• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جہری نماز کی قضا جماعت سے ادا کرنے کی صورت میں قراءت کا حکم

استفتاء

اگر جہری نماز قضا  ہوجائے اس کی قضا دن کے وقت جماعت کے ساتھ ہو تو قراءت جہراً ہوگی یا سراً یا  بالعکس سری نماز رات کے وقت قضا کی جائے تو اس کی قراءت کیسے ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جہری نماز کی قضا دن کو جماعت کے ساتھ کریں گے تو قراءت جہراً ہوگی اور سری نماز کی رات کو جماعت کے ساتھ قضا کریں گے تو اس میں سراً قراءت ہوگی۔

ہندیہ (1/121)میں ہے:

‌ومتى ‌قضى ‌الفوائت إن قضاها بجماعة فإن كانت صلاة يجهر فيها يجهر فيها الإمام بالقراءة وإن قضاها وحده يتخير بين الجهر والمخافتة والجهر أفضل كما في الوقت ويخافت فيما يخافت فيه حتما وكذا الإمام، كذا في الظهيرية.

وفيه أيضا: إذا ترك صلاة الليل ناسيا فقضاها في النهار وأم فيها وخافت كان عليه السهو ‌وإن ‌أم ‌ليلا في صلاة النهار يخافت ولا يجهر فإن جهر ساهيا كان عليه السهو

شامی (1/532) میں ہے:

فصل (‌ويجهر ‌الإمام) وجوبا بحسب الجماعة ……… (في الفجر وأولى العشاءين أداء وقضاء وجمعة وعيدين وتراويح ووتر بعدها) أي في رمضان فقط

دررالحکام (1/81)  میں ہے:

المنفرد (‌إن ‌قضى الجهرية كمتنفل بالنهار) في الهداية من فاتته العشاء فقضاها بعد طلوع الشمس إن أم فيها جهر، وإن كان وحده خافت حتما ولا يتخير وهو الصحيح؛ لأن الجهر مختص إما بالجماعة حتما أو بالوقت في حق المنفرد على وجه التخيير ولم يوجد أحدهما

مسائل بہشتی زیور (1/225) میں ہے:

اگر چند لوگوں کی نماز  کسی وقت قضا ہوگئی ہو تو ان کو چاہیے کہ نماز کو جماعت سے ادا کریں۔ اگر بلند آواز کی  نماز ہو تو بلند آواز سے قراءت کرے اور آہستہ آواز کی ہو تو آہستہ آواز سے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved