• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تیمم اور ناپاک کپڑوں میں نماز کا حکم

استفتاء

سوال یہ ہے کہ(1)  تیممکرنا کب  واجب ہوتا ہے؟ اور(2)  کتنے عرصہ تک بندہ تیمم کرسکتا ہے؟ اور(3)  اگر بندہ اس جگہ رہتا ہے جہاں تیمم کرنا واجب ہے اور بندے کو احتلام وغیرہ ہوجاتا ہے اور پہننے کے لئے کپڑے بھی دوسرے میسر نہیں ہیں تو اس حالت میں بندہ کو کیا کرنا چاہیے؟ خصوصا کسی ایک جگہ اگر ایک شخص 10 سے 15 دنوں تک رہے اور وہاں صرف پینے کے پانی کے علاوہ کچھ نہ ہو اور نماز کو بھی نہیں چھوڑ سکتا خصوصاآرمی میں  10سے 15 دنوں تک  اسی حالت میں رہنا پڑتا ہے تو اس حالت میں تیمم کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تو میں نے آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کپڑے بھی اور نہیں ہیں جوکہ بندہ ناپاک ہونے کی صورت میں تبدیل کرلے تو اس صورت میں میرا دین کیا کہتا ہے۔ کیا کرنا چاہیے؟ آپ کے جواب کا مشکور ہوں گا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ تیمم کرنا دو صورتوں میں واجب ہوتا ہے۔ (1) آدمی بیمار ہو اور پانی کا استعمال کرنا نقصان دہ ہو۔(2) آدمی آبادی سے باہر ہو اور  1.8 کلومیٹر کے اندر اندر پانی دستیاب نہ ہو  یا پانی دستیاب ہو  لیکن وہ   اتنا کم ہو کہ اسے وضو یا غسل کے لئے استعمال کر لینے کی صورت میں پینے کے لئے پانی نہ بچتا ہو اور مزید پانی کا کوئی انتظام نہ ہوسکتا ہو۔

2۔ جب تک مذکورہ بالا  دو صورتیں برقرار رہیں  اس وقت تک تیمم کیا جاسکتا ہے۔

3۔ اگر اتنا پانی دستیاب ہو جس سے کپڑے کے صرف اتنے حصے کو دھو لیاجائے جتنے پر ناپاکی لگی ہوئی ہے تو اتنی جگہ کو دھو کر اس کپڑے میں نماز پڑھے ورنہ اسی ناپاک کپڑے میں نماز پڑھنے کی گنجائش  ہے۔

قدوری مع اللباب(1/51) قدیمی کتب خانہ،میں ہے:

ومن لم يجد الماء وهو مسافر أو خارج المصر بينه وبين المصر نحو الميل أو اكثر أو كان يجد الماء إلا أنه مريض فخاف إن استعمل الماء إشتد مرضه ………. فإنه يتيمم بالصعيد

مجمع الانہر(1/85)مکتبہ المنار کوئٹہ، میں ہے:

وقوله عليه الصلوة والسلام: (التراب طهور المسلم) ولو إلى عشر حجج مالم يجد الماء

مجمع الانہر(1/123)مکتبہ المنارکوئٹہ، میں ہے:

وعادم ما يزيل به النجاسة يصلى معها ولا يعيد

فتاوی عالمگیری(1/48)میں ہے:

يجوز التيمم لمن كان بعيدا من الماء ميلا

وفيه ايضا: ولو كان يجد الماء الا انه مريض او يخاف ان استعمل الماء اشتد مرضه او ابطا برؤه يتيمم.

تنویر الابصار مع الدر المختار(2/107)میں ہے:

(ولو وجد ما) أى ساترا (كله نجس) ………. (فانه لا يستر به فيها) اتفاقا بل خارجها ذكره الوانى (او اقل من ربعه طاهر ندب صلاته فيه)…… (ولو) كان (ربعه طاهرا صلى فيه حتما) اذ الربع كالكل وهذا اذا لم يجد ما يزيل به النجاسة أو يقللها.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved