• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حائضہ عورت کا مسجد کی چھت پر جانا

استفتاء

ہماری مسجد کی چھت پر ناظرے والے بچے پڑھتے ہیں تو جو استانی بچوں کو پڑھاتی ہیں جب ان کو ایام حیض آتے ہیں تو اس کی وجہ سے ہم بچوں کی چھٹی کر دیتے ہیں اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ  حائضہ عورت کا مسجد میں جانا تو حرام ہے لیکن کیا وہ بچوں کو پڑھانے کے لیے  مسجد کی چھت پر بھی نہ جائے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مسجد کی چھت بھی مسجد کے حکم میں ہے لہذا جیسے حائضہ عورت مسجد میں نہیں جا سکتی ایسے ہی مسجد کی چھت پر بھی نہیں جا سکتی۔

درمختار (1/ 656)میں ہے:

«(و) كره تحريما (‌الوطء ‌فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلى عنان السماء»

رد المحتار (4/ 358) میں ہے:

«قال في البحر: وحاصله أن ‌شرط ‌كونه ‌مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]-»

در مختار (1/ 291) میں ہے:

«(و) يمنع حل (دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فيه

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved