• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو حافظوں کا تراویح میں قرآن ختم کرنے کا حکم

استفتاء

دو حافظ قرآن نماز تراویح میں ایک قرآن مجید مکمل کرتے ہیں ان کا یہ قرآن مجید پڑھنا کس درجے میں آتا ہے سنت ہے ؟مستحب ہے؟ یا مکروہ ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

تراویح  میں پورا قرآن پڑھنا یا سننا سنت ہے خواہ اس کی صورت یہ ہو کہ ایک ہی حافظ پورا قرآن تراویح میں پڑھے یا یہ صورت ہو کہ کچھ حصہ ایک پڑھے اور کچھ حصہ دوسرا پڑھے اور جب دوسرا پڑھے تو پہلا اس حصے کو سنے تا کہ دونوں حافظوں کا قرآن تراویح میں پڑھ کر یا سن کر مکمل ہو لہذا مذکورہ طریقہ بھی سنت میں داخل ہے،اور حضرت عمر ؓ کے دور میں بھی یہ صورت رائج تھی کہ دس تراویح حضرت ابی ؓ پڑھاتے اور دس تراویح حضرت تمیم ؓ پڑھاتے  اور جتنا قرآن حضرت ابیؓ دس تراویح میں پڑھتے  اس سے آگے حضرت تمیم ؓ پڑھتے ، جیسا کہ مؤطا امام مالک اور اس کی شرح اوجز المسالک میں ہے۔

مؤطا امام مالک مع اوجز المسالک (386/2) میں ہے:

عن السائب بن يزيد، أنه قال: أمر عمر بن الخطاب أبي بن كعب وتميما الداري أن يقوما للناس بإحدى ‌عشرة ‌ركعة قال: وقد كان القارئ يقرأ بالمئين، حتى كنا نعتمد على العصي من طول القيام، وما كنا ننصرف إلا في فروع الفجر

(قوله أن يقوما للناس)أي يؤماهم قال الباجي يصلي بهم أبي ما قدر ثم يخرج فيصلي تميم والصواب أن يقرأ الثاني من حيث انتهى الأول ،لأن الثاني إنما هو بدل عن الأول ونائب عنه ،وسنة قراءة القرآن على الترتيب وقال القاري يحتمل أن تكون المناوبة في الركعات أو الليالي اه والأوجه عندي الأول….

قلت :ويمكن توجيه آخر غير ماتقدم وهو أن يقال إن رواية إحدى وعشرين باعتبار مجموع ما صلياه وإحدى عشرة باعتبار كل واحد منهما فكان يصلي كل واحد منهما عشرا عشرا والواحد الوتر يصلي مرة هذا ومرة هذا فيصح النسبة إليهما معا.

الجوهرة النيرة  (1/ 98) میں ہے:

الختم في التراويح مرة سنة ‌والختم ‌مرتين ‌فضيلة والختم ثلاث مرات في كل عشر ليال مرة أفضل فالختم مرة يقع بقراءة عشر آيات في كل ركعة والختم مرتين يقع بقراءة عشرين آية والختم ثلاثا يقع بقراءة ثلاثين آية.

المحیط البرہانی (253/2) میں ہے:

أن السنّة الختم في التراويح مرة، ‌والختم ‌مرتين ‌فضيلة، والختم ثلاث مرات في كل عشر مرة أفضل.

فتاویٰ تاتارخانیہ (479/1) میں ہے:

أن السنّة الختم في التراويح إنما هي الختم مرة،والختم  ‌مرتين ‌فضيلة، والختم ثلاث مرات في كل عشرة مرة أفضل.

فتاویٰ ہندیہ (252/1) میں ہے:

السنة في التراويح إنما هو ‌الختم ‌مرة… والختم مرتين فضيلة والختم ثلاث مرات أفضل، كذا في السراج الوهاج .

فتاویٰ محمودیہ(291/7) میں ہے:

مسئلہ :ایک مرتبہ قرآن شریف ختم کرنا (پڑھ کر یا سن کر ) سنت ہے، دوسری مرتبہ فضیلت ہے اور تین مرتبہ افضل ہے، لہذا اگر ہر رکعت میں تقریباً دس آیتیں پڑھی جائیں تو ایک مرتبہ بسہولت ختم ہو  جائے گا اور مقتدیوں کو بھی گرانی نہ ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved