• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حقیقی بھائی، بہن، ایک رضاعی بہن اور بھانجے، بھتیجوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

میرے ایک ماموں فوت ہوئے ہیں ان کی بیوی اور ان کے والدین ان سے پہلے ہی فوت ہو چکے ہیں اور ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔اب ان کے ورثاء میں دو حقیقی  بھائی، دو حقیقی  بہنیں،  ایک رضاعی بہن،  دو بھانجے اور پانچ بھتیجے زندہ ہیں۔انکی جائیداد اور مال کی وراثت کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرما دیجئے۔

وضاحت مطلوب: مرحوم کے بھائی یا بہن  میں سے کوئی فوت  ہوا ہے؟

جواب : نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کی کل جائیداد کے 6 حصے کیے جائیں گے جن میں سے دو، دو  حصے(33.33 فیصد  فی کس) ہر ایک بھائی کو اور ایک ، ایک   حصہ ( 16.66 فیصد  فی کس) مرحوم کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔

نوٹ: رضاعی بہن  تو شرعاً وارث  بنتی ہی نہیں اور بھتیجے ، بھانجے اگرچہ بعض صورتوں میں وارث بنتے ہیں تاہم مرحوم کے بھائیوں کے ہوتے ہوئے شرعاً وراثت سے محروم ہوتے ہیں۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

6

2 بھائی2 بہنیں2 بھانجے5 بھتیجے
2+21+1محروممحروم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved