• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نفل میں غیر قبلہ کی طرف سجدہ تلاوت کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے علماء دین متین کہ سفر کی حالت میں نفل نما ز بیٹھ کر پڑھتے  ہیں، اور قبلہ کی طرف رخ کرنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ دوران نفل اگر آیت سجدہ پڑھ لیں تو سجدہ تلاوت تو واجب ہے، اور واجب سجدہ میں قبلہ رُخ ہونا شرط ہے۔ تو اگر چلتی گاڑی میں سجدہ تلاوت ادا کیا جائے چاہے قبلہ کی طرف یا غیر قبلہ کی طرف تو کیا سجدہ ادا ہو جائے گا یا گھر آکر دوبارہ ادا کرنا پڑے گا۔ رہنمائی فرمائیں

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگرچہ سجدہ تلاوت واجب ہے اور عام حالات میں سجدہ تلاوت کے لیے قبلہ رخ ہونا ضروری ہے، لیکن جب نماز میں سجدہ کی آیت تلاوت کی جائے تو اس کا حکم نماز والا ہو جاتا ہے، لہذا جیسی نماز ہو گی اسی کے مطابق سجدہ تلاوت ادا کرنے سے ادا ہو جائے گا۔ لہذا سفر میں سوار ہونے کی حالت میں جب نفل نماز غیر قبلہ کی طرف پڑھنا جائز ہے تو سجدہ تلاوت بھی غیر قبلہ کی طرف جائز ہو گا۔

فتح القدیر: (13/2) میں ہے:

(والسجدة واجبة) يعني باعتبار الاصل او هي او بدلها، فانه لو تلاها راكبا كان الواجب الايماء لها، لما سنذكر، ولان المتلوة في الصلاة التحقت بافعال الصلاة، والصلاة على الدابة يكون وسجودها بالايماء۔

فتاوى شامى (699/2) میں ہے:

(سجود التلاوة) ۔۔ بشروط المتقدمة (خلا التحريمة) ونية التعيين، وركنها السجود او بدلها كركوع مصل وايماء مريض وراكب۔ قال الشامي تحت قوله: (وراكب) اذا تلاها او سمعها راكبا خارج المصر، وان نزل بعدها ثم ركب، اما لو وجبت على الارض فانها لا تجوز على الدابة لانه وجبت تامة بخلاف العكس۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved