• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اس نیت سے زیادہ مہر رکھنا کہ طلاق نہ ہو

استفتاء

شریعت میں زیادہ مہر رکھنا کیسا ہے؟  مہر اس  لیے زیادہ رکھنا ہے کہ میاں بیوی کا تعلق اچھا رہے، اگر خاوند کو طلاق کی سوچ آئے تو مہر کو دیکھ کر طلا ق کا نہ سوچے کیونکہ اس کا بعد میں ادا کرنا مشکل ہوگا اس لیے زیادہ مہر رکھنا کیسا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مہر مثل سے زیادہ رکھنا جائز  ہے  مگر پسندیدہ نہیں ہے، البتہ اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے  کہ خدا نخواستہ ایسا نہ ہو کہ شوہر نہ بسائے اور مہر زیادہ ہونے کی وجہ سے طلاق بھی نہ  دے۔

توجیہ : مہر کی کم سے کم مقدار تو متعین ہے لیکن زیادہ سے زیادہ مہر کی کوئی مقدار نہیں ہے اور مذکورہ بالا نیت کرنے میں شرعا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، لمولانا عبد الحق الدہلویؒ  (6/85) میں ہے:

عن عمر بن الخطاب قال: ألا ‌لا ‌تغالوا صدقة النساء، فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم، ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه، ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عثسرة أوقيه. رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

وقوله: (على أكثر من اثنتي عشرة أوقية) ………. وقد ورد أن امرأة قالت حين قاله عمر -رضي الله عنه-: كيف ذلك وقد قال الله تعالى: {وآتيتم إحداهن قنطارا}؟ [النساء: 20] فقال عمر رضي الله عنه: كلكم أعلم من عمر، فكان هذا تواضعا منه رضي الله عنه، وإلا فالكلام كان في الأفضل والأولى، لا في أصل الجواز، فلا يرد ما قالت وما ذكر في الآية مبالغة في عدم الأخذ

شامی (4/220) میں ہے:

(‌أقله ‌عشرة دراهم) ………. (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر

فتاوی محمودیہ(12/37)میں ہے:

سوال:قوم کے سربرآور دہ لوگوں نے یہ تجویز پاس کی ہے کہ آئندہ سب لوگوں کو اپنی اولاد کے نکاح ۲۵روپے سے زیادہ پر نہ کرنا چاہئے ، چنانچہ تمام قوم اس کی پابند ہے،مخالف پر جرمانہ وغیرہ کیا جاتا ہے  تو تعیین مہر کا ان لوگوں کو حق ہے یا نہیں ؟اور صحت نکاح میں کوئی خرابی ہے یا نہیں ؟

جواب: مہرپچیس روپیہ یا اس سے زائد یا اس سے کم دس درہم تک مقرر کرنا جائز ہےاور بہر صورت نکاح صحیح ہوجاتا ہے۔کم کی مقدار دس درہم شریعت کی جانب سے متعین ہے، زیادہ کی مقدار متعین نہیں ، کسی اور کو انتہائی مقدار لازمی طور پر متعین کرنے کا حق حاصل نہیں  ،نہ کسی کی تعیین سے متعین ہوسکتی ہے، البتہ زیادہ مہر مقرر کرنا کچھ فضیلت کی بات نہیں خصوصا جب کہ اس کی وسعت بھی نہ ہو۔

احکام اسلام عقل کی نظر میں، از  حکیم الامت  مولانا اشرف علی تھانویؒ (ص:154) میں ہے:

نکاح میں یہ بات متعین ہوئی کہ مہر مقرر کیا جائے تاکہ خاوند کو اس نظم اور تعلق کے توڑنے میں مال کے نقصان کا خطرہ لگا رہے اور بلا ایسی ضرورت کے جس کے بغیر اس کو چارہ نہ ہو اس پر جرأت نہ کر سکے پس مہر کے مقرر کرنے میں ایک قسم کی پائیداری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved