوں کے بعد (تشہد پڑھ کر)   اٹھتے تو رفع یدین کرتے اور انہوں نے اس کی نسبت نبی ﷺکی طرف کی۔

دوسری جگہوں میں رفع یدین کی دلیل:

سنن النسائی(رقم الحدیث،1085)میں ہے:

 عن مالك بن الحويرث أنه : رأى النبي صلى الله عليه و سلم رفع يديه في صلاته وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع وإذا سجد وإذا رفع رأسه من السجود حتى يحاذي بهما فروع أذنيه

ترجمہ: حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی نمازمیں رفع یدین کیا جب آپ نے رکوع کیا اور جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور جب آپ نے سجدہ کیا اور جب آپ نے سجدہ سے اپنا سر اٹھایا۔(اور ہاتھوں کو اتنااٹھاتے تھے  )حتی  کہ کانوں کے کناروں  کے برابر کرتے۔

صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کی دلیل:

مسند الحميدی(رقم الحدیث ،614) میں  ہے:

أخبرني سالم بن عبد الله عن أبيه قال : رأيت رسول الله ﷺ إذا أفتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه وإذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع فلا يرفع ولا بين السجدتين”

ترجمہ :حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو  کندھوں تک  اٹھاتے اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو ہاتھوں کو نہیں اٹھاتے تھے اور نہ ہی دو سجدوں کے درمیان ہاتھ اٹھاتے تھے۔

سنن النسائی(رقم الحدیث 1059 )میں  ہے:

“عن عبد الله رضي الله عنه انه قال:” الا اصلي بكم صلاة رسول الله ﷺ فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة واحدة “

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا۔

مسند أبی يعلىٰ (رقم الحدیث ،5039)میں ہے:

حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا محمد بن جابر عن حماد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر فلم يرفعوا أيديهم إلا عند افتتاح الصلاة وقد قال محمد فلم يرفعوا أيديهم بعد التكبيرة الاولى

ترجمہ :سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  فرمایا  کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے  ساتھ نمازپڑھی ہے اور سیدنا ابوبکر  صدیق  وسید نا  عمر فاروق  رضی اللہ  عنہما کے ساتھ بھی پڑھی  ہے ۔ پس آپ حضرات رفع الیدین نہیں کرتے تھے  مگر شروع کے وقت ۔

الموطأ للامام محمد بن الحسن (رقم الحدیث،105)میں ہے:

قال محمد : أخبرنا محمد بن أبان بن صالح عن عاصم بن كليب الجرمي عن أبيه قال: رأيت على بن أبي طالب رفع يديه في التكبيرة الأولى من الصلاة المكتوبة ولم يرفعهما فيما سوى ذلك

ترجمہ:سیدنا کلیب الجرمی رحمہ اللہ  سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے سیدنا علی بن ابی  طالب  رضی اللہ عنہ  کو دیکھا  کہ آپ رضی اللہ عنہ  نماز مکتوبہ کی تکبیر  اولیٰ میں رفع الیدین کرتے تھے اور اس کے سوانمازمیں  کسی جگہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے ۔

شرح معانی الآثار (رقم الحديث،1357) میں ہے:

حدثنا ابن أبي داود، قال: ثنا أحمد بن يونس، قال: ثنا أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، قال: ” صليت خلف ابن عمر رضي الله عنهما فلم يكن يرفع يديه إلا في التكبيرة الأولى من الصلاة “

ترجمہ :حضرت مجاہد  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ  بن عمر  رضی اللہ عنہما کے  پیچھے  نماز پڑھی تو انہوں نے  رفع یدین نہیں کیا مگر نماز کی پہلی تکبیر میں ۔

الموطأ للامام محمد بن الحسن (رقم الحدیث،104) میں ہے:

أخبرنا مالك أخبرني نعيم المجمر وأبو جعفر القارئ  أن أبا هريرة : كان يصلي بهم فكبر كلما خفض ورفع قال أبو جعفر : وكان يرفع يديه حين يكبر ويفتتح  الصلاة

 ترجمہ:نعیم المجمر اور ابو جعفر القاری  رحمہما اللہ  سے روایت ہے  کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  ان کو نما ز پڑھا تے تھے  تو ہر اونچ نیچ میں تکبیر  کہتے تھے ۔ ابو جعفر  القاری رحمہ اللہ کہتے ہیں  کہ حضرت  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رفع یدین نماز کے شروع میں  تکبیر   تحریمہ کے وقت کرتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved