- فتوی نمبر: 26-314
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > گناہ کے کاموں میں استعمال ہونے والی اشیاء کی خرید و فروخت
استفتاء
کاسمیٹکس کا کاروبار کرنا شریعت کے لحاظ سے جائز ہے یا نہیں؟ کاسمیٹکس سے مراد لیڈیز پرفیوم، لپ سٹک، نیل پالش، فیس پاؤڈر اور چہرے پر لگانے والی کریمیں ہیں۔ کیونکہ آج کل کے حالات میں ایک دوکاندار کے لیے خریداری سے پہلے ہر ہر چیز کے بارے میں یہ دیکھنا مشکل ہے کہ کونسی چیز کس مُلک کی ہے جبکہ کافی چیزیں ایسے مُلکوں سے آرہی ہیں جو اسلامی ملک نہیں ہیں وہاں کے لوگوں کو دین کا علم نہیں ہے، وہ ان کاسمیٹکس کی چیزوں میں حرام چیزیں ملا سکتے ہیں۔ اُنکے مُلک سے آئی ہوئی چیزیں بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ تفصیل سے اصلاح فرما دیجئے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کاسمیٹکس کا کاروبار بنیادی طور سے ایک جائز کاروبار ہے،ہاں اگر کسی چیز کے بارے یقینی یا ظن غالب کے درجے میں معلوم ہو جائے کہ اس میں ایسا عنصر شامل ہے جس کا استعمال جائز نہیں ہے تو اسے فروخت کر نے سے احتیاط کی جائے اور اس کا حکم الگ سے معلوم کر لیا جائے۔
توجیہ: جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو جائے تب تک غیر مسلم ممالک سے درآمد کردہ کاسمیٹکس کے اجزاء ترکیبی میں حیوانی اجزاء یا الکوحل موجود ہونے کا شبہ رہتا ہے ،لیکن ان حیوانی اجزاء کا بھی حرام جانور کا نجس جزو ہونا اور الکوحل کا خاص اشربہ اربعہ محرمہ میں سے ہونا لازمی نہیں ہے بلکہ اس کا شبہ ہے۔ گویا ان کاسمیٹکس میں حرام اجزاء کے موجود ہونے کا شبہ نہیں ہے بلکہ شبہۃ الشبہ ہے۔ شریعت میں شبہ کا تو اعتبار کیا گیا ہے شبہۃ الشبہ کا اعتبار نہیں کیا گیا، لہٰذا اس کاروبار کی گنجائش ہے۔
امداد الفتاوی(96/4)میں ہے:
’’سوال (۲۳۷۴) : جب سے پتہ لگا ہے کہ بعض ولایتی رنگوں میں اسپرٹ کا شبہ ہے اسی وقت سے جب بھی کپڑا پہنتا ہوں تو طبیعت میں شک رہتا ہے کہ یہ کہیں ناپاک نہ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرماویں کہ ولایتی رنگ دار کپڑوں مثلاً رنگین گرم کپڑے، رنگین دھاری دار سرد کپڑے، عورتوں کے لئے پختہ رنگ کی رنگین چھینٹیں وغیرہ بلا دھوئے پہننے اور پہن کر نماز پڑھنے میں حرج تو نہیں ہے؟
(۲) حضرت والا یہ بھی ارشاد فرماویں کہ عورتوں کے لئے ولایتی رنگوں سے دوپٹہ وغیرہ رنگ کر پہننے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اول تو خود ان رنگوں میں جزونجس شامل ہونے میں شبہ پھر ان کپڑوں میں ان رنگوں کے شامل ہونے میں شبہ تو کپڑوں کے نجس ہونے کا شبہۃ الشبہ ہوگیا؛ اس لئے فتوے سے گنجائش ہے باقی اگر کوئی ورع اختیار کرلے اولیٰ واحسن ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved