- فتوی نمبر: 26-150
- تاریخ: 22 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
آج کل ایک رواج ہے لوگ جمعہ کی مبارک باد دیتے رہتے ہیں اور ربیع الاول کی مبارک باد بھی دیتے ہیں۔کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جمعہ کی مبارک باد دینے یا ربیع الاول کی مبارک باد دینے کی گنجائش ہے،کیونکہ جمعہ اپنے مخصوص فضائل کی وجہ سے اور ربیع الاول آپﷺ کی پیدائش کا مہینہ ہونے کی وجہ سے بابرکت ہیں (جیسا کہ پیر کا دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہونے کی وجہ سے بابرکت ہے اور اس دن میں آپ ﷺ سے پیدائش کا دن ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا ثابت ہے )اور مبارک باد دینا دراصل برکت کی دعا دینا ہےاور برکت کی دعا دینا جائز ہے۔تاہم خیرالقرون میں چونکہ اس کا معمول نہ تھا اس لیے اسے معمول بنانا یا اسے دین کا حکم سمجھنا یا ثواب کا کام سمجھنا درست نہیں اس لیے بہتر یہ ہے کہ کسی بھی مہینہ کے شروع ہونے پر آپ ﷺ یا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جو دعائیں ثابت ہیں انہیں پر اکتفاء کیا جائے اور اپنی طرف سے نئی نئی چیزیں شروع نہ کی جائیں۔
صحیح مسلم حدیث نمبر(2747)میں ہے:
عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن صومه،قال: فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر رضي الله عنه: رضينا بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد رسولا وببيعتنا بيعة، قال: فسئل عن صيام الدهر فقال: لا صام ولا أفطر – أو ما صام وما أفطر- قال: فسئل عن صوم يومين وإفطار يوم قال: ومن يطيق ذلك؟ قال: وسئل عن صوم يوم وإفطار يومين قال: ليت أن الله قوانا لذلك قال: وسئل عن صوم يوم وإفطار يوم قال: ذاك صوم أخي داود – عليه السلام – قال: وسئل عن صوم يوم الاثنين، قال: ذاك يوم ولدت فيه، ويوم بعثت – أو أنزل علي فيه – قال: فقال: صوم ثلاثة من كل شهر، ورمضان إلى رمضان، صوم الدهر، قال: وسئل عن صوم يوم عرفة، فقال: يكفر السنة الماضية والباقية، قال: وسئل عن صوم يوم عاشوراء، فقال: يكفر السنة الماضية
مرقاۃ المفاتیح(4/451)میں ہے:
1962 – عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ” «أتاكم رمضان، شهر مبارك، فرض الله عليكم صيامه، تفتح فيه أبواب السماء، وتغلق فيه أبواب الجحيم، وتغل فيه مردة الشياطين، لله فيه ليلة خير من ألف شهر، من حرم خيرها فقد حرم» “. رواه أحمد والنسائي
(عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ” أتاكم “) أي جاءكم ” رمضان ” أي زمانه أو أيامه ” شهر مبارك ” بدل أو بيان، والتقدير هو شهر مبارك، وظاهره الإخبار أي كثر خيره الحسي والمعنوي، كما هو مشاهد فيه، ويحتمل أن يكون دعاء أي جعله الله مباركا علينا وعليكم، وهو أصل في التهنئة المتعارفة في أول الشهور بالمباركة، ويؤيد الأول قوله صلى الله عليه وسلم: “«اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان» “، إذ فيه إيماء إلى أن رمضان من أصله مبارك فلا يحتاج إلى الدعاء، فإنه تحصيل الحاصل، لكن قد يقال: لا مانع من قبول زيادة البركة……
تحفۃ المحتاج فی شرح المنھاج( لابن حجر الھیتمیؒ)(3/56)میں ہے:
(خاتمة) قال القمولي لم أر لأحد من أصحابنا كلاما في التهنئة بالعيد والأعوام والأشهر كما يفعله الناس لكن نقل الحافظ المنذري عن الحافظ المقدسي أنه أجاب عن ذلك بأن الناس لم يزالوا مختلفين فيه والذي أراه مباح لا سنة فيه ولا بدعة وأجاب الشهاب ابن حجر بعد اطلاعه على ذلك بأنها مشروعة واحتج له بأن البيهقي عقد لذلك بابا فقال باب ما روي في قول الناس بعضهم لبعض في العيد تقبل الله منا ومنكم وساق ما ذكره من أخبار وآثار ضعيفة لكن مجموعها يحتج به في مثل ذلك ثم قال ويحتج لعموم التهنئة لما يحدث من نعمة أو يندفع من نقمة بمشروعية سجود الشكر والتعزية وبما في الصحيحين عن كعب بن مالك في قصة توبته لما تخلف عن غزوة تبوك أنه لما بشر بقبول توبته ومضى إلى النبي صلى الله عليه وسلم قام إليه طلحة بن عبيد الله فهنأه أي وأقره صلى الله عليه وسلم مغني ونهاية قال ع ش قوله مر تقبل الله إلخ أي ونحو ذلك مما جرت به العادة في التهنئة ومنه المصافحة ويؤخذ من قوله في يوم العيد أنها لا تطلب في أيام التشريق وما بعد يوم عيد الفطر لكن جرت عادة الناس بالتهنئة في هذه الأيام ولا مانع منه؛ لأن المقصود منه التودد وإظهار السرور ويؤخذ من قوله يوم العيد أيضا أن وقت التهنئة يدخل بالفجر لا بليلة العيد خلافا لما في بعض الهوامش اهـ وقد يقال لا مانع منه أيضا إذا جرت العادة بذلك لما ذكره من أن المقصود منه التودد وإظهار السرور ويؤيده ندب التكبير في ليلة العيد وعبارة شيخنا وتسن التهنئة بالعيد ونحوه من العام والشهر على المعتمد مع المصافحة إن اتحد الجنس فلا يصافح الرجل المرأة ولا عكسه ومثلها الأمرد الجميل وتسن إجابتها بنحو تقبل الله منكم أحياكم الله لأمثاله كل عام وأنتم بخير اهـ
الحاوی للفتاوی للسیوطیؒ(1/95)میں ہے:
(فائدة):قال القمولي في الجواهر:لم أر لأصحابنا كلاما في التهنئة بالعيدين والأعوام والأشهر كما يفعله الناس، ورأيت فيما نقل من فوائد الشيخ زكي الدين عبد العظيم المنذري أن الحافظ أبا الحسن المقدسي سئل عن التهنئة في أوائل الشهور والسنين أهو بدعة أم لا؟ فأجاب بأن الناس لم يزالوا مختلفين في ذلك قال: والذي أراه أنه مباح ليس بسنة ولا بدعة انتهى، ونقله الشرف الغزي في شرح المنهاج ولم يزد عليه
درمختار مع رد المحتار(3/56)میں ہے:
والتهنئة بتقبل الله منا ومنكم لا تنكر
(قوله لا تنكر) خبر قوله والتهنئة وإنما قال كذلك لأنه لم يحفظ فيها شيء عن أبي حنيفة وأصحابه، وذكر في القنية أنه لم ينقل عن أصحابنا كراهة وعن مالك أنه كرهها، وعن الأوزاعي أنها بدعة، وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة ثم ساق آثارا بأسانيد صحيحة عن الصحابة في فعل ذلك ثم قال: والمتعامل في البلاد الشامية والمصرية عيد مبارك عليك ونحوه وقال يمكن أن يلحق بذلك في المشروعية والاستحباب لما بينهما من التلازم فإن من قبلت طاعته في زمان كان ذلك الزمان عليه مباركا على أنه قد ورد الدعاء بالبركة في أمور شتى فيؤخذ منه استحباب الدعاء بها هنا أيضا. اهـ
المدخل لابن الحاج(الجزء الثانی:1/5)میں ہے:
هذا الشهر العظيم الذي فضله الله تعالى وفضلنا فيه بهذا النبي صلى الله عليه وسلم الكريم على ربه عز وجل….. فكان يجب أن يزاد فيه من العبادات والخير شكرا للمولى سبحانه وتعالى على ما أولانا من هذه النعم العظيمة وإن كان النبي صلى الله عليه وسلم لم يزد فيه على غيره من الشهور شيئا من العبادات وما ذاك إلا لرحمته صلى الله عليه وسلم بأمته ورفقه بهم لأنه عليه الصلاة والسلام كان يترك العمل خشية أن يفرض على أمته رحمة منه بهم كما وصفه المولى سبحانه وتعالى في كتابه حيث قال{بالمؤمنين رءوف رحيم}[التوبة:128] لكن أشار عليه الصلاة والسلام إلى فضيلة هذا الشهر العظيم «بقوله عليه الصلاة والسلام للسائل الذي سأله عن صوم يوم الاثنين فقال له عليه الصلاة والسلام ذلك يوم ولدت فيه» فتشريف هذا اليوم متضمن لتشريف هذا الشهر الذي ولد فيه.
نوٹ:بعض حضرات نے ابن الحاج ؒ کی اس عبارت سے میلاد منانےکے جواز پر استدلال کیا ہے جس کے جواب میں حضرت خلیل احمد سہارنپوریؒ نے براہین قاطعہ(191)میں لکھا ہے:
اقول:مؤلف کو نقل عبارت مدخل سے کچھ نفع نہیں کیونکہ اس کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شکر وسرور وجود فخر عالم علیہ السلام کا دائماً مسلمان کو لازم ہے اور اس ماہ میں زیادہ چاہیے بسبب برکت اس ماہ کے اور اس کا انکار کسی کو نہیں ۔۔۔۔
خطبات حکیم الامت(5/20) میں ہے:
دوسری بات اور ہے جو اس سے اہم ہے اور وہ راجع ہے سنت و بدعت کی طرف۔ وہ یہ ہے کہ ماہ ربیع الاول شریف کو شریف اس لئے کہا کہ حضور کی اس ماہ میں ولادت ہوئی ہے اور جس زمانہ میں آپ کی ولادت ہوئی وہ ماہ ایسا نہیں ہے کہ حضور کی ولادت سے اس میں شرف نہ آئے جیسے کہ ولادت شریف کا مکان اسی وجہ سے معظم ہے کہ حضور کی جائے ولادت ہے۔ چنانچہ وہ موضع شریف محفوظ ہے اور لوگ اس کی زیارت کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ زمان بھی شریف ہوگا جس زمانہ میں حضور کی ولادت ہوئی خوب کہا ہے:
در منزلے کہ جاناں روزے رسیدہ باشد باخاک آستانش داریم مرحبائے
(جس منزل میں محبوب کسی روز پہنچے ہوں ہم اس کی چوکھٹ کی خاک کو مرحبا کہتے ہیں)
خطبات حکیم الامت(5/121) میں ہے:
ربیع الاول کے فضائل تو منصوص بھی نہیں تو اس میں تخصیص ذکر کی اجازت کیسے ہوگی؟ مگر پھر مکرر کہتے ہیں کہ باوجود اس منع تخصیص کے اس ماہ کی فضیلت کے ہم منکر نہیں ہیں فضیلت اس میں ضرور ہے۔ اگر اس میں فضیلت نہ ہوتی تو اس میں حضور اکرمﷺ پیدا کیوں کئے جاتے۔ جیسے جمعہ میں حضرت آدم کے تین واقعہ ہیں ایسے ہی یہاں بھی تین واقعے ہیں۔
ایک ولادت شریفہ کہ بالاتفاق اسی ماہ میں ہے۔ مشابہ ولادت آدم علیہ السلام کے۔ دوسری بعثت بعض روایات پر مشابہ دخول جنت آدم علیہ السلام کے ہے۔
تیسری وفات شریف کہ ماہ اور یوم تو علی الاتفاق عین زمانہ ولادت شریفہ ہے اور تاریخ بھی علی الاشہر وہی ہے۔ جیسا تیسرا واقعہ وہاں ہبوط تھا کہ مشابہ وفات کے تھا۔
غرض اس ماہ کے لیے یہ فضائل ضرور ثابت ہیں اور اسی ولادت شریفہ کی طرف اشارہ کرکے کہا گیا ہے۔
لهذا الشهر في الاسلام فضل و منقبة تفوق على الشهور
ربيع في ربيع في ربيع و نور فوق نور فوق نور
اسلام میں اس مہینہ کی بڑی فضیلت ہے اور یہ تمام مہینوں پر فوقیت رکھتا ہے۔
اول ربیع سے مراد ہیں حضورﷺ اور دوسرا ربیع ہے موسم بہار کہ اس وقت یہ موسم تھا، یا یہ کہا جاوے کہ آپ کے پیدا ہونے سے بہار ہوگئی تھی۔ چنانچہ اسی سن کو لوگوں نے سن الفتح و الابتہاج کہا ہے اور تیسری ربیع سے مراد ہے مہینہ۔ اور دوسرے مصرعہ میں نور فوق نور……الخ سے حضورﷺ ہی مراد ہیں کہ آپ میں انوار مجتمعہ متزائدہ تھے تو یہ فضیلت اس ماہ کو حاصل ہے۔ خواہ وہ فضیلت اس طرح ہو کہ اس ماہ کو پہلے سے فضیلت عطا کی گئی تھی اور اس ماہ کے ذی فضیلت ہونے کی وجہ سے حضورﷺ کی ولادت شریفہ کے لیے اس کو خاص فرمایا۔
رہی یہ بات کہ اس کو کیوں فضیلت عطا ہوئی تھی؟ سو اس کی علت ہم کو معلوم نہیں خدا تعالیٰ کو اختیار ہے کہ جس چیز کو چاہیں فضیلت عطا فرمادیں۔ اور اسی طرح دو شنبہ کے دن میں فضیلت پہلے سے ہو اور بوجہ ان دونوں کے ذی فضیلت ہونے کے حضورﷺ کو اس میں پیدا کیا گیا ہو جیسے جمعہ میں فضیلت پیدا کرکے حضرت آدم علیہ السلام کو اس میں پیدا کیا گیا اور خواہ وہ فضیلت اس طرح ہو کہ حضورﷺ کی ولادت شریفہ اس میں ہوئی ہے۔ اس تلبس سے اس کو فضیلت حاصل ہوگئی ہے اور ایسا ہی احتمال جمعہ میں بھی ہے کہ خود ولادت آدم علیہ السلام اور دیگر واقعات سے اس میں فضیلت آگئی ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ پہلے سے فضیلت ثابت ہو اور ان واقعات کو علامت کے طور پر ذکر فرمایا ہو۔ تو ایک احتمال پر یہ واقعات دلیل لمی ہوں گے۔ فضائل کے اور دوسرے احتمال پر دلیل انی علی ہذاحضورﷺ دو شنبہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اس کی وجہ یہ فرماتے تھے کہ:
فيه ولدت و فيه انزل على (الصحيح لمسلم کتاب الصيام: 198مشکوة المصابيح:2045 مسند الإمام أحمد 299:5
(اسی دن میں میں پیدا ہوا اور اسی میں مجھے نبوت عطا ہوئی)
اس میں بھی دونوں احتمال ہیں کہ چونکہ میری ولادت اور بعثت سے اس میں فضیلت آگئی ہے اس لئے روزہ رکھتا ہوں یا یہ کہ یہ دن پہلے سے فضیلت کا ہے جس کی علامت یہ ہے کہ فيه ولدت و فيه انزل على. (أنظر تخريج الحديث السابق) (اسی میں میں پیدا ہوا اور اسی میں مجھے نبوت عطا ہوئی) اس فضیلت سابقہ کی وجہ سے روزہ رکھتا ہوں تو دونوں احتمال دونوں جگہ ہیں اور اصل مقصود ثبوت فضیلت میں ہر دو مفیدہیں خواہ وہ فضیلت سبب ہو یا مسبب ہو۔ خوب کہا ہے:
بخت اگر مددکند دانش آورم بکف گربکشدز ہے طرف وربکشم زہےشرف
(قسمت نے اگر یاوری کی تو اس کا دامن پکڑوں گا اگر میں نے اپنی طرف کھینچ لیا تو اچھا اور اگر اس نے کھینچ لیا تو بہت ہی اچھا ہے)
اس نے کھینچ لیا یا میں نے مگر اصل مقصود یعنی قرب تو حاصل ہوگیا علی ہذا یہ اس کی فضیلت کی علامت ہو دونوں میں کچھ مضائقہ نہیں۔
بارہ مہینوں کے فضائل و مسائل للتھانوی ؒ(ص:23)میں ہے:
اس ماہِ مبارک کو یہ فضیلت ہے کہ یہ زمانہ ہے تولد شریف حضور پُر نور سید بنی آدم فخرِ عالم ﷺ کا اور جس قدر زیادہ فضیلت کسی زمانہ کی ہوتی ہے اس زمانہ میں حدود شرعیہ سے تجاوز کرنا عنداللہ والرسول ﷺ اُسی قدر زیادہ ناپسندیدہ ہوتا ہے، اور حدود سے تجاوز کرنے کا معیار صرف علم ہے۔ اُن حدود کا بواسطہ ادلۂ اربعہ شرعیہ یعنی کتاب و سُنّت و اجماع و قیاسِ مجتہد مقبول الاجتہاد و عند اکابر الامۃ کے اور اُن ادلہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس ماہِ مبارک میں جو بعض اعمال بعض عمال میں رائج و شائع ہوگئے ہیں مثل اہتمام و انعقاد مجلس مولد شریف بہ تخصیصاتِ معروضہ و قیود معلومہ خصوص انضمام دیگر منکرات، و مثل اعتیاد عید میلاد، یہ سب منجملہ اَفراد تجاوز عن الحدودالشرعیہ کے ہیں۔ پس لامحالہ غیر مرضی عنداللہ والرسول ﷺ ہوئے اور بوجہ فضیلت اس زمانہ کے غیر مرضی ہونے میں بھی اوکد ہوئے۔ پس لابُدَّ واجب الاحتیاط ہوئے۔ البتہ حدود کے اندررہ کر ذکر مبارک رسول مقبول ﷺ منجملہ اعظم البرکات افضل القربات ہے کہ کسی مؤمن کو خصوص ساعی فی اتباع السنۃ کو اس میں کلام نہیں ہو سکتا ۔
فتاوی رحیمیہ (3/135)میں ہے:
(سوال ۵۴) جاہل پیر رسمی واعظین اور مولود خواں حضرات نے ماہ محرم ربیع الا ول اور ربیع الآخر میں علمائے حق کو بد نام کرنے اور ان سے عوام کو بدظن کرنے کے لئے وعظ وتقاریر او رمجالس میلاد کا سلسلہ جاری کر دیا ہے جن کے ذریعہ مسلمانوں میں عملی خرابی اور اعتقادی گمراہی کی اشاعت کر رہے ہیں ۔ انجام کار عوام کے عقائد فاسدہ کو تقویت ملتی ہے او ر وہ علمائے حق سے دور رہتے ہیں ۔ اس بنا پر علمائے دیو بند کے ساتھ ربط وضبط رکھنے والے خوش عقیدہ حضرات ان مذکورہ مہینوں میں بھی دیو بندی خیالات کے علماء کو وعظ کے لئے دعوت دے کر وعظ کراتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کے عقائد درست ہو رہے ہیں اور علماء کے بارے میں جو بدظنی و بدگمانی پھیلی ہے اس کا ازالہ ہورہا ہے ۔ اب جہاں دیکھئے دیو بندی علماء کے وعظ اورمجلس میں بڑے بڑے ذوق وشوق سے شرکت فرماتے ہیں اور فیضیاب ہورہے ہیں ۔ لیکن بعضوں کا کہنا ہے کہ ان مہینوں میں تقریر و وعظ کرنا کرانا ہی بد عت ہے اور اپنے اسلاف واکابر کے مسلک کے خلاف ہے۔ دیو بندی علماء سفر خرچ لیتے ہیں ، ٹیکسی میں بیٹھ کر جاتے ہیں ، بعض عالم ہدیہ قبول کرتے ہیں ، یہ سب نادرست ہے ، کیا یہ صحیح ہے ؟ شرعی حکم اس بارے میں کیا ہے؟ بالتفصیل تحریر فرمائیں ۔فجزاک اﷲفی الدارین خیرا لجزاء۔
(الجواب):اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ماہ ربیع الا ول اسلام میں بڑا بابرکت مہینہ ہے کہ اس مہینہ میں آقائے نامدار سرکار مدینہ حضرت رسول مقبولﷺتشریف لائے جو منبع انوار اور فیوض و برکات کا سرچشمہ او رمرکز ہیں ۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں :۔
لھذا الشھر فی الا سلام فضل ومنقبۃ تفوق علی الشہور۔ربیع فی ربیع فی ربیع۔ ونورفوق نور فوق نور
(اس ماہ کی اسلام میں فضیلت ہے اور اس کی ایک فضیلت ایسی جو سب مہینوں پر سبقت لی جاتی ہے ۔ ایک بہار ہے موسم بہار میں بہار کے وقت (صبح کے سہانے وقت میں ) نور بالائے نور بالائے نور)
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آنحضرتﷺکی ولادیت باسعادت کا صحیح بیان (خواہ ربیع الاول میں ہو یا دوسرے مہینہ میں ) ثواب دارین اور فلاح دین کا موجب ہے جنہوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ دیوبندی علماء ولادت شریفہ کے بیان کے منکر ہیں یہ صریح کذب اور بالکل غلط ہے ۔(سبحانك هذا بهتان عظیم)۔۔۔۔۔۔۔۔
امداد الاحکام (4/502) میں ہے:
میں کہتا ہوں کہ آخر یوم ولادتِ نبوی جو ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو آتا ہے کیا بعینہ وہ دن ہے جس میں حضورﷺ پیسا ہوئے، ہرگز نہیں بلکہ محض مثال ہے مگر تمام مسلمان اس دن کو متبرک سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved