- فتوی نمبر: 35-385
- تاریخ: 22 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
مچھروں کو مارنے کے لیے جو الیکٹرک مشین ہوتی ہے جس کے قریب جانے سے مکھی یا مچھر مر جاتے ہیں اس مشین کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جو مشین ایک جگہ لٹکی ہوتی ہے اور مکھی مچھر اس کے پاس خود جا کر جل کر مرتے ہیں اس مشین کے استعمال میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے اور جس مشین سے اپنے ہاتھ سے مکھی مچھر کے پاس لے جا کر اسے جلایا جاتا ہے اس کا استعمال جائز نہیں ۔
توجیہ: جو مشین ایک جگہ لٹکی ہوتی ہے جانور خود اس میں جاکر جلتے ہیں اس صورت میں جلنے کی نسبت اس جانور کی طرف ہوگی نہ کہ انسان کی طرف لہذا اس کے استعمال میں شرعاً کوئی حرج نہیں اور جس مشین کو اپنے ہاتھ سے مکھی مچھر کے پاس لے جا کر اسے جلایا جاتا ہے اس کے جلانے کی نسبت انسان کی طرف ہوگی لہٰذا اس کا استعمال جائز نہیں۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر انسان کسی جگہ نجاست ڈال دے اور جانور خود وہ نجاست کھا لے تو یہ جائز ہے کیونکہ اس صورت میں نجاست کھانے کی نسبت خود جانور کی طرف ہوگی لیکن اگرانسان خود اپنے ہاتھ سے کسی جانور کو نجس چیز کھلائے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ اس صورت میں نجاست کھلانے کی نسبت انسان کی طرف ہوگی۔
صحیح مسلم (رقم الحدیث: 2284) میں ہے:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنما مثلي ومثل أمتي كمثل رجل استوقد نارا، فجعلت الدواب والفراش يقعن فيه، فأنا آخذ بحجزكم وأنتم تقحمون فيه.
شامی (10/517) میں ہے:
وفي المبتغى يكره إحراق جراد وقمل وعقرب، ولا بأس بإحراق حطب فيها نمل
(قوله يكره إحراق جراد) أي تحريما ومثل القمل البرغوث ومثل العقرب الحية
ہندیہ (9/178) میں ہے:
واحراق القمل والعقرب بالنار مكروه
شامی (10/34) میں ہے:
(وحرم الانتفاع بها) ولو لسقي دواب أو لطين أو نظر للتلهي، أو دواء أو دهن أو طعام أو غير ذلك إلا لتخليل أو لخوف عطش بقدر الضرورة فلو زاد فسكر حد مجتبى
(قوله ولو لسقي دواب) قال بعض المشايخ لو قاد الدابة إلى الخمر لا بأس به، ولو نقل إلى الدابة يكره وكذا قالوا فيمن أراد تخليل الخمر ينبغي أن يحمل الخل إلى الخمر ولو عكس يكره وهو الصحيح
امداد الفتاویٰ (9/411) میں ہے:
سوال: جنگل کا ایک جانور بنام “سیہ ” ہے وہ کھیت کو نقصان بہت پہنچاتی ہے اور ان کی تدبیر سوائے زمین کو آگ دینے کے اور کچھ نہیں ہو سکتی تو ان کو آگ دے کر مارا جاوے یا نہیں؟
جواب : اگر وہ کسی اور طریق سے دفع نہ ہو تو پھر مجبوری کو آگ دینا جائز ہے اور اگر کسی اور طریقے سے ہلاک ہو جاوے یا وہاں سے دفع ہو جاوے تب جلانا جائز نہیں۔
بہشتی زیور (ص:650) میں ہے:
نجس چیز جانور کو کھلانے کی ترکیب یہ ہے کہ ایک جگہ وہ چیز ڈال کر مرغی کو اس طرف ہنکا دے وہ خود کھا لے گی اور اپنے ہاتھ سے اس کے سامنے نہ ڈالے ایسے ہی جب شراب کا سرکہ بنانا ہو تو سرکہ لے جا کر شراب میں ڈال دے نہ یہ کہ شراب کو لئےپھرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved