• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میت کو دفن کرنے کے بعد منتقل کرنے کا حکم

استفتاء

میرے والد صاحب ***صاحب کا دس ماہ پہلے انتقال ہوا، والد صاحب کو ہم نے اپنی ذاتی زمین (***) میں امانتاً  دفن کیا، کل جگہ تین مرلہ ہے جب کہ ہمارا آبائی گاؤں چک نمبر ***ضلع **ہے، ہم یہ تین مرلہ جگہ جو ***میں ہے بیچنا چاہتے ہیں لیکن والد صاحب کی قبر کی وجہ سے کوئی اس کو خریدنے کو تیار نہیں۔ کیا ہم قبر کھول کر والد صاحب کی میت کو اپنے آبائی گاؤں لے جاسکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

میت کو امانت کے طور پر دفن کرنے کا شریعت میں کوئی تصور نہیں، لہذا مذ کورہ صورت میں آپ کے لئے اپنے والد کی میت کو قبر سے نکالنا جائز نہیں چاہے کتنا ہی عرصہ گزر جائے، تاہم جب آپ کو غالب گمان ہو جائے کہ میت کی ہڈیاں مٹی ہو گئی ہیں تو اس جگہ کو برابر کر سکتے ہیں۔

عالمگیری (1/167) میں ہے:

ولا ‌ينبغي ‌إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان

البحر الرائق (2/210) میں ہے:

(قوله ‌ولا ‌يخرج ‌من ‌القبر إلا أن تكون الأرض مغصوبة) أي بعد ما أهيل التراب عليه لا يجوز إخراجه لغير ضرورة للنهي الوارد عن نبشه وصرحوا بحرمته وأشار بكون الأرض مغصوبة إلى أنه يجوز نبشه لحق الآدمي كما إذا سقط فيها متاعه أو كفن بثوب مغصوب أو دفن في ملك الغير أو دفن معه مال أحياء لحق المحتاج قد «أباح النبي – صلى الله عليه وسلم – نبش قبر أبي رعال لعصا من ذهب معه» كذا في المجتبى قالوا، ولو كان المال درهما ودخل فيه ما إذا أخذها الشفيع فإنه ينبش أيضا لحقه كما في فتح القدير وذكر في التبيين أن صاحب الأرض مخير إن شاء أخرجه منها وإن شاء ساواه مع الأرض وانتفع بها زراعة أو غيرها

درمختار (3/170) میں ہے:

 (ولا يخرج منه) ‌بعد ‌إهالة ‌التراب (إلا) لحق آدمي ك (أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة) ويخير المالك بين إخراجه ومساواته بالأرض كما جاز زرعه والبناء عليه إذا بلي وصار ترابا

(قوله: ‌كما ‌جاز ‌زرعه) أي القبر ولو غير مغصوب وكذا يجوز دفن غيره عليه كما في الزيلعي أيضا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved