• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

والد، بیوہ ، پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

ہمارے والد صاحب (زید  صاحب) کا انتقال ہوا تو ان کے ورثاء میں والد ، ایک بیوہ، پانچ بیٹے (خالد ، عمر، بکر ،سمیع ،  ضیاء) اور دو بیٹیاں (فاطمہ ، عائشہ ) تھیں۔

زید  صاحب کے ترکہ میں ایک زمین 62 کنال 10 مرلہ تھی، اس زمین میں قاری صاحب مرحوم کے ورثاء کا کتنا کتنا حصہ بنتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں میت کے کل ترکہ کے 288 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 48 حصے (16.666 فیصد) والد کو، 36 حصے (12.5 فیصد) بیوی کو، 34 حصے (11.805 فیصد فی کس) پانچ بیٹوں میں سے ہر بیٹے  کو اور  17 حصے (5.902 فیصد فی کس) ہر بیٹی کو ملیں گے۔

اس حساب سے 62 کنال 10 مرلہ میں سے 208.33 مرلے والد کو، 156.25 مرلے  بیوی کو ، 147.56 مرلے ہر بیٹے کو اور 73.78  مرلے  ہر بیٹی کو ملیں گے۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

24×12=288

والدبیوی5 بیٹے2 بیٹیاں
6/18/1عصبہ
4317
4×123×1217×12
4836204
483634+34+34+34+3417+17

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved