- فتوی نمبر: 26-118
- تاریخ: 20 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > عیدگاہ و قبرستان کے احکام
استفتاء
ہمارے گاؤں*** تحصیل ***ضلع ***میں مسلمانوں کا قبر ستان ہے جس میں مسلمانوں کی تدفین ہوتی ہے لیکن بالکل ساتھ عیسائی برادری کا قبر ستا ن تھا اور 50سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے کہ عیسائی برادری کی نہ کوئی تدفین ہوئی ہے اور نہ ہی ہمارے گاؤں میں اس وقت عیسائی برادری ہے ۔کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ جس جگہ پر عیسائی لوگوں کا قبرستان تھا جومسلمانوں کے قبرستان کے ساتھ متصل ہے جس کا نام ونشان مٹ چکاہے اوروہاں کوئی بھی قبر نہیں ہے جبکہ وہ جگہ فالتوبھی ہےکہ ہم عیسائیوں کی جگہ کومسلمانوں کی جنازگا ہ کے لیے استعمال کریں ؟اس بابت فتویٰ جاری کیا جائے ۔
تنقیح :قبرستان کی زمین سرکاری ہے کسی کی ملکیت نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے تو اہل علاقہ عیسائیوں کے قبرستان کو جنازگاہ کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں ۔
ردالمحتار (3/164)میں ہے:
قال في الأحكام لا بأس بأن يقبر المسلم في مقابر المشركين إذا لم يبق من علاماتهم شيء كما في خزانة الفتاوى وإن بقي من عظامهم شيء تنبش وترفع الآثار وتتخذ مسجدا لما روي أن مسجد النبي كان قبل مقبرة للمشركين فنبشت كذا في الواقعات اه
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved