• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گاڑی کسی کو دے کر نفع اٹھانے کی مختلف صورتیں

استفتاء

درج ذیل مسائل میں راہنمائی مطلوب ہے :

1)زید نے اپنی گاڑی عمر وکو اس شرط پر دی کہ آپ  گاڑی چلائیں اور اس کا جو نفع اور نقصان ہو گا وہ ہم آپس میں 50/50  کے حساب سے تقسیم کرلیں گے ۔کیا یہ صورت جائز ہے ؟

2) زید اور عمرو کی مشترکہ گاڑی ہے جس میں زید کا حصہ زیادہ ہے اور عمرو کا کم ہے ۔ زید عمرو کو کہتا ہے کہ آپ گاڑی چلائیں اور اس گاڑی کا جو بھی نفع یا نقصان ہو گا اس کو ہم آپس میں 50/50کے حساب  سے  تقسیم کرلیں گے۔ کیا یہ صورت جائز ہے؟

3)زید اور عمرو کی مشترکہ گاڑی ہے اور دونوں کا حصہ مساوی ہے ،زید عمرو سے کہتا ہے کہ آپ گاڑی چلائیں  اور اس کا جو بھی نقصان ہو گا وہ ہم آپس میں 50/50 کے حساب سے برداشت کریں گے۔

الف) جبکہ نفع کی تقسیم یا تو 50/50کے حساب سے ہو گی ۔

ب)اور یا زیدکا نفع 40 فیصد اور عمرو کا نفع 60 فیصد ہو گا ۔کیا یہ صورت جائز ہے ؟

4)ہمارے علاقے میں یہ رواج ہے کہ گاڑی کا مالک ڈرائیو  ر کو گاڑی دے کر کہتا ہے کہ اس گاڑی کی قیمت مثلاً 10 لاکھ ہے ،آپ اس گاڑی کو چلائیں اور ماہانہ 40ہزار مثلاً مجھے دیتے رہیں اور اس سے زیادہ جتنا نفع ہو و ہ آپ کا خرچہ ہے، یہ ماہانہ 40ہزار جمع ہو کر جب اس گاڑی کی آدھی قیمت یا کل قیمت  تک پہنچ جائیں گے تو یہ گاڑی ہمارے درمیان مشترکہ ہو جائے گی ۔کیا یہ صورت جائز ہے ؟

وضاحت مطلوب ہے : نقصان سے گاڑی کے خرچے مراد ہیں یا گاڑی کو پیش آنے والا  ممکنہ حادثہ مراد ہے ؟

جواب وضاحت : اس سے مراد یہ ہے کہ خدا نخواستہ گاڑی اچانک خراب ہو جائے یا ایکسیڈنٹ ہو جائے تو اس کا خرچہ مشترکہ ہو گا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1)مذکورہ طریقے سے شرکت کرنا حنفیہ کے نزدیک تو  جائز نہیں کیونکہ گاڑی کے منافع شرکت کا راس المال نہیں بن سکتے نیز مذکورہ صورت  حنابلہ کے نزدیک بھی جائز نہیں بنتی کیو نکہ  مذکورہ صورت میں  گاڑی چلانے والے کو بھی نقصان میں مطلقا  شریک کیا گیا ہے    جو کہ حنابلہ کے  نزدیک بھی  جائز نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ  مذکورہ صورت میں  گاڑی،ڈرائیور کے قبضے میں امانت شمار ہوگی جس میں جو نقصان امین کی  کوتاہی کے بغیر ہو اس کا وہ ضامن نہیں ہوتا ،  لہذاگاڑی چلانے والےسے اگر نقصان کی شرط ہٹالی جائے تو یہ صورت حنابلہ کے  نزدیک (قیاسا علی المزارعۃ و المساقاۃ) درست ہو جائے گی اور آج کل معاملات میں جہاں اس طرح کا عرف ہو یا ضرورت ہو تو حنابلہ یا دیگر ائمہ کے قول کو لینے کی گنجائش ہے۔

2)مذکورہ صورت بھی حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں کیونکہ مذکورہ صورت میں زیادہ حصہ والا کم حصے والے کو اپنا حصہ بطور شرکت کے دے رہا ہے جبکہ  گاڑی کے منافع شرکت کا راس المال نہیں بن سکتے جیسا کہ پہلے گذرچکا  اور حنابلہ کے نزدیک بھی جائز نہیں بنتی کیونکہ دونوں شرکاء پر نقصان برابر طے کیا گیا ہے  جبکہ دونوں کے حصے برابر نہیں ہیں البتہ اگر  دونوں شرکاء پر تاوان ان کے اپنے اپنےحصے  کے تناسب سے ڈالا جائےتو حنابلہ کے نزدیک یہ  صورت جائز ہوجائے  گی اور اس کی توجیہ یہ ہوگی  کہ جس کا حصہ گاڑی میں زیادہ ہے وہ اپنا حصہ  دوسرے کوشرکت پر  دے رہا ہے تاکہ وہ اس  کےحصہ سے بھی کمائی کرے اور  وہ کمائی دونوں میں اس طور پر تقسیم ہوگی کہ کل کمائی میں سے گاڑی چلانے والے کا  گاڑی میں مثلا تیس فیصد حصہ ہے تو  تیس فیصد تو اس کے اپنے حصے کی بنیاد پر ہوگا اور مزید  بیس فیصد (کل نفع کے اعتبار سے) دوسرے کے حصے میں کام کرنے کی وجہ سے ملے گا۔

3) الف: یہ صورت جائز ہے،کیونکہ  اس صورت میں دونوں شرکاء اپنی اپنی ملک کے تناسب سے نفع  ونقصان میں شریک ہیں  اور ان میں سےکام کرنے والا شریک تبرعاً  کام کر رہا ہے، یہ صورت  حنفیہ کے نزدیک بھی  جائز   ہے۔

ب)یہ صورت  حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں البتہ حنابلہ کے نزدیک جائز ہے جیسا کہ نمبر 2 میں گذرچکا۔

4)یہ صورت جائز نہیں، البتہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ گاڑی کا مالک شروع میں ڈرائیور کو نصف گاڑی  بیچ دے اور اس  کی قیمت ماہانہ قسطوں میں لیتا رہے اورپھر پوری گاڑی اس ڈرائیور کو ماہانہ کرایہ پر دیدے یا اس کے ساتھ 3نمبرمیں مذکور طریقے کے مطابق شرکت کرلے ۔

توجیہ: ماہانہ 40 ہزار جو دیے جارہے ہیں ان کی حیثیت مجہول ہے   ان کو کرایہ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ اسی  رقم کے عوض گاڑی کا مالک ڈرائیور کو گاڑی میں شریک بنائے گا اور اگر ان کو  آدھی گاڑی  کی ثمن (قیمت)کہیں تو پھر بھی جائز نہیں کیونکہ یہ بیع مضاف الی المستقبل ہے جوکہ جائز نہیں ہے۔ لہذا سوال میں مذکور صورت جائز نہیں ہے ۔

نوٹ: جواب میں نقصان کے بارے میں جو تفصیل بیان کی گئی ہے وہ سوال میں مذکور اس وضاحت کے مطابق ہے کہ جب نقصان قدرتی طور پر ہو ،البتہ جس صورت میں گاڑی چلانے والے کی کوتاہی کی وجہ سے نقصان ہو تو سارا نقصان اسے خود برداشت کرنا پڑے گا ۔

التنوير مع الدر (6/498) میں ہے :

«(والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما، فالشركة فاسدة والربح للمالك وللآخر أجر مثله، وكذلك السفينة والبيت، ولو لیبیع عليها البر فالربح لرب البر وللآخر أجر مثل الدابة، ولو لأحدهما بغل وللآخر بعير فالأجر بينهما على مثل أجر البغل والبعير نهر.»

حاشیۃ  ابن عابدين  میں ہے :

«(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو ‌به ‌من ‌الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجرا؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله (قوله فالشركة فاسدة) ؛ لأنه في معنى بع منافع دابتي ليكون الأجر بيننا فيكون كله لصاحب الدابة؛ لأن العاقد عقد العقد على ملك صاحبه بأمره، وللعاقد أجرة مثله؛ لأنه لم يرض أن يعمل مجانا فتح.

[تنبيه] لم يذكروا ما لو كانت الدابة بين اثنين دفعها أحدهما للآخر على أن يؤجرها ويعمل عليها على أن ثلثي الأجر للعامل والثلث للآخر وهي كثيرة الوقوع، ولا شك في فسادها؛ لأن المنفعة كالعروض لا تصح فيها الشركة، وحينئذ فالأجر بينهما على قدر ملكهما، وللعامل أجر مثل عمله، ولا يشبه العمل في المشترك حتى نقول لا أجر له؛ لأن العمل فيما يحمل وهو لغيرهما تأمل»

شرح المجلۃ (4/289)میں ہے:

تنبيهات :الثالث:قال في رد المحتار ، لم يذكروا ما لو كانت الدابة بين اثنين دفعها أحدهما للآخر على أن يؤجرها ويعمل عليها على أن ثلثي الأجر للعامل والثلث للآخر وهي كثيرة الوقوع، ولا شك في فسادها؛ لأن المنفعة كالعروض لا تصح فيها الشركة، وحينئذ فالأجر بينهما على قدر ملكهما، وللعامل أجر مثل عمله، ولا يشبه العمل في المشترك حتى نقول لا أجر له؛ لأن العمل فيما يحمل وهو لغيرهما تأمل وتمامه في حواشي المنح للرملي وياتي قريبا ما يؤيده انتهى

قلت ومراده بما ياتي هو ما قدمناه عنه في مسئلة ما لو كان لاحدمها بغل وللآخر بعير من انه لو آجر كل واحد منهما دابته وشرط عملهما او عمل احدهما الخ ما تقدم قبيل التنبيهات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومن الخالق وتكملۃ الطوری (5/ 307) میں ہے:

«(قوله: والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال وإن شرط الفضل) لأن الربح فيه تابع للمال فيقدر بقدره كما أن الريع تابع للزرع في المزارعة، والزيادة إنما تستحق بالتسمية، وقد فسدت فبقي الاستحقاق على قدر رأس المال أفاد بقوله بقدر المال أنها شركة في الأموال فلو لم يكن من أحدهما مال وكانت فاسدة فلا شيء له من الربح؛ ولذا قال في المحيط دفع دابته إلى رجل يؤجرها على أن الأجر بينهما فالشركة فاسدة والأجر لصاحب الدابة وللآخر أجر مثله، وكذلك السفينة والبيت، ولو دفع دابته إلى رجل ليبيع عليها البر على أن الربح بينهما فالربح لصاحب البر ولصاحب الدابة أجر مثلها؛ لأن منفعة الدابة لا تصلح مالا للشركة كالعروض، ولو اشتركا ولأحدهما دابة وللآخر إكاف وجوالق على أن يؤجر الدابة والأجر بينهما فالشركة فاسدة؛ لأنها وقعت على العين فكانت بمعنى الشركة في العروض فإن أجر الدابة مع الجوالق والإكاف، فالأجر كله لصاحب الدابة وللدخيل معه أجر مثله بالغا ما بلغ، ولو اشتركا ولأحدهما بغل وللآخر بعير على أن يؤجراهما والأجرة بينهما لا تصح فإن أجراهما قسم الأجر بينهما على مثل أجر البغل ومثل أجر البعير اهـ.وفي القنية له سفينة فاشترك مع أربعة على أن يعملوا بسفينته وآلاتها، والخمس لصاحب السفينة والباقي بينهم بالسوية فهي فاسدة والحاصل لصاحب السفينة وعليه أجر مثلهم. اهـ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

‌‌[منحة الخالق]

(قوله: ولذا قال في المحيط دفع دابته إلى رجل إلخ) أقول: لم أر من ذكر الدابة المشتركة بين اثنين إذا دفعها أحدهما للآخر على أن يؤجرها ويعمل عليها وما حصل فهو بينهما أثلاثا الثلثان للعامل والثلث للآخر ولا شك في فساد الشركة؛ لأن المنفعة كالعروض كما صرح به في الخانية فكما لا تصح في العروض لا تصح فيها، وإذا قلنا بفسادها فالأجر مقسوم بينهما على قدر ملكهما للعامل منهما أجر مثل عمله ولا يشبه العمل في المشترك حتى نقول لا أجر له؛ لأن العمل فيما يحمل وهو لغيرهما فتأمل ذلك وهذه كثيرة الوقوع ببلادنا وغيرها وأنا في عجب من سكوتهم عنها، وإن أخذت من فحوى كلامهم والله الموفق. قال في الولوالجية: وإن اشتركا ولأحدهما بغل وللآخر بعير على أن يؤجرا ذلك فما رزقهما الله تعالى فهو بينهما نصفان فهذا فاسد، لأن هذه شركة وقعت على إجارة الدواب لا تقبل العمل، لأن تقدير هذا أن يقول لصاحبه بع منافع دابتك ليكون ثمنه بيننا، ولو صرحا بهذا كانت الشركة فاسدة، ثم إذا فسدت هذه الشركة فبعد ذلك المسألة على ثلاثة أوجه إن أجر كل واحد منهما دابته خاصة كان لكل واحد منهما أجر دابته خاصة كما قبل الشركة،وان اجراهما باعيانهماصفقةواحدة ولم يشترطافي الإجارة عمل أحدهما كان الأجر مقسوما بينهما على قدر أجر مثل دابتهما كما قبل الشركة، وإن أجر كل واحد منهما دابته وشرطا عملهما في الدابة أو عمل أحدهما من السوق والحمل وغير ذلك كان الأجر مقسوما بينهما على قدر أجر مثل دابتهما وعلى مقدار أجر عملهما كما قبل الشركة اهـ.وهو مؤيد لما قلنا خير الدين الرملي على المنح

المغنی لابن قدامہ  (5/ 9) میں ہے :

فصل: وإن دفع رجل دابته إلى آخر ليعمل عليها، وما يرزق الله بينهما نصفين أو أثلاثا أو كيفما شرطا، صح، نص عليه في رواية الأثرم ومحمد بن أبي حرب وأحمد بن سعيد. ونقل عن الأوزاعي ما يدل على هذا. وكره ذلك الحسن، والنخعي وقال الشافعي، وأبو ثور، وابن المنذر وأصحاب الرأي: لا يصح، والربح كله لرب الدابة؛ لأن الحمل الذي يستحق به العوض منها.وللعامل أجر مثله؛ لأن هذا ليس من أقسام الشركة، إلا أن تكون المضاربة، ولا تصح المضاربة بالعروض، ولأن المضاربة تكون بالتجارة في الأعيان وهذه لا يجوز بيعها ولا إخراجها عن ملك مالكها. وقال القاضي: يتخرج أن لا يصح، بناء على أن المضاربة بالعروض لا تصح، فعلى هذا إن كان أجر الدابة بعينها فالأجر لمالكها، وإن تقبل حمل شيء فحمله، أو حمل عليها شيئا مباحا فباعه، فالأجرة والثمن له، وعليه أجرة مثلها لمالكها.ولنا، أنها عين تنمى بالعمل عليها فصح العقد عليها ببعض نمائها، كالدراهم والدنانير، وكالشجر في المساقاة، والأرض في المزارعة. وقولهم: إنه ليس من أقسام الشركة، ولا هو مضاربة. قلنا: نعم، لكنه يشبه المساقاة والمزارعة، فإنه دفع لعين المال إلى من يعمل عليها ببعض نمائها مع بقاء عينها. . . . . . . . . . . . . . .وقد أشار أحمد إلى ما يدل على تشبيهه لمثل هذا بالمزارعة، فقال: لا بأس بالثوب يدفع بالثلث والربع؛ لحديث جابر، «أن النبي – صلى الله عليه وسلم – أعطى خيبر على الشطر.» وهذا يدل على أنه قد صار في هذا ومثله إلى الجواز؛ لشبهه بالمساقاة والمزارعة، لا إلى المضاربة، ولا إلى الإجارة. ونقل أبو داود، عن أحمد، في من يعطي فرسه على النصف من الغنيمة أرجو أن لا يكون به بأس.

المغنی لابن قدامہ(5/18) میں ہے:

القسم الرابع : أن يشترك مالان وبدن صاحب أحدهما فهذا يجمع شركة ومضاربة وهو صحيح فلو كان بين رجلين ثلاثة آلاف درهم لأحدهما الف  وللآخر ألفان فأذن صاحب الألفين لصاحب الألف أن يتصرف فيها على أن يكون الربح بينهما نصفين صح ويكون لصاحب الألف ثلث الربح بحق ماله والباقي وهو ثلثا الربح بينهما لصاحب الألفين ثلاثة أرباعه وللعامل ربعه وذلك لأنه جعل له نصف الربح فجعلناه ستة أسهم منها ثلاثة للعامل حصة ماله سهمان وسهم يستحقه  بعمله في مال شريكه وحصة مال شريكه أربعة أسهم للعامل سهم وهو الربع

غیر سودی بنکاری از مفتی تقی عثمانی  صاحب:ص 288میں ہے:

میں نے اپنے والدماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس سرہ سےحضرت حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ )کا یہ ارشادبارہا  سنا   کہ میں نے ابو حنیفہ عصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ سے اس بات کی صریح اجازت لی ہے کہ خاص طور پر معاملات کے باب میں جہاں ابتلاء  عام ہو وہاں چاروں ائمہ میں سے جس امام کے مذہب میں گنجائش نکلتی ہو، وہاں وہ گنجائش دی جائے۔ ‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved