- فتوی نمبر: 26-115
- تاریخ: 20 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
میں ایک کمپنی میں بطور ٹرالر ڈرائیور نیا بھرتی ہوا ہوں ایک بڑا محکمہ ہے بہت سے ڈرائیور ہیں 33000روپے تقریبا ہماری تنخواہ ہے اس میں کھانےکے پیسے شامل ہیں جس کی مرضی جتنی خرچ کرے اس کے علاوہ فی کلومیٹر2/ روپے کے حساب سے بھی جلد یا بدیر ہمیں پیسے علیحدہ ملنے ہوتے ہیں تاہم ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی زیادہ ہے روٹی جیب سے کھانی پڑے تو ہماری تنخواہ تو یہیں کھپ جائے گی نیز جو وزن کراچی سے بھر کر ملک کے دیگر علاقوں میں لے جاتے ہیں وہاں وزن کم پڑنے پر عائد ہونے والا جرمانہ جو کم وبیش 13000روپے تک ہو سکتا ہے وہ بھی ڈرائیور کے ذمہ پڑتا ہے اور میرے جیسے آنے والے نئے ڈرائیور جن کی پہلی تنخواہ آتے آتے دوسےتین ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے ان کو بھی پرانے ڈرائیورکھانا کھلاتے ہیں اس لئے ڈرائیور لوگ ادارے کی طرف سے ملنے والے مختص ڈیزل میں سے بیچ کر اپنا خرچہ چلاتے ہیں کیا یہ ڈیزل بیچ کر اپنے اخراجات پورے کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر ادارے کی طرف سے اس کی اجازت ہو تو جائز ہے ورنہ جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved