• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مصالح مسجد كے لئے وقف زمین كو مسجد میں شامل کرنے کا حکم

استفتاء

ہماری مسجد ہے جس کے ساتھ والی جگہ پر انتظامیہ نے مؤذن کو رہائش دی ہوئی تھی اور وہ جگہ بھی مسجد اور اس کے مصالح کے لئے وقف ہے، اب انتظامیہ نے وہاں سے رہائش ختم کردی ہے اور اس جگہ کو بھی نماز کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے تو دریافت طلب بات یہ ہے کہ

1) کیا اس جگہ کو مسجد کا حصہ بنانا ضروری ہے؟

2) اگر اس کو مسجد میں شامل نہ کریں تو اس سے ہمیں کیا فوائد ہوں گے؟

3) اگر اس کو مسجد میں شامل کرلیں تو اس سے کیا ذمہ داریاں عائد ہوں گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1)  اس جگہ کو مسجد کا حصہ بنانا ضروری نہیں بلکہ جب تک کوئی خاص ضرورت درپیش نہ ہو اس وقت تک اسے مسجد کا حصہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ مسجد کا حصہ بنانے کے بعد ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوگا جن کا شرعی مسجد میں خیال رکھا جانا ضروری ہے جبکہ بعض اوقات ان باتوں کا خیال رکھنے میں کوتاہی بھی ہوجاتی ہے اس لئے جب تک کوئی خاص ضرورت درپیش نہ ہو اس وقت تک اسے مسجد شرعی کا حصہ نہ بنانا چاہیے۔

فتاوی محمودیہ (14/505)میں ہے:

سوال: ١٩٤٦ء میں ایک مسجد بنائی، بناتے وقت میں نے یہ نیت کی کہ یہ مسجد دروازہ تک ہے، یہ مسجد کا حصہ ہے اور یہ باہر کا حصہ ہے جس کو برآمدہ کہتے ہیں، یہ مسجد سے باہر ہے مسجد نہیں۔ میں مسجد کی تعمیر کرنے والا تھا، آج ٣٩سال ہوئے، اب جماعت کے چند آدمی یہ کہتے ہیں کہ مسجد کا برآمدہ(جو باہر کا حصہ ہے) کو مسجد میں شامل کردو، کیا یہ ہوسکتا ہے؟ مسجد میں کچھ کمی نہیں، بہت جگہ ہے، بلا ضرورت کرنا

 چاہتے ہیں۔ ایک شخص کہتا ہے کہ اگر باہر کا حصہ مسجد میں شامل کردیا جائے تو معتکف برآمدہ میں ٹہل سکتے ہیں اور باہر کیا ہو رہا ہے دیکھے اور ہوا خوری کرے۔ جواب عنایت فرمائیں۔

جواب: محض اس مقصد کے لئے کہ معتکف اعتکاف میں رہتے ہوئے باہر کی چیزیں دیکھ لیا کرے مسجد کی توسیع کی ضرورت نہیں، لہذا جو حصہ باہر کا ہے اسے باہر ہی رہنے دیا جائے مسجد میں داخل نہ کیا جائے، ہاں اگر مسجد میں اتنی تنگی ہے کہ نمازی نہ آسکتے ہوں تو آپس کے مشورے سے وہ حصہ داخل کرلیا جائے۔

2)  مسجد میں شامل نہ کرنے سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔

(۱) جن باتوں کا شرعی مسجد میں خیال رکھنا ضروری ہے ان کا خیال رکھنے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔

(۲) شرعی مسجد نہ ہونے کے فوائد حاصل ہوں گے مثلاً بارش وغیرہ کے موقع پر نماز جنازہ ادا کی جاسکے گی۔

(۳) فی الحال شامل نہ کریں تو آئندہ شامل کرنے کا موقع باقی رہے گا جبکہ شامل کرنے کے بعد اس حصے کو شرعی مسجد سے نکالنا ممکن نہ ہوگا۔

3)  شرعی مسجد کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ سب کی سب عائد ہوں گی، مثلاً مسجد میں غیر شرعی کام مثلاً لڑائی جھگڑا اور شور شرابہ نہ کیا جائے، ، مسجد میں بلا ضرورت دنیاوی باتوں سے گریز کیا جائے، مسجد کو صاف ستھرا رکھا جائے، مسجد کی بے حرمتی یا نمازیوں کی تکلیف کا باعث بننے والی تمام باتوں کا سد باب کیا جائے، مسجد میں کھانے پینے اور سونے سے پرہیز کیا جائے، جنبی مسجد میں داخل نہ ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved