• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میانی قبرستان میں کوئی حصہ اپنی یا اپنے خاندان کی قبروں کے لیے متعین کرنا

استفتاء

مسئلہ یہ ہے کہ میانی قبرستان میں جہاں مولانا حامد میاں صاحب وغیرہ کی قبریں ہیں ان کے قریب ہی میرے والدین کی قبریں ہیں جن کے پاؤں کی جانب ایک قبر کی جگہ خالی تھی، میں نے گورکن کو پیسے دے دیے کہ یہاں پر ایک فرضی قبر بنا دیں اور اس نے فرضی قبر بنا دی ہے،بعد میں خیال آیا کہ یہ جائز بھی ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہ عمومی قبرستان ہے، محکمہ اوقاف والوں سے بھی بات ہوئی ہے کہ کوئی جگہ اگر ہے تو ہم سے پیسے لے لیں لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے اور اب تو قبر کے اوپر قبر بن رہی ہے اور ہم جو جگہ دے بھی رہے ہیں یا پرچی کاٹ رہے ہیں وہ اس کی کاٹ رہے ہیں کہ اپنے آباؤ اجداد کی قبروں میں سے کوئی جگہ نکلتی ہے تو نکال لو،تو میرا سوال یہ ہے کہ یہ جو فرضی قبر ہم نے بنوائی ہے اور جگہ روکی ہے کہ اگر ہمارے خاندان میں سے کوئی فوت ہوتا ہے تو اس کو وہاں دفن کر دیں گے کیونکہ وہ جگہ والدین کی قبروں کے قریب ہے تو اس طرح قبر کی جگہ روکنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اس طرح قبر کی جگہ روکنا جائز تو ہے لیکن اگر کوئی اور شخص اس جگہ پر کسی میت کودفن کرنا چاہے تو کر سکتا ہے البتہ اس صورت میں آپ اس سے قبر روکنے کی وجہ سے ہونے والا خرچہ وصول کر سکتے ہیں ۔

در مختار مع ردالمحتار(3/183) میں ہے:

’’ويحفر قبرا لنفسه، وقيل يكره والذي ينبغي أن لا يكره تهيئة نحو الكفن

قال ابن عابدين:(قوله: ويحفر قبرا لنفسه) في بعض النسخ: وبحفر قبر لنفسه، على أن لفظة حفر مصدر مجرور بالباء مضاف إلى قبر: أي ولا بأس به. وفي التتارخانية: لا بأس به، ويؤجر عليه، هكذا عمل عمر بن عبد العزيز والربيع بن خيثم وغيرهما. اهـ‘‘

المحیط البرہانی (6/220) میں ہے:

«حفر قبراً في مقبرة وقفاً، فأراد آخر أن يدفن فيها ميتة فإن كان في المكان سعة لا يدفن؛ لأنه يوحش صاحبه الذي حفر، وإن لم يكن فيه سعة يدفن، ونظير هذا من بسط المصلي في المسجد أو نزل في الرباط فجاء آخر فإن كان في المكان سعة لا يزاحم الأول، وإن لم يكن فيه سعة يزاحمه، ثم إذا كان في المكان سعة ومع هذا دفن فيه غير الحافر لا يكره، هكذا قال الفقيه أبو الليث قال: لأن الذي حفر لا يدري بأي أرض يموت»

وفي آخر غصب «فتاوي أهل سمرقند» : حفر قبراً فدفن فيه غيره ميته؛ لا ينبش القبر لكن يجب ‌قيمة ‌حفره حتى يحفر آخر فيدفن فيه ولم يرد به أن الحفر كان في ملك الحافر؟ لأن في هذه الصورة ينبش القبر ويفرغ ملك المالك، وإنما أراد به أن الحفر كان في غير ملكه بأن كان في أرض مباح أو في مقبرة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved