- فتوی نمبر: 26-228
- تاریخ: 28 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
مفتی صاحب زید دبئی میں رہتا ہے بکر نے اس سے ایک ہزار درہم قرضہ مانگا زید نے کہا ٹھیک ہے میں بذریعہ بینک اکاؤنٹ بھیج رہا ہوں جس پر بینک والے مزید سو درہم کاٹیں گے جو آپ مجھے قرض کے ساتھ واپس دیں گے یعنی گیارہ سو درہم واپس کرنا پڑیں گے ، بکر اس بات پر زید کے ساتھ راضی ہو گیا ۔
مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں کہ زید کا بکر سے یہ سو درہم لینا شرعا کیسا ہے ؟ کیا یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا؟ تحقیقی جواب دے کر مشکور فرمائیں
وضاحت مطلوب ہے کہ:1) کیا واقعتا ایک ہزار درہم بھیجنے پر سو درہم خرچہ آئے گا یا محض فرضی بات ہے۔2) بکر یہ قرضہ واپس کیسے کرے گا ؟ اگر بینک کے ذریعے کرے گا تو کیا صرف گیارہ سو دے گا یا بارہ سو دینے پڑیں گے؟
جواب وضاحت :1) جی واقعتا ایک ہزار درہم بھیجنے پر سو درہم خرچہ آئے گا فرضی بات نہیں ہے۔2) قرض بینک کے ذریعے واپس نہیں ہوگا بلکہ دستی واپس کیا جائے گا ، دینے والے کے بینک کے ذریعے دینے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے پاس رقم اکاؤنٹ میں ہی ہوتی ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرض دینے والے کو اگر قرض دینے میں کوئی حقیقی خرچہ برداشت کرنا پڑے تو وہ اس کا تقاضہ قرض لینے والے سے کر سکتا ہے اور یہ سود شمار نہیں ہوگا کیونکہ اس صورت میں قرض دینے والا کوئی اضافی نفع نہیں اٹھا رہا بلکہ جو اس کا حقیقی خرچہ آیا ہے صرف وہی وصول کر رہا ہے ۔
نوٹ: یہ اصولی اعتبار سے جواب ہے، البتہ مذکورہ صورت میں
(1) ہماری حاصل کردہ معلومات کے مطابق دوبئی میں اگرایک اکاؤنٹ سے کسی اور اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کی جائے تو اگر دونوں اکاؤنٹ ایک ہی بینک کے ہوں تو کوئی خرچہ نہیں آتا اور اگر دونوں بینک الگ الگ ہوں ہو تو 5 درہم خرچہ آتا ہے اور اگر دونوں اکاؤنٹ دو مختلف ملکوں کے ہوں تو 40 درہم خرچہ آتا ہے ،یعنی زیادہ سے زیادہ 40 درہم خرچہ آتا ہے۔
(2) میں یہ خرچہ ضروری بنتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ کسی خاص صورت کی تفصیلی معلومات کے مطابق ہی کیا جاسکتا ہے۔
معيار القرض من المعايير الشرعية (بند 9/1) میں ہے
يجوز للموسسة المقرضة ان تاخذ علي خدمات القروض مايعادل مصروفاتها الفعلية المباشرة ، ولا يجوز لها اخذ زيادة عليها
مستند جواز ان ياخذ المقرض ما يعادل التكلفة الفعلية فقط انها ليست زيادة علي القرض والمقرض محسن وما علي المحسن من سبيل ۔۔۔۔ وقد صدر بشان التكاليف الفعلية للقرض قرار مجمع الفقه الاسلامي الدولي
معيار القبض من المعايير الشرعية (4/2/1) میں ہے
مصروفات التسليم والاستيفاءفي عقد القرض التي تتعلق بتوفيته باحدي الوحدات القياسية العرفية ونحو ذلك تكون على المقترض
مستند تحميل المقترض مصروفات التسليم والاستيفاء ۔۔۔۔۔۔۔ هو ان المقرض فعل معروفا وفاعل المعروف لايغرم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved