• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نمازِ وتر میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائیں تو کیا حکم ہے؟

استفتاء

اگر وتر کی نماز میں رکوع میں جانے سے پہلے دعائے قنوت پڑھنا یاد نہ رہے تو کیا رکوع سے اٹھ کر  دعائے قنوت پڑھی جا سکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں رکوع میں یا رکوع سے اٹھ کر دعائے قنوت نہیں پڑھ سکتے البتہ دعائے قنوت رہ جانے کی وجہ سے سجدہ سہو کرنا ہوگا۔

النہر الفائق (1/293) میں ہے:

وقنت في ثالثته ‌قبل ‌الركوع ‌أبدا

(قبل الركوع) بيان لمحله من الثالثة فلو تذكره بعد الرفع منه لا يقنت كذا روي عن الإمام ولو فيه ففيه روايتان والأصح أنه لا يفعل ولو فعل ولو بعد الركوع لم يفسد كذا في (الخانية).

زاد في (الخلاصة) وعليه السهو قنت أو لم يقنت (أبدا) أي: دائما في جميع السنة بعد أن كبر رافعا يديه لما مر

البحر الرائق (2/70) میں ہے:

(قوله ‌وقنت ‌في ‌ثالثته قبل الركوع أبدا) لما أخرجه النسائي عن أبي بن كعب «أنه – عليه الصلاة والسلام – كان يقنت قبل الركوع» وما في حديث أنس من «أنه عليه السلام قنت بعد الركوع» فالمراد منه أن ذلك كان شهرا منه فقط بدليل ما في الصحيح عن عاصم الأحول سألت أنسا عن القنوت في الصلاة قال نعم قلت أكان قبل الركوع أو بعده قال قبله قلت فإن فلانا أخبرني عنك أنك قلت بعده قال كذب إنما «قنت رسول الله – صلى الله عليه وسلم – بعد الركوع شهرا» وظاهر الأحاديث يدل على القنوت في جميع السنة

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:461) میں ہے:

‌لو ‌تذكر ‌القنوت في الركوع فإنه لا يعود ولا يقنت فيه لفوات محله ولو عاد وقنت لم يرتفض ركوعه لأن القنوت لا يقع فرضا فلا يرتفض به الفرض ويسجد للسهو على كل حال ليترك الواجب أو تأخيره

فتاوی محمودیہ (7/417)  میں ہے:

سوال : رکوع میں یاد آیا کہ دعائے قنوت نہیں پڑھی تو اب کیا کرنا چاہیے؟

الجواب حامداومصلیا: اگر دعائے قنوت نہیں پڑھی اور رکوع میں پہنچ کر یاد آیا تو اب اس کو کھڑے ہو کر یا رکوع میں دعائے قنوت پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ نماز پوری کر کے سجدہ سہو کرے۔

فتاوی دارالعلوم دیوبند  (4/177) میں ہے:

سوال : بکر قنوتِ وتر کو بھول کر رکوع میں چلا گیا جب رکوع میں میں یاد آیا تو رکوع سے اٹھ کر دعائے قنوت پڑھ کر سجدہ سہو کر کے نماز ختم کی نماز ہوئی یا نہیں؟

جواب : بکر کو پھر رکوع سے اٹھ کر قنوت نہ پڑھنی چاہیے تھی لیکن اب جب کہ سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved