• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

امام کا محراب میں کھڑے ہونے کا حکم

استفتاء

امام کا محراب میں کھڑے ہوکر نماز پڑھانا کیسا ہے ؟مہربانی فرما کر حکم اور اس کی وجہ بیان فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

امام کا محراب میں کھڑے ہوکر اس طرح  نماز پڑھانا  کہ امام کے قدم بھی محراب کے اندر ہوں مکروہ تنزیہی ہے اور کراہت کی  دو وجہ ہیں:(1)اہل کتاب کے ساتھ مشابہت( 2) امام کی حالت کا مشتبہ ہونا۔ البتہ اگر جگہ کی تنگی وغیرہ کی وجہ سے قدم بھی محراب کے اندر ہوں   تو پھر کوئی کراہت نہیں۔

تنویر الابصار مع درالمختار(499,500/2) میں ہے:

(وقيام الامام في المحراب، لا سجوده فيه ) ‌وقدماه ‌خارجه لان العبرة للقدم (مطلقا) وإن لم يشتبه حال الامام إن علل بالتشبه وإن بالاشتباه ولا اشتباه، فلا اشتباه في نفي الكراهة… وهذا كله (عند عدم العذر)  كجمعة وعيد، فلو قاموا على الرفوف والامام على الارض أو في المحراب لضيق المكان، لم يكره،

شامی (500/2) میں ہے:

وقال ابن عابدين رحمه الله تعالى صرح محمد في الجامع الصغير بالكراهة ولم يفصل، فاختلف المشايخ في سببها، فقيل كونه يصير ممتازا عنهم في المكان لأن المحراب في معنى بيت آخر وذلك صنيع أهل الكتاب، واقتصر عليه في الهداية واختاره الإمام السرخسي وقال إنه الأوجه، وقيل اشتباه حاله على من في يمينه ويساره، فعلى الأول يكره مطلقا، وعلى الثاني لا يكره عند عدم الاشتباه، وأيد الثاني في الفتح بأن امتياز الإمام في المكان مطلوب، وتقدمه واجب وغايته اتفاق الملتين في ذلك، وارتضاه في الحلية وأيده، لكن نازعه في البحر… وفي حاشية البحر للرملي: الذي يظهر من كلامهم أنها كراهة تنزيه.

شرح مختصر الطحاوي للجصاص(8/ 517) میں ہے:

مسألة: [كراهية صلاة الإمام في المحراب الذي لا يرى منه]

قال أبو جعفر: (ويكره للإمام أن يكون مقامه في الصلاة في الطاق، ولا نرى بأسا أن يكون مقامه في المسجد، وسجوده في الطاق).

قال أحمد: يعنى بالطاق: المحراب إذا كان طاعنا في الحائط يمكن أن يغيب فيه الإمام ببدنه، حتى لا يبصره من على جنبتيه، وكذا كانت محاريب الكوفة قديما.

وقد روى كراهة ذلك عن بعض السلف.ووجه ذلك: أنه إذا كان مقامه في الطاق: لم يبصره من عن جانبيه فيقتدوا به.

وقد روى عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: “إنما جعل»الإمام ليؤتم به”.وقال: “ليلني منكم أولوا الأحلام والنهى”. وقال: “ائتموا بي، وليأتم بكم من بعدكم، ولا يزال قوم يتأخرون حتى يؤخرهم الله”.

فكل هذا يوجب الاقتداء بالإمام، والقرب منه، وفي مقامه في الطاق، ما يمنع أكثر أهل الصف من ذلك.

فإن قيل: فأهل الصف الثاني ومن بعده لا يرونه، وليس يكره للمأموم القيام في الصف الثاني.

قيل له: لأنه يرى بين يديه من يقتدي بالإمام فيتبعه، والذين عن جانبي الطاق بينهم الحائط، فلا يصلون إلى الاقتداء به. وأما إذا كان مقامه في المسجد، وسجوده في الطاق: فلا بأس ،لأنه قد حصل لهم ما ينبغى من معنى الاقتداء.

امدادالفتاویٰ (333,334/1) میں ہے:

سوال:  مسجد کے در میں امام کوکھڑا ہونا کیساہے دلیل سے بیان فرماویں ؟

الجواب : في الدرالمختار: مکروهات الصلوٰۃ، وقیام الإمام في المحراب لا سجوده فيه وقدماه خارجه لأن العبرة للقدم مطلقاً وإن لم یشتبه حال الإمام الخ۔ وفي ردالمحتار اقتصر عليه في الهداية واختاره الإمام السرخسی وقال إنه الأوجه الخ ج۱ص۶۷۵

امام کامسجد کے اندر در میں اس طرح کھڑا ہونا کہ پاؤں بھی اندر ہوں مکروہ ہے۔

احسن الفتاویٰ (310/3) میں ہے:

سوال :امام کے محراب کے اندر کھڑا ہونے سے نماز مکروہ ہوگی یا نہیں؟

الجواب: امام پاؤں محراب سے باہر رکھے بلا عذرمحراب میں پاؤں رکھنا مکروہ تنزیہی ہے،وجہ کراہت میں دو قول ہیں:

(1) محراب میں کھڑا ہونے سے دونوں طرف کے مقتدیوں پر امام کی حالت مشتبہ رہتی ہے،

اس بناء پر اشتباہ نہ ہونے کی صورت میں کوئی کراہت نہیں، وهو مختار ابن همام وصاحب الحلية رحمهما الله تعالى.

(2) اہل کتاب سے تشبہ، اس بنا پر جانبین میں مقتدیوں کے لیے کوئی اشتباہ نہ ہونے کے باوجود بھی امام کا محراب میں قیام مکروہ تنزیہی ہے، وهو قول الأكثر البتہ جگہ کی تنگی وغیرہ کسی عذر سے ہو تو بالاتفاق کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں۔

کفایت المفتی (142/3) میں ہے:

 الجواب :…امام کا محراب کے اندر کھڑا ہونا مکروہ ہے اور کراہت کی وجہ یا تشبہ بالیہود یا اختفاء حال امام ہے ۔

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (234/3) میں ہے:

سوال : ایک مسجد کا دراور ستون ایسا ہے کہ امام اگر ان دونوں جگہوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھا وے تو مقتدی بخوبی اپنے امام کو دیکھ سکتے ہیں تو ایسی دونوں جگہوں میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ آیا مکروہ تنزیہی ہے یا تحریمی؟

(الجواب ) قال الشامی والاصح ماروی عن ابی حنيفة انه قال اکره ان یقوم بین السایتین الخ

اس سے معلوم ہو کہ امام کو دریا محراب میں اس طرح سے کھڑا ہونا کہ قدم بھی باہر نہ ہوں مکروہ ہے اور وہ مراد مکروہ سے کراہت تنزیہی ہے ۔ اس کا حاصل خلاف اولیٰ ہے ۔

مسائل بہشتی زیور (207/1) میں ہے:

مسئلہ:امام کا محراب میں کھڑا ہونا مکروہ تنزیہی ہے ہاں اگر محراب سے باہر کھڑا ہو مگر سجدہ محراب میں ہوتا ہو تو مکروہ نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved