- فتوی نمبر: 26-351
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > قسم اور منت کا بیان > نذر و منت کے احکام
استفتاء
اگر کسی نے منت مانی ہو کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو حضرت علی ؓ کے نام کے دو بکرے دوں گا تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
غیراللہ کے نام بکرے دینے کی منت ماننا درست نہیں بلکہ گناہ ہے لہذا اس پر توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔ اور مذکورہ صورت میں اس پر بکرے دینا یا ذبح کرنا ضروری نہیں۔
البحر الرائق (520/2) میں ہے:
وأما النذر الذي ينذره أكثر العوام على ما هو مشاهد كأن يكون لإنسان غائب أو مريض، أو له حاجة ضرورية فيأتي بعض الصلحاء فيجعل سترة على رأسه فيقول يا سيدي فلان إن رد غائبي، أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب كذا، أو من الفضة كذا، أو من الطعام كذا، أو من الماء كذا، أو من الشمع كذا، أو من الزيت كذا فهذا النذر باطل بالإجماع لوجوه منها أنه نذر مخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز؛ لأنه عبادة والعبادة لا تكون للمخلوق…ومنها إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر.
درمختار (491/3) میں ہے:
واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام.
امداد الفتاویٰ (543,544/2) میں ہے:
سوال: یہاں ایک مزار پر یہ رسم ہے کہ لوگ اُس پر منّت مانتے ہیں کہ ہمارا یہ کام پورا ہوجائے گا تو ہم اِن بزرگ کی مرغ کے قورمہ پر فاتحہ کریں گے چنانچہ کام پورا ہونے پر مزار کے احاطہ میں کسی مقام پر وہ مرغ بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا جاتا ہے اور اُس کا قورمہ اور روٹی پکاکر مجاور کے پاس لائی جاتی ہے جس میں سے بعد فاتحہ کچھ وہ لے لیتا ہے اور کچھ لانے والے کو بطور تبرک واپس کر دیتا ہے آیا وہ قورمہ روٹی غیر مقتدا کے لیے کھانا حلال ہے یا نہیں ؟
الجواب: في الدرالمختار: قبیل باب الإعتکاف واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الانام، وقد ابتلى الناس بذلك، ولا سيما في هذه الاعصار
۔ وفي رد المحتار: (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق (إلیٰ قوله) ومنه أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر، اللهم إلا إن قال يا الله إني نذرت لك إن شفيت مريضي أو رددت غائبي أو قضيت حاجتي أن أطعم الفقراء الذين بباب السيدة نفيسة (إلیٰ قوله) مما یکون فيه نفع للفقراء والنذر للّه عز وجل وذکر الشیخ إنما هو محل لصرف النذر لمستحقيه الخ (عن البحر) (قوله ما لم يقصدوا إلخ) أي بأن تكون صيغة النذر لله تعالى للتقرب إليه ويكون ذكر الشيخ مرادا به فقراؤه كما مر، ولا يخفى أن له الصرف إلى غيرهم كما مر سابقا ولا بد أن يكون المنذور مما يصح به النذر كالصدقة بالدراهم ونحوها، أما لو نذر زيتا لإيقاد قنديل فوق ضريح الشيخ أو في المنارة كما يفعل النساء من نذر الزيت لسيدي عبد القادر ويوقد في المنارة جهة المشرق فهو باطل۔ الخ
وفي الدرالمختار: قبیل کتاب الأضحیۃ ذبح لقدوم الاميرونحوه كواحد من العظماء يحرم لانه أهل به لغير الله ولو وصلية ذكر اسم الله تعالى۔ اھ
(۱) ان روایات سے اُمور ذیل مستفاد ہوئے :نمبر۱ : اگر اس نذر سے یابدون نذر کے اس ذبح سے نیت تقرب لغیراللہ کی ہو تو ذبیحہ حرام رہے گا اگرچہ اُس کے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو۔ وقدحرم اللّٰہ تعالیٰ في المائدۃ ما ذبح علی النصب بعد ذکرتحریم ما أھل لغیراللّٰہ بہ۔ نمبر۲ : صاحب درمختار اپنے زمانہ کے اکثر عوام کی نذر للاموات کو فساد عقیدہ پر مبنی سمجھتے ہیں اوراکثر لوگوں کو اس میں مبتلاء فرماتے ہیں اور جہل کا روز افزوں ہونا ظاہر ہے تو ہمارے زمانہ میں تو بدرجۂ اولیٰ اسی حالت کا ظنِ غالب ہے۔ نمبر۳ : اگر نذر للہ ہو اور بزرگ کا ذکر بیان مصرف کے لئے ہو وہ جائز ہے۔ نمبر۴ : اس نذر سے یہ تخصیص لازم نہیں ہوجاتی دوسرے مقام کے فقراء پر صرف کر دینا بھی جائز ہے۔ نمبر۵ : جو شیٔ منذور فقراء پر صرف نہیں کی جاتی اُس کی نذر بالکل باطل اور ناجائز ہے جیسے چراغ جلانا یا غلاف چڑھانا۔ ان احکام کی تحقیق کے بعد قابلِ غور یہ امر ہے کہ یہ نذر مذکور فی السوال آیا تقرب الی اللہ کے لئے ہے یاتقرب لغیراللہ کے لئے۔ اس کا فیصلہ نہایت آسانی سے اس طرح ہوسکتا ہے۔ کہ مسئلہ نمبر:۴؍ کو اس کا معیار قرار دیا جاوے یعنی ناذر کو یہ مشورہ دیا جائے کہ تم ان بزرگ کے خاد موں کے علاوہ دوسرے مساکین کو جن کا مزاریا صاحبِ مزار سے کوئی تعلق نہ ہو دیکر اُن بزرگ کو ثواب بخشدو۔ یا بجائے مرغ ذبح کرنے کے بازار سے گوشت خرید کر اُس کا کھانا پکالو اور اس سے زیادہ صاف امتحان یہ کہ یہ کہاجائے کہ اُن کو ثواب ہی مت بخشو۔ پھر یا تو اپنے اموات کو بخشدو یا کسی کو بھی مت بخشو اور خود بھی مت رکھو یا اُس کو تبرک نہ سمجھو کیونکہ اُس میں برکت ہوجانے کی کوئی دلیل نہیں اگر اس پر خوشی سے راضی ہوجائیں تو سمجھا جائے گا کہ خود اُن سے تقرب مقصود نہیں ان کا ذکر بیان مصرف کے لیے تھا جس میں مقامی اور غیر مقامی مساکین سب برابر ہیں اور اگر اس پر راضی نہ ہوں بلکہ اُن ہی تخصیصات پر اصرار ہو کہ ذبح بھی ہو اور ان ہی بزرگ کے تعلق والوں کو دیا جائے اور خود کھانے کو موجب برکت سمجھا جائے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان تخصیصات کے خلاف کرنے سے کسی مضرت کا اندیشہ ہو تو یہ سب علاما ت ہیں فساد عقیدہ کی، اس حالت میں یہ فعل مطلقاً ناجائز ہوگا جس میں مقتدیٰ وغیر مقتدیٰ سب برابر ہیں البتہ جواز کی کسی صورت میں اگر ابہام ہو تو اُس میں مقتدا کواحتیاط کا مشورہ دیا جاوے گا۔
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند(93/12) میں ہے:
سوال :غیراللہ کے لئے نذرکرنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب :غیر اللہ کے نام کی نذر بالاتفاق ناجائز ہے اور وہ نذر صحیح نہیں ہوتی جیسے کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ معصیت کی نذر صحیح نہیں ہے۔
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند(93,94/12) میں ہے:
سوال :غیر اللہ سے منت مانگنی یا ان کے نام کی نیاز ونذر کرنی اور اگر کام ہو جاوے تو اسکو پورا نہ کرنا عندالشرع کیسا ہے؟
الجواب :غیر اللہ کی نذر حرام ہے اور یہ گناہ کبیرہ ہے اور ایفاء ایسے نذر کا اور منت کا جائز نہیں ہے پس چاہیے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسے نذر لغیراللہ نہ کرے جیسا کہ ردالمحتار معروف بہ شامی میں باب الاعتکاف سے پہلے نذر لغیراللہ کی حرمت کو مفصلاً بیان کیا ہے۔ اورغیر اللہ کو حاجت روا سمجھنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور معصیت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved