- فتوی نمبر: 26-239
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک حدیث سے متعلق سوال ہے(حدیث یہ ہے) کہ مدینہ منورہ میں کچھ منافق یہودیوں کو پیٹ بڑھنے کی بیماری ہوگئی تھی حضورﷺ نے فرمایا کہ انہیں بیت المال میں لے جاؤ ،کچھ دن وہاں رکھو اور انہیں اونٹنی کادودھ اور پیشاب پلاؤ جس سے ان کی بیماری جاتی رہی۔
(۱)یہ حدیث اصل میں ہے یا نہیں؟(۲)اگر ہے تو راوی کون ہیں ؟ (۳) اور کون سی حدیث کی کتاب سے ثابت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(۱)یہ حدیث ہے مگر بعینہ ان الفاظ کے ساتھ نہیں جو سوال میں مذکور ہیں بلکہ کچھ فرق کے ساتھ ہے اگرچہ مضمون تقریبا وہی ہے جو سوال میں مذکور ہے۔
(۲)اس حدیث کے راوی حضرت انس بن مالک ؓ ہیں جو صحابی رسول ﷺ ہیں ۔
(۳) یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور صحاح ستہ اور حدیث کی دیگر کتابوں میں بھی الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ موجود ہے مگر مرکزی مضمون سب میں تقریبا ایک جیسا ہے۔
تنبیہ:باقی رہی یہ بات کہ اونٹ کا پیشاب تو ناپاک ہے پھر اسے پینے کا حکم کیوں دیا ؟ تو اس کے اہل علم نے مختلف جوابات دئیے ہیں ۔ ایک آسان جواب یہ ہے کہ اگر کسی بیماری کی کوئی پاک اور حلال دوا موجود نہ ہو اور کسی ناپاک یا حرام چیز سے بیماری کے دور ہونے کا یقین ہو تو ایسی صورت میں حرام یا ناپاک چیز کا استعمال بطور دوا کے جائز ہے اورآپﷺ کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا تھا کہ ان لوگوں کی بیماری کی شفاء اونٹ کے پیشاب میں ہے اس لئے صرف انہی کو حکم دیا، اور دوسرا جواب یہ ہے کہ آپﷺ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ حقیقت میں کافر ہیں اگر چہ ظاہری طور پر اسلام لے آئے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ وہ لوگ بعد میں مرتد ہوگئے اور کافر کے لئے ناپاک دوا کی تجویز کرنا جائز ہے۔
ترمذی (96/1)میں ہے:
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني حدثنا عفان بن مسلم حدثنا حماد سلمة حدثنا حميد و قتادة و ثابت عن أنس : أن أناسا من عرينة قدموا المدينة فاجتووها فبعثهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في إبل الصدقة وقال اشربوا من ألبانها وأبوالها فقتلوا راعى رسول الله صلى الله عليه و سلم واستاقوا الإبل وارتدوا عن الاسلام فأتى بهم النبي صلى الله عليه و سلم فقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف وسمر أعينهم وألقاهم بالحرة قال أنس فكنت أرى أحدهم يكد الأرض بفيه حتى ماتوا وربما قال حماد يكدم الأرض بفيه حتى ماتوا قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روى من غير وجه عن أنس
حاشیۃ الترمذی لشیخ الہندؒ(96/1)میں ہے:
وأجاب البعض بأنه علم وحيا بأن شفاءهم فيه فلذا حكم بالشرب ، او علم النبي أنهم كفار فى الحقيقة وإن اسلموا ظاهرا كما وقع بعد بأن ارتدوا ، فلذا حكم لهم بالشرب
فتاوی خلیلیہ(299)میں ہے:
سوال: مسلمان طبیب کو غیر مسلم کےلئے دواء نجس دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا شراب بھی اس میں داخل ہے؟
جواب : مسلمان طبیب کا شرعا نجس دواء غیر مسلم مریض کو استعمال کرانا جائز ہے، بشرطیکہ وہ مریض اپنے مذہب کی رو سے نجس یا ناجائز نہ سمجھتا ہو ، بعد اطلاع اگر وہ مریض غیر مسلم باختیار خود استعمال کرے تو خواہ وہ اسکو نجس یا غیر نجس جو کچھ سمجھتا ہو ہر طرح جائز ہے اور شراب بھی اسی حکم میں داخل ہےبشرطیکہ یہ طبیب محض زبانی بتلا دیتا ہے یا نسخہ لکھ دیتا ہے اور اگر دواء اپنے پاس سے دیتا ہے تو ایسی دواء اگر نجس العین مثل خمر کے ہے تو ناجائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved