- فتوی نمبر: 36-22
- تاریخ: 05 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > عشر و خراج کا بیان
استفتاء
میں نے زمین ٹھیکے پر لے رکھی ہے، فی ایکڑ ٹھیکہ 140000روپےہے اور کچھ زمین کا ٹھیکہ فی ایکٹر 100000روپے ہے فی ایکڑ سالانہ پیدا وار ہر چھ ماہ بعد گندم اور چاول تقریباً 40،40من ہوتی ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ ٹھیکہ کی قیمت منہا کر کے باقی ماندہ پیداوار میں سے عشر نکالنا ہے یا ٹھیکہ منہا کیے بغیر کل پیداوار پر عشر ہے ؟
ہمارے گاؤں میں لوگ ٹھیکہ کی رقم نکال کر باقی ماندہ پر عشر نکال رہے ہیں ہمارے امام صاحب نے بعینہٖ آپ جیسا جواب دیا کہ ٹھیکہ کی رقم نکالے بغیر کل پیداوار پر عشر ہے لیکن نہیں مان رہے کہہ رہے ہیں فتویٰ دکھاؤ پھر مانیں گے ۔
آپ سے التماسِ ہے کہ تحریر شدہ فتویٰ بھیج دیں تاکہ مسئلہ حل ہو جائے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ٹھیکہ کی قیمت منہا کیے بغیر کل پیداوار پر عشر ہے۔
شامی (3/317) میں ہے:
(قوله: بلا رفع مؤن) أي يجب العشر في الأول ونصفه في الثاني بلا رفع أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ ونحو ذلك درر قال في الفتح يعني لا يقال بعدم وجوب العشر في قدر الخارج الذي بمقابلة المؤنة بل يجب العشر في الكل؛ لأنه – عليه الصلاة والسلام – حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة ولو رفعت المؤنة كان الواجب واحدا وهو العشر دائما في الباقي؛ لأنه لم ينزل إلى نصفه إلا للمؤنة والباقي بعد رفع المؤنة لا مؤنة فيه فكان الواجب دائما العشر لكن الواجب قد تفاوت شرعا فعلمنا أنه لم يعتبر شرعا عدم عشر بعض الخارج وهو القدر المساوي للمؤنة أصلا
ہدایہ (1/321) میں ہے:
قال: ” وكل شيء أخرجته الأرض مما فيه العشر لا يحتسب فيه أجر العمال ونفقة البقر “لأن النبي عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها.
المبسوط للسرخسی (3/5) میں ہے:
(قال): رجل استأجر أرضا من أرض العشر وزرعها قال عشر ما خرج منها على رب الأرض بالغا ما بلغ سواء كان أقل من الأجر، أو أكثر في قول أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى العشر في الخارج على المستأجر
فتاویٰ مفتی محمود (3/271) میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
(۱) زید نے کچھ زمین بکر سے ٹھیکہ (اجرت) پر لی مثلاً فی ایکڑ ۸۰ اسی روپیہ یا چھ من گندم یا ایسی کوئی اور جنس غلہ اجرت مقرر ہوئی کیا عشر ٹھیکہ (اجرت) ادا کرنے کے بعد نکالا جائے یا قبل۔
(۲) کیا محکمہ مال کا معاملہ (لگان) جملہ پیداوار سے وضع کر کے باقی غلہ سے عشر ادا کرنا چاہیے یا قبل۔
(۳) اگر زمیندار کا کاشتکاری کے لیےمزدوروں کو زمین پر لگائے مثلاً مستقل تنخواہ خوار ہوں۔ یا ترکھان لوہار یا زمین کو آباد اور درست (ہموار) کرنے کے لیے مزارع لگائے تو کیا ان مزدوروں کی اجرت نکالنے کے بعد عشر دیا جاوے یا قبل؟ نیز کاشتکاری کے دیگر متفرق اخراجات مثلا گہائی اور غلہ کی صفائی یا فصل کی کٹائی اور فصل کی حفاظت کی اجرت وضع کرنے کا حکم بیان فرمادیں۔
الجواب: ابتداءً جتنی پیداوار ہو۔ کل پیداوار میں بلا وضع مصارف عشر واجب ہے۔ سرکاری ٹیکس یا دیگر متفرق اخراجات کر کے باقی سے نہیں۔
قال فی شرح التنویر: بلا رفع مؤن أی کلف الزرع بلا اخراج البذر لتصریحهم بالعشر فی کل الخارج (ج 2/ص 56)
یہ تینوں سوالوں کا جواب ہے۔
امداد المفتین جامع (5/388) میں ہے:
سوال : 1- بعض دفعہ فصل پر اخراجات کا اندازہ وصول شدہ غلے سے زائد ہوتا ہے، اور اسی طرح ٹھیکا لینے والوں کی واجب الادا رقم سے کم قیمت کا غلہ حاصل ہوتا ہے، ایسی صورت میں عشر کا کیا حکم ہے؟
۲۔ نیز کیا اخراجات فصل مثلا نوکر کا مقرر شدہ غلہ، یا تنخواہ، اور ٹھیکے والی زمین کی واجب الادا رقم ، نکال کر عشر ادا کیا جائے؟
جواب : 1- عشر کل پیداوار پر ہے اخراجات نکالنے سے پہلے عشر ادا کیا جائے ، اگر اخراجات
پیداوار کے برابر ہوں یا بڑھ جائیں اس کا کوئی اثر عشر پر نہیں ہوگا۔
قال في الدر المختار : بلا رفع مؤن أى كلف الزرع وبلا إخراج البذر لتصريحهم بالعشر في كل الخارج
۲۔ نہیں، جیسا کہ او پر مفصل مذکور ہے۔
امداد المفتین جامع (5/389) میں ہے:
سوال : مصارف ایک کٹائی ، گہائی ، اڑائی، نہلائی، بیچ ، ولایتی کھاد ، ٹریکٹر کا خرچ، لوہار بڑھئی کا خرچ، نوکر جو زمیندار رکھتے ہیں اور سال گزرنے پر گندم سے مزدوری دیتے ہیں عرض مالیہ (حریف ربیع) زمین کے ٹھیکے کی رقم مندرجہ بالا میں سے کن کن کو پیداوار میں سے کاٹ کر بقیہ کا عشر دیا جائے گا؟
جواب :ان میں سے کوئی رقم پیداوار (سے)کاٹ کر عشر نہیں دیا جائے گا بلکہ مجموعہ پیداوار میں سے عشر ادا کرنا واجب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved