- فتوی نمبر: 36-62
- تاریخ: 16 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > احرام کا بیان
استفتاء
احرام کی حالت میں اگر کسی شخص کو گھٹنوں کےدرد کی وجہ سے Knee Cap (سوجن یا درد کی صورت میں گھٹنے پر پہننے والی کیپ یا پیڈ)پہننے کی ضرورت پیش آئے، یا Neck Brace / Cervical Collar(گردن پر چوٹ یا درد کی صورت میں پہنے جانے والا کالر)استعمال کرنا پڑے، نیز پیشاب وغیرہ کی مجبوری کی وجہ سے Pamper استعمال کرنا پڑے، تو کیا ان چیزوں کا استعمال جائز ہے؟ اور کیا ان کے استعمال کی صورت میں دم لازم ہوگا یا نہیں؟
مزید یہ کہ مذکورہ اشیاء کی دو دو قسمیں پائی جاتی ہیں:
1۔ Knee Cap کی ایک قسم جراب نما ہوتی ہے جو گھٹنے میں چڑھائی جاتی ہے، جبکہ دوسری قسم پٹی کی طرح ہوتی ہے جسے گھٹنے پر رکھ کر اطراف میں موجود چپ/Velcro کے ذریعے باندھا جاتا ہے۔
2۔ Pamper کی ایک قسم کھلی ہوتی ہے جس کے اطراف میں Tape لگی ہوتی ہے، جبکہ دوسری قسم انڈرویئر کی طرح پہنی جاتی ہے۔
3۔ Neck Brace / Cervical Collar کی ایک قسم سخت (Hard/Rigid) ہوتی ہے جو گردن کے سائز کے مطابق بنی ہوتی ہے اور اسے گردن پر رکھ کر بند کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری قسم نرم فوم (Soft Foam Collar) کی ہوتی ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ چیزیں پٹی یا لنگوٹ کی طرح ہیں؟ یعنی جیسے پٹی یا لنگوٹ کو احرام کی حالت میں پہنا جاسکتا ہے آیا یہ چیزیں بھی احرام کی حالت میں پہنی جاسکتی ہیں یا احرام کے احکام کے اعتبار سے ان چیزوں میں اور پٹی اور لنگوٹ میں فرق ہے؟ نیز ان چیزوں کی مختلف صورتوں میں کوئی فرق ہے یا سب کا حکم ایک ہے؟ اگر فرق ہے تو ہر ایک کا الگ الگ کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ چیزیں پٹی یا لنگوٹ کی طرح نہیں ہیں کیونکہ مذکورہ چیزیں بدن کے اعضاء کی ساخت اور ہیئت پر بنی ہوئی ہوتی ہیں اور ایسی چیز کو احرام کی حالت میں پہننا جائز نہیں جو پورے بدن یا بدن کے کسی حصے کی ساخت اور ہیئت پر بنی ہو اس لیے مذکورہ چیزیں بغیر عذر کے احرام کی حالت میں نہیں پہنی جاسکتیں۔ البتہ حالت عذر میں مذکورہ چیزیں پہنی جا سکتی ہیں لہٰذا اگر:
1۔12 گھنٹے یا زائد مدت تک پہنی جائیں تو اختیار ہے چاہے تو دم دے دے یا تین صاع (ساڑھے 10 کلو گندم) یا اس کی قیمت صدقہ کر دے یا تین روزے رکھے۔
2۔اور اگر ایک گھنٹے سے زیادہ اور 12 گھنٹے سے کم پہنی جائیں تو صدقہ اور روزے میں اختیار ہے چاہے تو نصف صاع (پونے دو کلو گندم) یا اس کی قیمت صدقہ کرے اور چاہے تو ایک روزہ رکھ لے۔
3۔ اور اگر ایک گھنٹے سے بھی کم پہنی جائیں تو گندم کی ایک مٹھی صدقہ کی جائے۔
توجیہ: یہ چیزیں بدن کے اعضاء کی ساخت اور ہیئت پر بنی ہوئی ہوتی ہیں اور ہر وہ چیز جو بدن کی ہیئت پر بنائی گئی ہو اسے پہننے کی صورت میں جزاء لازم آئے گی چاہے عذر کی حالت میں پہنے یا بغیر عذر کے پہنے، البتہ عذر کی حالت میں پہننے سے گناہ نہیں ہوگا۔ نیز 12 گھنٹے یا زائد مدت تک پہننے کی صورت میں دم دینے میں یا تین صاع گندم صدقہ کرنے میں یا تین روزے رکھنے میں اختیار ہوگا اور 12 گھنٹے سے کم اور ایک گھنٹے سے زیادہ پہننے کی صورت میں نصف صاع گندم صدقہ کرنے میں اور ایک روزہ رکھنے میں اختیا رہوگا۔
شامی (3/571) میں ہے:
(ولبس قميص وسراويل) أي كل معمول على قدر بدن أو بعضه كزردية وبرنس.
(قوله أي كل معمول إلخ) أشار به إلى أن المراد المنع عن لبس المخيط ……… وفي البحر عن مناسك ابن أمير حاج الحلبي أن ضابطه لبس كل شيء معمول على قدر البدن أو بعضه بحيث يحيط به بخياطة أو تلزيق بعضه ببعض أو غيرهما ويستمسك عليه بنفس لبس مثله.
وفيه أيضا: الواجب دم على محرم بالغ …. أو لبس مخيطا …. يوما كاملا أو ليلة كاملة وفى الأقل صدقة
غنیۃ الناسک (ص:391) میں ہے:
إذا لبس المحرم الذكر المخيط وهو الملبوس المعمول على قدر البدن أو على قدر عضو منه بحيث يحيط به سواء بخياطة أو نسج أو لصق أو غير ذلك لبسا معتادا …. فعليه الجزاء …. فاذا لبس مخيطا يوما كاملا أو ليلة كاملة فدم
المناسک لملا علی قاریؒ (ص: 298) میں ہے:
المحرم اذا جنى عمدا بلا عذر يجب عليه الجزاء والإثم وإن جنى بغير عمد أو بعذر فعليه الجزاء دون الإثم.
غنیۃ الناسک (ص:375) میں ہے:
على التخيير بين الصوم والصدقة والدم إذا ارتكب المحظور كاملا بعذر أو على التخيير بين الصوم والصدقة إذا ارتكب المحظور ناقصا بعذر
وفيه أيضا: فإذا لبس المخيط يوما كاملا أو ليلة كاملة فدم … وفى أقل من يوم وليلة صدقة …. وفى أقل من ساعة قبضة من بر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved