- فتوی نمبر: 26-352
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
1۔ہم نے والد محترم مرحوم کی وراثت میں سے ایک مکان فروخت کیا ہے جس کی قیمت 1 کروڑ 34 لاکھ روپے ملی ہے،ان کے ورثاء میں ان کی بیوی ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں تو مذکورہ رقم میں سے ہر فرد کے حصے میں کتنی رقم آئے گی؟
2۔ ہماری والدہ محترمہ کی ملکیت میں ایک مکان ہے جس کی مالیت 1 کروڑ 35 لاکھ روپے ہےان کے بھی یہی ورثاء ہیں اور وہ خود بھی ابھی حیات ہیں تو اس مکان میں سے سب کو کتنا حصہ ملے گا؟
تنقیح:ہمارے والد صاحب کے والدین ان کی زندگی ہی میں وفات پا گئے تھے۔ اور ہماری والدہ اپنی زندگی ہی میں اپنی اولاد کو حصے دینا چاہتی ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ رقم میں سے 1675000 روپے مرحوم کی بیوی کو ، 2345000 روپے مرحوم کے ہر بیٹے کو اور 1172500 روپے مرحوم کی ہر بیٹی کو ملیں گے۔
2۔ مذکورہ مکان اگر والدہ اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہیں تو بہتر یہ ہے کہ اپنی ضرورت کے بقدر رکھ کر باقی مكان یا اس کی قیمت لڑکے لڑکیوں میں برابر تقسیم کر دیں۔اور اگر چاہیں تو لڑکی کو ایک اور لڑکے کو دو حصے بھی دے سکتی ہیں۔
در مختار مع رد المحتار (8/583) میں ہے:
’’لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب و كذا في العطيا إن لم يقصد به الإضرار و إن قصده يسوي بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني و عليه الفتوى
(قوله: و عليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف من أن التنصيف بين الذكر والانثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رحمه الله.‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved