- فتوی نمبر: 26-284
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ عشاء کے بعد سو جاؤ اور پھر رات کےپہر میں اٹھ کر دو دوپڑھو پھر ایک رکعت پڑھ کر سب کو طاق بناؤ۔ یہ سمجھادیں کہ یہ بات کس طرح ہے کیونکہ مجھے ایک شخص نے بتایا ہے کہ حدیث سے وتر ایک رکعت ثابت ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
وتر پڑھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ تین رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائیں۔ کیونکہ حضور اکرمﷺ سے وترکے تین رکعت پڑھنا منقول ہے جیسا کہ معتدداحادیث میں مذکور ہے اور ایک رکعت وتر سے منع کیا گیا ہے لہٰذا جس حدیث میں ایک رکعت کا ذکر ہے اس سے مراد ہے کہ تہجد کے نوافل کے بعد وتر کی دو رکعتوں کے ساتھ بغیر سلام پھیرے ایک رکعت ملاتے تھے۔ حضور اکرمﷺکا نئی تحریمہ کے ساتھ صرف ایک رکعت پڑھنا کسی بھی حدیث میں منقول نہیں۔
سنن النسائی(1701) میں ہے:
عن أبي بن كعب قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ في الوتر بسبح اسم ربك الأعلى وفي الركعة الثانية بقل يا أيها الكافرون وفي الثالثة بقل هو الله أحد ولا يسلم إلا في آخرهن.
ترجمہ:حضرت ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺوتر کی پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی، دوسری رکعت میں قل یا ايهاالکافرون اور تیسری رکعت میں قل هوالله احد پڑھا کرتے تھے، اور سلام نہیں پھیرتے تھےمگران کے آخرمیں۔
صحیح مسلم(763) میں ہے:
عن عبد الله بن عباس أنه رقد عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستيقظ فتسوك وتوضأ وهو يقول…….. يستاك ويتوضأ ويقرأ هؤلاء الآيات ثم أوتر بثلاث.
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ وہ(ایک رات) رسول اللہﷺ کے ہاں سوئے تاکہ آپﷺ کی رات کی عبادت کا مشاہدہ کریں………………آپﷺ نے مسواک کی اور وضو کیا پھر نوافل ادا کیے ان کے بعد پھر آپ نے وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔
صحیح بخاری(1147) میں ہے:
عن عائشة رضي الله عنها ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة يصلي أربعا فلا تسل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي أربعا فلا تسل عن حسنهن وطولهن ثم يصلي ثلاثا قالت عائشة فقلت يا رسول الله أتنام قبل أن توتر فقال يا عائشة إن عيني تنامان ولا ينام قلبي.
ترجمہ:حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ رمضان ہو یا غیر رمضان رسول اللہﷺ گیارہ رکعتوں سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔آپﷺ پہلے چاررکعت پڑھتے تھے تو تم ان حسن اور طول کے بارے میں مت پوچھو۔ پھر آپﷺچار رکعت پڑھتے تھے تو تم ان کے حسن اور طول کے بارے میں مت پوچھو۔پھر آپﷺ تین رکعت(وتر) پڑھتے تھے۔
مستدرک حاکم(304/1) میں ہے:
عن عائشة رضى الله عنه قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يسلم في الركعتين الاولين من الوتر.
ترجمہ:حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی پہلی دو رکعتوں پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔
مؤطا امام محمد(15/2) میں ہے:
عن أبي سعید أن رسول الله صلی الله عليه وسلم نهى عن البتیراء أن یصلي الرجل واحدة یوتر بها.
ترجمہ:حضرت ابوسعیدخدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بتیراء (دم کٹی ہوئی) سے منع فرمایا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی وتر کی ایک رکعت پڑھے۔
الموطأ امام محمد (264) میں ہے:
عن ابن مسعود قال: ما أجزأت ركعة واحدة قط.
ترجمہ: حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ایک رکعت(نماز) تو کبھی بھی کافی نہیں ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved