• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر نے شدید غصے میں تین طلاقیں دینے کے بعد بیوی کے سامنے تین طلاقوں کا قرار کرلیا، کیا تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟

استفتاء

آج سے پانچ سال پہلے میاں بیوی خوش وخرم تھے، دونوں ہنس کھیل رہے تھے تو شوہر کو اس کے بھائی کا فون آیا کہ بہنیں سال بعد تمہارے پاس آتی ہیں تو تمہاری بیوی ان سے لڑتی ہے ان کو برا بھلا کہتی ہے، ان کا آنا اسے پسند نہیں ہے۔ موبائل فون لاؤڈ سپیکر پر تھا اس لیے بیوی نے یہ سب سن لیا اور لڑنا شروع کردیا، بہنوں کو برا بھلا کہا اور گالیاں دیں۔ شوہر کو بھی برا بھلا کہا اور اس کی فوت شدہ ماں کو بھی گالیاں وغیرہ دیں جو کہ ناقابلِ بیان ہیں، جس سے شوہر کو غصہ آیا اور وہ ہوش وحواس کھو بیٹھا اور بیوی کو ’’طلاق ہے‘‘ کے الفاظ بول دیئے جو شوہر کو یاد نہیں ہیں، اس وقت کوئی خلافِ عادت فعل مثلا کوئی توڑ پھوڑ وغیرہ نہیں کیا تھا۔ بیوی نے شوہر کو بتایا کہ تم نے یہ الفاظ بولے ہیں اور وہ ان الفاظ سے اور زیادہ بھڑکی اور پھر پہلے سے بڑھ کر تماشا شروع کردیا۔ نہ چاہتے ہوئے اچانک شوہر کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ ’’ایک طلاق ہے‘‘ یہ الفاظ شوہر کو یاد ہیں۔ اس کے بعد رجوع ہوگیا۔

اس کے تین سال بعد بیوی کہتی رہی کہ دوسری شادی کرلو، تمہارے بہن بھائی اس کے پاس جایا کریں، میرے پاس نہ آئیں، جب شوہر کا ارادہ بن گیا تو اس نے کہا کہ شادی کرلوں؟ جس سے وہ آگ بگولہ ہوگئی اور کہا کہ میں تجھے اور اس کو برباد کردوں گی، بد نام کردوں گی۔ شوہر کو یہ یاد ہے کہ اس نے اس وقت کہا تھا کہ میں اس وقت طلاق دوں گا جب میں نہیں رکھوں گا۔ جبکہ بیوی نے کہا کہ تم نے یہ کہا کہ ’’میں تجھے طلاق دیتا ہوں اِس وقت‘‘ دو سال بعد دونوں ہنسی خوشی بازار جارہے تھے کہ راستے میں ٹوٹی سڑک کی وجہ سے جمپ لگا اور بیوی گرگئی، اس نے کہا کہ تم نے مجھے جان بوجھ کر گرایا ہے تاکہ میں مر جاؤں۔ اس نے شور مچا کر مجمع اکٹھا کردیا کہ اس نے مجھے جان بوجھ کر گرایا ہے، یہ مجھے مارتا پیٹتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ الفاظ سن کر لوگوں نے شوہر کو برا بھلا کہا اور مارا پیٹا بھی اور پھر پولیس کو بلالیا، پولیس نے آکر دونوں میاں بیوی کی صلح کروادی، اور ان کو روانہ کردیا، تھوڑا سا آگے جا کر بیوی نے دوبارہ وہی تماشا شروع کردیا اور بچاؤ بچاؤ کا تقریبا چار میل تک شور ڈالتی رہی، تھوڑی دیر بعد اس نے کہا کہ موٹر سائیکل روکو نہیں تو میں چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دوں گی، جب شوہر نے موٹر سائیکل کو آہستہ کیا تو بیوی نے چھلانگ لگا دی اور فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی اور بچاؤ بچاؤ کا واویلا پہلے سے زیادہ شروع کردیا، مجمع کو دوبارہ اکٹھا کرلیا اور وہی پہلے والی باتیں شروع کردیں، جس سے عوام غصے میں آگئی اور اس کی باتوں پر یقین کرکے کچھ لوگوں نے شوہر کو مارنے اور پیٹنے کا کہاجس سے ہجوم نے شدت اختیار کی۔ اس واقعے کو تقریبا تین گھنٹے ہوچکے تھے، جس سے شوہر مزید پریشان ہوا اور ہوش وحواس کھو بیٹھا، حلفا کہتا ہوں کہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے طلاق کے الفاظ بولے ہیں۔ دو آدمیوں نے آپس میں گفتگو کی کہ اس نے کہا ہے کہ ’’تجھے تین طلاق‘‘۔ اس کے دس منٹ بعد میں نے موبائل سے ویڈیو بنائی اور لوگوں کی اس گفتگو سے سمجھا کہ میں واقعی طلاق دے چکا ہوں اور اسی خیال سے میں نے کہہ دیا کہ ’’میں نے طلاق دے دی ہیں تین ، میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں اس کو ، ابھی منہ پے کہہ رہا ہوں،  فارغ ہوگئی ہے‘‘ کیا اس سے طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور کیا صلح کی گنجائش ہے؟

وضاحت مطلوب ہے کہ: بیوی کا مؤقف معلوم کرنے کے لیے رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جوابِ وضاحت: بیوی کا رابطہ نمبر یہ ہے: ******

بیوی سے رابطہ کرکے اس کا بیان لیا گیا تو اس نے مندرجہ ذیل تحریر لکھ کر بھیجی:

’’آج سے تقریباً 4 سال پہلے گھریلو جھگڑے کی وجہ سے خاوند نے 2 بار طلاق دی۔پہلے ایک طلاق دی اس کے کچھ دیر بعد دوسری طلاق دی۔ پھر تقریباً 2 سال کے بعد دوسری شادی کرنے کے موضوع پر جھگڑا ہوا، میں نے کہا کہ اگر آپ دوسری شادی کریں گے تو نہ میں اسے رہنے دوں گی یعنی دوسری بیوی کو اور نہ مدرسہ رہنے دوں گی۔ اس کے جواب میں خاوند نے کہا: ’’اگر تو ایسا مسئلہ کھڑا کرے گی پھر میں تجھے طلاق دیتا ہوں‘‘ جب انہوں نے یہ الفاظ بولے تو میں رونے لگی کہ آپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، وہ بولے کہ اس وقت طلاق ہوگی جب تم یہ مسئلہ کھڑا کروگی۔ اسی وقت ہم جامعہ اشرفیہ گئے، انہوں نے کہا کہ یہ طلاق معلق ہوگئی ہے۔ پھر ہم رہنے لگے۔

گزشتہ 9 محرم کو یہ واقعہ پیش آیا کہ ہم ہنسی خوشی گھر سے نکلے تھے کہ راستے میں چھوٹی سی بات پر بحث شروع ہوگئی، خاوند نے مجھے غصے میں پیچھے کہنی ماری، میں اپنے دھیان میں بیٹھی تھی تو کہنی لگنے سے گرگئی، میرے خاوند کہنے لگے کہ تم جمپ کی وجہ سے خود گری ہو، میں نے تمہیں نہیں گرایا، گرنے کی وجہ سے مجھے کافی چوٹیں آئیں، لوگ اکٹھے ہوگئے، پولیس بھی آگئی، خاوند کا لوگوں کے ساتھ جھگڑا شروع ہوگیا، ایک عورت نے تھپڑ بھی مارا اور پولیس کو بھی بلا لیا، انہوں نے ہمیں سمجھا کر ہاسپیٹل جانے کا کہا، ہم وہاں سے چلے تو میرے خاوند مجھے پارک لے جارہے تھے، میں نے کہا کہ میں نے آپ کے ساتھ نہیں جانا، میرے بھائی سے فون پر میری بات کرواؤ، مجھے بائک سے اتار دو، اگر نہیں اتارو گے تو جگہ جگہ پولیس کھڑی ہے میں ان کو آواز دوں گی، تو انہوں نے بائک روک دی، میں بائک سے اتر کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی کیونکہ مجھے چوٹوں کی وجہ سے تکلیف ہورہی تھی، یہ حال دیکھ کر وہاں بھی مجمع اکٹھا ہوگیا، میں نے بتایا کہ یہ مجھے ہاسپیٹل نہیں لے جارہے اور نہ بھائی سے بات کروارہے ہیں، خاوند کا کہنا تھا کہ پہلے بھی تم 1 سال بعد آئی ہو، اگر گھر بات کروا دی تو معاملات زیادہ خراب ہوجائیں گے، میری اس وقت حالت بگڑی ہوئی تھی،اسی بحث میں وہاں مجمع زیادہ ہوگیا، ایک آدمی نے خاوند کا گریبان پکڑا اور لوگوں سے مارنے کا کہا، لڑائی کے دوران خاوند نے کہہ دیا کہ ’’میں نے اس کو تین طلاق دی‘‘ پھر یہی الفاظ دوبارہ بولے۔ پھر اس کے تقریبا 10 منٹ بعد خاوند نے وڈیو بنائی جس میں وہ اپنے دوست کی بیوی کو بتا رہے ہیں کہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے، وڈیو آپ دیکھ سکتے ہیں۔ لوگوں نے بعد میں جب کہا کہ تم نے طلاق دی ہے تو یہ کہنے لگے کہ مجھے یاد نہیں، میں نے نہیں دی۔  طلاق کے واقعے کے علاوہ بھی میرے خاوند غصے میں باتیں کہہ جاتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں کہ میں نے نہیں کہیں اور نہ مجھے یاد ہیں۔ شریعت کے مطابق ہمیں بتائیں کہ کیا اب ہم میاں بیوی کے اکٹھا رہنے کی کوئی گنجائش ہے؟‘‘

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے، لہٰذا اب رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے بیوی کو تین مختلف موقعوں پر طلاق کے الفاظ بولے ہیں۔ پہلے اور دوسرے موقعے کے بعد تو گنجائش باقی تھی۔ اس کے بعد تیسرے موقعے پر شوہر نے بیوی کو ایک جھگڑے کے دوران تین طلاقوں کے الفاظ بولے تھے اس وقت شوہر چونکہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھا لہٰذا بیوی کے سامنے حلف دینے کی صورت میں ان الفاظ سے تو طلاق واقع نہ ہو گی لیکن تین طلاقوں کے الفاظ بولنے کے بعد شوہر نے جب یہ کہا کہ ’’میں نے طلاق دے دی ہیں تین ، میں نے تین طلاقیں دے دی ہیں اس کو ، ابھی منہ پے کہہ رہا ہوں،  فارغ ہوگئی ہے‘‘ جس کی ویڈیو بھی موجود ہے، ان الفاظ کے بارے میں اگرچہ شوہر کا یہ کہنا ہے کہ میں نے یہ الفاظ لوگوں کی باتیں سننے کے بعد اس خیال سے کہے تھے کہ شاید میں واقعی طلاق دے چکا ہوں حالانکہ مجھے طلاق دینا بالکل یاد نہیں لیکن چونکہ یہ الفاظ کہتے وقت شوہر اپنے ہوش وحواس میں تھا اور اس نے یہ الفاظ بیوی کے سامنے کہے ہیں اس لیے ان الفاظ سے بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔ اگر ان الفاظ کے حوالے سے شوہر کی اس بات کو بھی لیا جائے کہ وہ سابقہ طلاق کو سامنے رکھ کر کہہ رہا تھا تب بھی قضاء اقرار طلاق انشاء طلاق کو متضمن ہے لہذا اس کا یہ کہنا مفید نہیں۔

الاشباہ والنظائر (1/400، ادارۃ القرآن کراچی) میں ہے:

ولو أقر بطلاق زوجته ‌ظانا ‌الوقوع بإفتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية

وقال الحموي تحته: قوله: ولو أقر بطلاق زوجته ‌ظانا ‌الوقوع إلى قوله لم يقع إلخ. أي ديانة أما قضاء فيقع كما في القنية لإقراره به

رد المحتار (449/4) میں ہے:

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه

رد المحتار(439/4) میں ہے:

وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه……….

(وبعد اسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved