• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک حدیث کی تشریح

استفتاء

حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنهما بيان كرتے ہىں  رسول الله ﷺ نے فرمایا:

من قتل دون ماله فهو شهيد

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کا  حق نہ دے رہا ہو تو کیا اپنا حق لینے کیلئے جدوجہد کرنا بھی اس میں شامل ہے یا نہیں؟

تنقیح:ایک مکان اور زرعی زمین میرےوالد صاحب کے نام تھی کرائے دار نے اس پرقبضہ کرلیا  ہے۔ اگر ہم  اس کو  چھڑانے کے لیے عدالتی کاروائی کرتے ہیں اور آپس کے جھگڑےمیں کوئی بندہ مرجاتا ہے تو کیا وہ بھی اس حدیث کے تحت داخل  ہوگا؟ یعنی کیا اس سےقتال اور لڑائی جھگڑے کی شرعا اجازت ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ اپنا حق لینے کے لئے عدالتی کاروائی تو کرسکتے ہیں لیکن لڑائی نہیں کرسکتے، اگر آپ کے لڑائی نہ کرنے کے باوجود دوسرا فریق آپ کا کوئی بندہ مار دیتا ہے تو وہ شہید شمار ہوگا۔

عمدۃ القاری (35/13) میں ہے :

وأما حديث مخارق بن سليم فأخرجه النسائي من حديث قابوس بن مخارق عن أبيه، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: الرجل يأتيني فيريد مالي؟ قال: ذكره بالله. قال: فإن لم يذكر؟ قال: فاستعن عليه بمن حولك من المسلمين. قال: فإن لم يكن حولي أحد من المسلمين؟ قال: فاستعن عليه بالسلطان، قال: فإن نأى السلطان عني؟ قال: قاتل دون مالك حتى تكون من شهداء الآخرة، أو تمنع مالك.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved