• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عورت کا 14،13 سالہ بچوں کو پردے میں قرآن پڑھانے کا حکم

استفتاء

عورت 13،14 سال کے لڑکوں کو پردے میں قرآن پاک پڑھا سکتی ہے؟

وضاحت  مطلوب ہے:خود عورت کی  عمر کیا ہے؟

جواب وضاحت:25 سال

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس عمر کے لڑکے اگر بالغ نہ بھی ہوں تو مراہق یعنی قریب البلوغ  ہوتے ہیں جو کہ بالغ کے حکم میں ہوتے ہیں نیز  راجح قول کے مطابق اگرچہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے لیکن مذکورہ صورت میں مفاسد کا اندیشہ ہے اس لیے پڑھانا ناجائز ہے۔

تبیین الحقائق (1/156) میں ہے:

قال في الفتح والغاية: والمراهق كالبالغ

شامی (3/532) میں ہے:

و مع زوج ‌أو ‌محرم بالغ  عاقل والمراهق كالبالغ

شامی (5/193) میں ہے:

قوله: غير مراهق أى ما لم يبلغ ثنتي عشرة سنة (قهستاني)

شامی(2/96) میں ہے:

(قوله ‌وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال – عليه الصلاة والسلام – «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولهذا منعها – عليه الصلاة والسلام – من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة

احکام القرآن، ظفر احمد تهانوى  (3/482) میں ہے:

حكم صوت المرأة : وقع الخلاف في صوت المرأة ، أنه من العورة فلا يجوز أن تتكلم بحيث يسمعها الأجانب، أو ليس بعورة فيرخص لها فى التكلم ، والحق الحقيق عند أرباب التحقيق، وهو أن صوت المرأة ليس بعورة في نفسه إلا أنه قد يكون سبباً للفتنة. فكان من القسم الثاني من سد الذرائع، فدار حكمه على الفتنة وعدمها فحيث خيفت الفتنة حرام إبدائه وحيث لا ، فلا ، كيف وقد حرم الله سبحانه وتعالى إظهار صوت الخلخال وأمثاله فقال: ولا يضربن بأرجلهن ، لمظنة الفتنة فكيف يجوز إظهار صوت نفسها مطلقاً ؟

امداد الفتاویٰ (9/234) میں ہے:

سوال : ……….  اور نابالغ لڑکوں اغیار سے پردہ کس عمر کے لڑکے سے چاہئے؟

الجواب: ………….. نابالغ لڑکے تین قسم کے ہیں ، ایک تو بالکل نادان جن کو بالکل کسی چیز کی تمیز نہیں ، ان کے رُوبرو توبرہنہ ہونا بھی جائز ہے، وہ مثل جمادات کے ہیں ۔ دوسراذرا ہوشیار کہ تمیز تو رکھتا ہے، مگر حدّ شہوت کو نہیں پہنچا، اُس کے رُوبرو ناف سے زانو تک کھولنا جائز نہیں باقی جائز ہے۔ تیسرا وہ جو قریب بلوغ کے پہنچ گیا ہو، اس کا حکم مثل بالغین کے ہے، تمام ستر ڈھانکنا اس سے فرض ہے۔

قال الله تعالى: أوالطفل الذین لم يظهروا علی عورات النساء. الآية

فإن الطفل إن کان ممیزًا لکنه لم یبلغ حد الشهوة جاز للنساء الانکشاف عنده إلا من السرة  إلی الرکبة، ولا یجوز لها بحضرته کشف ما تحت السرة، وإن کان طفلا غیر ممیز بالکلية فهو کالجمادات والبهائم، لابأس لو کشفت عنده ماتحت الإزار أیضاً وإن کان مراهقا یشتهي فحکمه حکم الرجال؛ لانه استعد للظهور علی عوراتهن. [تفسیر مظهري]

آپ کے مسائل اور ان کا حل (8/68) میں ہے:

“نامحرم سے بات کرنے کی اگر ضرورت پیش آئے تو عورت کو چاہیے کہ ایسے انداز سے بات کرے کہ نامحرم کی  اس کی طرف کشش نہ ہو،  زبان  میں لوچ  نہ ہو، بلکہ ایک طرح کا اکھڑپن اور  درشتی ہو”

معارف القرآن ، مفتی شفیع صاحبؒ  (6/406) میں ہے:

کیا عورت کی آواز فی نفسہ ستر میں داخل ہے اور غیر محرم کو آواز سنانا جائز ہے؟ اس معاملہ میں حضرات ائمہ کا اختلاف ہے ، امام شافعی کی کتب میں عورت کی آواز کوستر میں داخل نہیں کیا گیا ، حنفیہ کے نزدیک بھی مختلف اقوال ہیں، ابن ہمام ؒ نے نوازل کی روایت کی بنا ء پر ستر میں داخل قرار دیا ہے، اس لیے حنفیہ کے نزدیک عورت کی اذان مکروہ ہے لیکن حدیث شریف سے ثابت ہے کہ ازواج مطہرات نزول حجاب کے بعد بھی پس پردہ غیر محارم سے بات کرتی تھیں اس مجموعہ سے راجح اور صحیح  بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس موقع اور جس محل عورت کی آواز سے فتنہ پیدا ہونیکا خطرہ ہو وہاں ممنوع ہے جہاں یہ نہ ہو جائز ہے (جصاص) اور احتیاط اسی میں ہے کہ بلا ضرورت عورتیں پس پردہ بھی غیر محرموں سے گفتگو نہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved