- فتوی نمبر: 35-382
- تاریخ: 22 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > متفرقات خاندانی معاملات
استفتاء
میرے بھائی زید اور ان کی اہلیہ دونوں گونگے بہرے ہیں، یعنی سن اور بول نہیں سکتے۔ ان کی شادی کو تقریباً 6 سال ہو چکے ہیں۔ پچھلے ایک سال سے دونوں کے درمیان شدید ناچاقی اور اختلافات ہیں، بول چال اور رابطہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور دونوں اب ایک دوسرے کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے بلکہ علیحدگی چاہتے ہیں۔ خاندان والوں نے بھی کافی کوشش کی لیکن صلح کی کوئی صورت نہیں بن سکی۔اب ہم شرعی اور قانونی طور پر درست طریقے سے طلاق کروانا چاہتے ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ:
1۔ ایسی صورت میں طلاق کا صحیح شرعی طریقہ کیا ہوگا؟ ایک طلاق دینی چاہیے یا تین؟
2۔ طلاق نامہ / اسٹام پیپر میں کیا wording (تحریر ) لکھی جائے؟
3۔ یونین کونسل میں نوٹس دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
4۔ کیا آپ کوئی مختصر صحیح Draft (مسودہ) بھی بھیج سکتے ہیں؟
5۔نکاح میں حق مہر ڈیڑھ تولہ سونا مقرر تھا جو شادی کے وقت دے دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 50 ہزار روپے حق مہر مقرر تھا۔ جس میں سے 5 ہزار روپے نقد دے دیے گئے تھے۔-جبکہ باقی 45 ہزار روپے ابھی تک باقی ہیں۔
براہِ کرم یہ بھی رہنمائی فرما دیں کہ باقی 45 ہزار روپے ادا کرنا لازم ہوں گے یا نہیں؟ طلاق کی صورت میں حق مہر کا کیا حکم ہوگا؟
وضاحت مطلوب : شوہر لکھ پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب وضاحت: جی تھوڑا بہت لکھ پڑھ سکتا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں طلاق دینے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ شوہر ایسے طہر (پاکی کے زمانے) میں جس میں بیوی سے ہمبستری نہ کی ہو ایک رجعی طلاق لکھ کر دے دے اور بیوی کو چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ اپنی عدت پوری کر لے (مطلقہ کی عدت اگر حاملہ ہو تو وضع حمل اور اگر حاملہ نہ ہو تو تین حیض ہے، عدت گزرنے کے بعد نکاح ختم ہوجائے گا اور میاں بیو ی ایک دوسرے سے آزاد ہوجائیں گے نیز طلاق ایک ہی دینی چاہیے نہ کہ تین ۔
2۔ طلاقنامہ اسٹام فروش سے لکھوا لیں بس جہاں طلاق کے الفاظ لکھنے ہیں وہاں یہ لکھیں کہ “میں ایک طلاق دیتا ہوں”
3۔طلاقنامہ لکھواکر یونین کونسل میں جمع کروادیں۔
4۔ طلاق نامہ کا نمونہ یہ ہے:
منکہ مسمیٰ ……………ولد……………ساکن………………اقرار کرتا ہوں کہ من مقر کی شادى مسماۃ………………دختر ………….ساکن……………. کے ساتھ مؤرخہ……..کوہوئی تھی۔
شادی کے بعد کچھ عرصہ تک ہمارے درمیان تعلقات خوشگوار رہے، لیکن بعد ازاں باہمی اختلافات پیدا ہو گئے۔ بہت کوشش کے باوجود ہمارے درمیان صلح اور موافقت نہ ہو سکی اور ازدواجی زندگی کو جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔لہٰذا میں اپنی مکمل رضامندی اور ہوش و حواس میں، بغیر کسی دباؤ، جبر یا لالچ کے، اپنی زوجہ مسماۃ ……… دختر ………..کو ایک رجعی طلاق دیتا ہوں۔
دستخط: …………
بتاریخ : ………………
5۔ بقیہ حق مہر کی ادائیگی بھی ضروری ہے ۔
ہدایہ (2/77) میں ہے:
قال: “الطلاق على ثلاثة أوجه حسن وأحسن وبدعي فالأحسن أن يطلق الرجل امرأته تطليقة واحدة في طهر لم يجامعها فيه ويتركها حتى تنقضي عدتها……….والحسن هو طلاق السنة وهو أن يطلق المدخول بها ثلاثا في ثلاثة أطهار”
ہدایہ (2/61) میں ہے:
وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء”……والأقراء الحيض عندنا………..وإن كانت ممن لا تحيض من صغر أو كبر فعدتها ثلاثة أشهر…..وكذا التي بلغت بالسن ولم تحض….وإن كانت حاملا فعدتها أن تضع حملها.
شامی (4/435) میں ہے:
(قوله واستحسن الكمال إلخ) حيث قال: وقال بعض الشافعية: إن كان يحسن الكتابة لا يقع طلاقه بالإشارة لاندفاع الضرورة بما هو أدل على المراد من الإشارة وهو قول حسن، وبه قال بعض مشايخنا اهـ. قلت: بل هذا القول تصريح بما هو المفهوم من ظاهر الرواية.
ففي كافي الحاكم الشهيد ما نصه: فإن كان الأخرس لا يكتب وكان له إشارة تعرف في طلاقه ونكاحه وشرائه وبيعه فهو جائز، وإن كان لم يعرف ذلك منه أو شك فيه فهو باطل. اهـ. فقد رتب جواز الإشارة على عجزه عن الكتابة، فيفيد أنه إن كان يحسن الكتابة لا تجوز إشارته
ہدایہ (2/38) میں ہے:
” ومن سمى مهرا عشرة فما زاد فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها ” لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل
فقہ اسلامی، از حضرت مولانا مفتی عبدالواحد صاحبؒ (ص:115) میں ہے :
مسئلہ: گونگا اگر لکھنا نہ جانتا ہو اور ایسا اشارہ کرے جس سے صاف طور پر طلاق ہی سمجھی جائے اس سے طلاق پڑ جاتی ہے اور اگر وہ لکھنا جانتا ہو تو اشارہ سے طلاق نہ ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved